یکساں سول کوڈ کسی ذات اور مذہب کیخلاف نہیں، عارف محمد خان کا دعویٰ
سر سید نے جس عہد میں عصری علوم کو حاصل کرنے کی بات کہی تھی اس زمانے میں ان کیخلاف 68 فتوی لائے گئے
بھوپال، 8اگست :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) اے ایم یو اولڈ بوائز ایسو سی ایشن بھوپال ایم پی چیپٹر کے زیر اہتمام راجدھانی بھوپال میں سر سید کی تعلیمی تحریک کی عصری معنویت کے عنوان سے منعقدہ پروگرام میں کیرالہ کے گورنر عارف محمد خان نے یونیفارم سول کوڈ کے تناظر میں بڑا بیان دے ڈالا ہے۔عارف محمد خان کا کہنا ہے کہ یونیفارم سول کوڈ کسی مذہب، مسلک یا طبقے کے خلاف نہیں ہے بلکہ اس کا مقصد خواتین کو با اختیار بنانا ہے۔ واضح رہے کہ عارف محمد خان علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی تعلیم و تربیت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ہوئی ہے۔ بھوپال میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اولڈ بوائزایسو سی ایشن کے زیر اہتمام بھوپال میں جب سر سید کی تعلیمی تحریک کی عصری معنویت کے عنوان پر پروگرام کا خاکہ طے کیاگیا تو ایسو سی ایشن کے اراکین نے کیرالہ کے گورنر عارف محمد خان سے بات کی اور انہوں نے بخوشی پروگرام میں بطور مہمان خصوصی شرکت کرنا قبول کیا۔
چھتیس گڑھ کے سابق ڈی جی پی اور اے ایم یو اولڈ بوائز ایسو سی ایشن بھوپال کے فعال رکن ایم ڈبلیو انصاری نے پروگرام کے اغراض و مقاصد اور گورنر عارف محمد خان کی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی طالب علمی کے زمانے سے اب تک کی کارکردگی پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ ‘
حالانکہ گورنر عارف محمد خان یہ کہتے رہے کہ میں اپنوں کے بیچ آیا ہوں اور اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے،لیکن ایم ڈبلیو انصاری نے گورنر عارف محمد خان کی حیات و خدمات پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور سر سید کی تعلیمی تحریک کا ذکر کیا۔عارف محمد خان نے کہا سر سید کا ہاتھ وقت کی نبض پر تھا اور انہوں نے وقت کی ضرورت کو سمجھتے ہوئے جو قدم اٹھایا تھا اس کا فیضان ہمیں ہر جگہ نظر آتا ہے۔ہمیں بھی وقت کی ضرورت کو دیکھتے ہوئے خود کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا چاہئے اور ملک و قوم کی ترقی کے لئے اپنی بہترین خدمات پیش کرنا چاہئے۔کیرالہ گورنر عارف محمد خان نے مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ کا ذکر کرتے ہوئے سرسید احمد خان کی تعلیمی تحریک کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے سر سید کے افکار اور ان کی تعلیمی تحریک پر از سر نو کام کرنے پر زور دیا۔
عارف محمد خان نے قران کی روشنی میں تعلیم کی اہمیت و فضیلت پر روشنی ڈالتے کہا کہ سر سید نے جس عہد میں عصری علوم کو حاصل کرنے کی بات کہی تھی اس زمانے میں ان کیخلاف 68 فتوی لائے گئے تھے۔ سر سید اور ان کے خاندان کے لوگ تو ان اداروں میں نہیں گئے جہاں سے فتوے جارے کئے جارہے تھے ،لیکن فتوی دینے والے اداروں اور اس تحریک کے علمبردار کے بچے سر سید کے قائم کردہ ادارے سے ہی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ خیال رہے کہ عارف محمد خان قرآن کریم کی مزعومہ تفاسیراور تشریحات کے باب میںمتنازعہ حیثیت کے مالک رہے ہیں۔



