تلنگانہ کی خبریں

غیر مجاز تعمیرات کے درمیان غیر منظورہ مسجد نشانہ

شمس آباد میں محکمہ مال ‘ بلدیہ اور پولیس کی نگرانی میں رات دیر گئے انہدامی کارروائی ۔ علاقہ کی برقی منقطع اور مسلم مکانات مقفل کرکے مسجد کو شہید کردیا گیا

حیدرآباد۔2۔اگسٹ:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) شہر کے نواحی علاقہ شمس آباد میں غیر قانونی وینچر و غیر مجاز تعمیرات و مکانات کے درمیان تعمیر مسجد کو پولیس کی نگرانی میں محکمہ مال و بلدیہ عہدیداروں بلڈوزر چلاکر شہید کردیا۔ شمس آباد میں موجود مسجد خواجہ محمود کو محکمہ مال کی ہدایت پر رات دیر گئے پولیس کی نگرانی میں علاقہ کی برقی منقطع کرکے ‘ مقامی مسلمانوں کے مکانات کو باہر سے مقفل کر کے شہید کردیا گیا ۔ صبح کی اولین ساعتوں میں مسجد کے شہید کئے جانے کی اطلاع کے ساتھ مقامی مسلمانوں میں شدید برہمی پیدا ہوگئی اور عوام کے علاوہ سیاسی قائدین نے شہید مسجد پہنچ کرشدید احتجاج کیا اور مسجد کی دوبارہ اسی مقام پر تعمیرکا مطالبہ کیا ۔

شمس آباد گرین ایوینیو کالونی میں مسجد خواجہ محمودکے متعلق مقامی مکینوں نے بتایا کہ اس مسجد میں گذشتہ دیڑھ سال سے نماز پنجگانہ ادا کی جا رہی تھی اور مسجد کے قریب مقیم وشال سنگھ نے مسجد کی تعمیر پر تنازعہ کرکے مختلف محکمہ جات میں شکایت کی اور پارک کی اراضی پر مسجد تعمیر کئے جانے پر روک لگانے کا مطالبہ شروع کیا اور چند ماہ سے معاملہ شدت اختیار کرتا جار ہا تھا۔ مقامی مسلمانوں نے اس پر وزیر داخلہ سے ملاقات کرکے میونسپل حکام کی جانب سے سابق میں مسجد کی دیوار کو منہدم کرنے سے واقف کروایا تھا جس پر وزیر داخلہ نے انہیں تیقن دیا تھا دوبارہ اس مسجد کے متعلق کوئی کارروائی نہیں ہوگی لیکن گذشتہ شب میونسپل کمشنر شمس آباد میونسپلٹی صابر علی کی نگرانی میں مسجد کو شہید کردیا گیا۔

مسجد کے انہدام کی کارروائی سے قبل علاقہ کی برقی منقطع کردی گئی تھی اور مسلم مکینوں کے مکانات کو باہر سے مقفل کردیا گیا تھا جس کی وجہ سے کارروائی کے دوران مسلمانوں کی جانب سے کوئی احتجاج یا رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی جاسکی۔ عہدیداروں نے بتایا کہ مسجد کی غیر مجاز تعمیر کے سلسلہ میں وشال سنگھ اور دیگر کی شکایات کے بعد قانون کے مطابق بلدی عہدیداروں نے محکمہ مال سے احکامات کے مطابق یہ کارروائی انجام دی ہے۔ احتجاجی مظاہرین نے بتایا کہ ابتداء میں مسجد کو پارک کی زمین پر تعمیر کئے جانے کی شکایت کی گئی اور یہ کہا گیا تھا کہ مذکورہ عمارت جی او 111 کے امتناعی حدود میں ہے اسی لئے اس کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے لیکن اب جبکہ حکومت کی جانب سے جی او 111 کو منسوخ کردیا گیا تو ان امتناعی احکام کی خلاف ورزی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

Join Urdu Duniya WhatsApp Group

https://chat.whatsapp.com/Lrpjr9RhuG32cWvQhhCHzX

https://play.google.com/store/apps/details?id=com.urdu.urduduniya

سابق میں بلدی عہدیدارو ںکی جانب سے مسجد کی دیوار منہدم کرنے کے بعد مسلمانوں نے مسجد کے مسئلہ کو وزیر داخلہ اور وقف بورڈ سے رجوع کیا تھا لیکن کسی بھی طرح کی کارروائی نہیں کی گئی۔صدرنشین وقف بورڈ جناب محمد مسیح اللہ خان نے مسجد کو شہید کئے جانے کی اطلاع ملتے ہی متعلقہ پولیس اور بلدی عہدیداروں سے تفصیلات حاصل کی اور اس کارروائی پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ بلدی عہدیداروں کی کاروائی سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں اور وقف بورڈ اس معاملہ کی مکمل تحقیقات کریگا۔انہوں نے بتایا کہ مسجد درج اوقاف نہ ہونے کے علاوہ مسجد کے متعلق کوئی ریکارڈ بورڈ کے پاس نہیں ہے لیکن مسلمان اس جگہ پر نماز پنجگانہ ادا کر رہے تھے اسی لئے وقف بورڈ اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں کوئی کوتاہی نہیں کریگا۔

انہو ں نے وقف بورڈ عہدیدار اور ویجلنس ذمہ داروں کو ہدایت دی کہ وہ فوری جائے واقعہ کا دورہ کرکے مکمل تفصیلات پیش کریں ۔جناب محمد مسیح اللہ خان نے بتایا کہ ابتدائی معلومات جو موصول ہوئی ہیں ان کی بنیاد پر عہدیداروں کو ہدایت دی گئی کہ وہ مسجد کے انہدام کے معاملہ میں ممکنہ قانونی کارروائی کو یقینی بنائیں۔صبح اولین ساعتوں میں 3بجکر 30 منٹ پر اس کارروائی پر بتایا گیا کہ زائد از25 گاڑی پولیس کی نگرانی میں بلدیہ نے بلڈوزر چلاکر مسجد کو مکمل ملبہ میں تبدیل کردیا ۔بلدی عہدیداروں نے توثیق کی کہ مسجد کی تعمیر کیلئے کوئی پیشگی اجازت یا منظوری حاصل نہیں کی گئی تھی اور نہ ہی اس سلسلہ میں عہدیداروں کو واقف کروایا گیا تھا۔

صبح کی اولین ساعتوں میں ترجمان مجلس بچاؤ تحریک جناب امجد اللہ خان خالد نے مسجد کا دورہ کیا تفصیلات سے آگہی حاصل کی بعد ازاں جناب مشتاق ملک تحریک مسلم شبان‘ کانگریسی قائدین عثمان محمد خان ‘ راشد خان‘ مجلسی قائدین محمد مبین کارپوریٹر شاستری پورم‘ مرزارحمت بیگ کے علاوہ دیگر نے پہنچ کر احتجاج کیا ۔احتجاج کے دوران پولیس نے سینکڑوں افراد کو حراست میں لے کر پولیس اسٹیشن منتقل کیا ۔احتجاجیوں نے شہید مسجد کے ملبہ کے قریب نماز ظہر اد ا کی اور انہدامی کاروائی میں ملوث عہدیداروں کے خلاف قانونی کارروائی ‘ مذہبی جذبات کو مجروح کرنے مقدمات درج کرنے کا مطالبہ کیا ۔ احتجاجی قائدین نے انہدامی کارروائی میں ملوث عہدیداروں اور حکومت سے استفسار کیا کہ غیر مجاز تعمیر کے نام پر انہیں مسجد ہی کیوں نظرآئی ہے اور کیوں مساجد کو نشانہ بنایا جارہا ہے!

متعلقہ خبریں

Back to top button