قومی خبریں

بہار -بنگال کے کچھ اضلاع کو ملا کر یونین ٹریٹری کے مبینہ قیام پر مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی وضاحت

نئی دہلی ،24ستمبر(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)کیا بہار کے سیمانچل علاقے اور مغربی بنگال کے کچھ سرحدی اضلاع کو ملا کر ایک مرکز کے زیر انتظام علاقہ یونین ٹیریٹری بنانے کا منصوبہ ہے؟ حال ہی میں یہ بہار کے سیاسی سماجی حلقوں سے عام لوگوں میں بحث کا موضوع بن گیا تھا۔ خاص طور پر اس بحث نے اس وقت مزید زور پکڑا جب بہار میں عظیم اتحاد کی حکومت کے قیام کے بعد وزیر داخلہ نے پورنیہ اور کشن گنج اضلاع کے دورے کا منصوبہ بنایا۔ اس دوران یہ بحث زور پکڑتی رہی ہے۔ اب جب کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ بہار پہنچے تو اپنے دورے کے دوسرے دن ہفتہ کو کشن گنج میں ایک غیر رسمی بات چیت میں صحافیوں نے ان سے سوال پوچھا کہ کیا مرکزی حکومت اس طرح کے منصوبے کو لے کر سنجیدہ ہے؟ اس پر امت شاہ نے فوراً جواب دیا اور صورتحال واضح کی۔

امیت شاہ نے کشن گنج میں میڈیا اہلکار وں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ سیمانچل کے اضلاع کو یونین ٹیریٹری (یونین ٹیریٹری) نہیں بنایا جائے گا۔ یہ بہار کا حصہ ہے اور بہار میں ہی رہے گا۔ ہر ایک کی حفاظت کی جائے گی اور علاقے میں رہنے والے لوگوں کو کسی بھی طرح سے غیر محفوظ محسوس کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ سرحدی علاقے کی سکیورٹی اہم ہے، اس لیے ہم اس علاقے کے سکیورٹی انتظامات کے حوالے سے کام کر رہے ہیں۔ سب سے پہلے پٹنہ کے ایک اخبار نے یہ اطلاع دی تھی کہ مغربی بنگال اور بہار کے کچھ اضلاع کے 20 اسمبلی حلقوں کو ملا کر ایک مرکز کے زیر انتظام علاقہ بنایا جائے گا۔

اس کے بعد سے عام و خاص میںاس پر بحث ہونے لگی ۔تاہم بی جے پی لیڈر شاہنواز حسین نے اس کو پہلے ہی مسترد کر دیا تھا۔ لیکن بہار کے باشندوں میں یہ بحث بلا روک ٹوک جاری رہی۔ تاہم امت شاہ کی وضاحت سے مطلع صاف ہوگیا ۔

امت شاہ کا سہ روزہ دورۂ جموں و کشمیر 30 کو متوقع

نئی دہلی ،24ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ 30 ستمبر سے جموں و کشمیر کے تین روزہ دورے پر جا ئیں گے۔ وہاں وہ دو جلسوں سے خطاب کریں گے اور توقع ہے کہ وہ جاری ترقیاتی منصوبوں کا بھی جائزہ لیں گے۔جموں و کشمیر بی جے پی کے انچارج سنیل شرما کے مطابق امیت شاہ اپنے تین روزہ دورے کے دوران زیادہ تر وقت کشمیر میں گزاریں گے۔ اس دوران وہ یکم اور 2 اکتوبر کو راجوڑی اور بارہمولہ میں ریلیاں کرنے کا بھی ارادہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے دورے کا آئندہ انتخابات سے کوئی تعلق نہیں۔سنیل شرما نے کہا کہ جموں و کشمیر کے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں پہلے دسمبر میں انتخابات ہونے کی امید تھی، لیکن اب اپریل 2023 میں انتخابات کا امکان ہے۔ تاہم قیاس آرائیوں کے برعکس حتمی فیصلہ الیکشن کمیشن کو ہی کرنا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button