بین الاقوامی خبریں

امریکہ: خواتین کے اسقاطِ حمل تک رسائی کے آئینی حق کے خلاف کوششیں تیز

واشنگٹن ،22جون :(اردودنیا/ایجنسیاں)امریکہ میں پانچ دہائیوں کے بعد خواتین کے ابورشن یعنی اسقاطِ حمل تک رسائی کے آئینی حق کے خلاف کوششیں تیز ہو گئی ہیں۔ رواں برس مختلف امریکی ریاستوں میں اب تک 500 سے زائد اسقاطِ حمل سے متعلق پابندیاں سخت کرنے کے قوانین متعارف کرائے گئے ہیں۔ملک کی عدالت عظمیٰ نے بھی یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ ریاست مسیسیپی میں اسقاط حمل پر پابندیاں سخت کرنے کا مطالبہ کرنے والے کیس کی سماعت رواں برس اکتوبر میں کرے گی۔

ریاست مسیسیپی میں اسقاطِ حمل سے متعلق اس کیس میں مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ 15 ہفتوں کے بعد تقریباً ہر قسم کے اسقاطِ حمل پر پابندی عائد ہونی چاہیے۔اس ضمن میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے بیشتر سماجی کارکنان کا کہنا ہے کہ امریکہ میں اسقاطِ حمل سے متعلق خواتین کا آئینی حق خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ دوسری جانب اسقاطِ حمل تک رسائی محدود کرنے یا مکمل پابندی لگانے کے حامی گروہ امید کر رہے ہیں کہ سپریم کورٹ ماضی کے اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے گی۔

امریکہ میں 1973 میں ایک تاریخی عدالتی فیصلے کے تحت خواتین کو اسقاطِ حمل کا آئینی حق دیا گیا تھا۔ عدالتی فیصلے کے مطابق، اسقاطِ حمل پر تب تک پابندی عائد نہیں کی جاسکتی جب تک کہ جنین رحم سے باہر سانس لینے کے قابل نہ ہو جائے۔ ماہرین صحت اسے 24 سے 28 ہفتے تک کا وقت قرار دیتے ہیں۔ سینٹر فار ری پروڈکٹو رائٹس کی سینئر اسٹاف اٹارنی جینی ما نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ کوئی راز کی بات نہیں۔ قانون ساز مسلسل خواتین کے اسقاطِ حمل کے حق کو چھیننا چاہتے ہیں۔

ان کے بقول، اگرچہ امریکہ میں ایسی کوششیں ہمیشہ سے ہوتی آئی ہیں، لیکن جس طریقے سے اب خواتین کے اسقاط حمل کے حق کے خلاف آوازیں اٹھائی جا رہی ہیں، ایسا گزشتہ پانچ دہائیوں میں دیکھنے میں نہیں آیا۔انہوں نے بتایا کہ صرف رواں برس 500 سے زائد اسقاطِ حمل تک رسائی کو کم کرنے کی قانونی کوششیں کی گئی ہیں۔ یہ اقدامات خواتین کے حقوق کے منافی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اب جب کہ امریکہ کی سپریم کورٹ میں بھی قدامت پسند خیالات رکھنے والے ججوں کی اکثریت ہے تو خدشہ ہے کہ اسقاطِ حمل تک رسائی آسان بنانے کے فیصلے میں تبدیلی لائی جائے گی۔

امریکہ میں ہر دس میں سے چھ بالغوں کا کہنا ہے کہ اسقاطِ حمل یا تو مکمل طور پر یا پھر زیادہ تر کیسز میں قانونی ہونا چاہیے۔امریکہ کے پیو ریسرچ سینٹر کی جانب سے رواں برس موسم بہار میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق، 59 فی صد امریکی اسقاطِ حمل کے حق میں ہیں جب کہ 39 فی صد شہری اسقاطِ حمل کے یا تو مکمل یا پھر جزوی طور پر خلاف ہیں۔ سروے کے مطابق، امریکہ سیاسی بنیادوں پر ہمشیہ سے اس مسئلے پر منقسم رہا ہے۔

تاہم، اب اس معاملے پر ڈیموکریٹس اور ری پبلکنز میں تقسیم ماضی کے مقابلے میں زیادہ بڑھ گئی ہے۔سروے سے پتا چلتا ہے کہ جہاں ڈیموکریٹس کی ایک بڑی تعداد اسقاطِ حمل تک رسائی کے حق میں ہے وہیں ری پبلکنز کی اکثریت اسقاطِ حمل کے مخالف ہے۔اس سلسلے میں بات کرتے ہوئے اسقاطِ حمل پر پابندی کے حق میں کام کرنے والی تنظیم سیو دی اسٹارکس کی ڈاکٹر کیرسی ٹرانڈم نے کہا ہے کہ امریکہ میں اسقاطِ حمل پر پابندی لاگو ہونی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ اب سپریم کورٹ اس معاملے پر دوبارہ غور کرے گی کیوں کہ دنیا میں آنے والی ہر زندگی کا کوئی معنی ہوتا ہے اور ویسے بھی عورت اسقاط حمل کرانے کے بعد زیادہ ذہنی دباؤ کا شکار ہوتی ہے جب کہ بچہ پیدا کرنے سے اسے محبت اور خوشی ملتی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button