اٹاوہ ، ۴؍ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)الہ آباد ہائی کورٹ کے مطابق گائے کو قومی جانور قرار دیا جانا چاہیے، لیکن اتر پردیش کے اٹاوہ میں غفلت کی وجہ سے گائے مر رہی ہیں او رگائے کے نام پر سیاسی روٹی سینکنے والے اور گائے کے نام پر مسلمانوں کے قاتل گئو رکھشکوں کی کوئی خبر نہیں ہے۔اٹاوہ میں واقع گئو شالہ میں مرنے والی گایوں کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ مردہ گائے کو جے سی بی کے ساتھ دفن کیا جا رہا ہے۔
خیال رہے کہ گزشتہ 2 دنوں میں 16 گائیں ہلاک ہوچکی ہیں، گئوشالا رامائن میں مزید 12 گائیں ابھی بھی بیمار ہیں۔دو دن میں اتنی بڑی تعداد میں گایوں کی ہلاکت کی خبر ملنے کے بعد افسران نے گائوں میں پہنچ کر گئو شالہ کا معائنہ کیا۔ڈاکٹروں کی ایک ٹیم نے بھی بیمار گایوں کا معائنہ کرکے ان کا علاج کیا۔ خیال رہے کہ یہ معاملہ بسریہر بلاک کی پرولی رامائن گوشالا کا ہے۔
جے سی بی ڈرائیور رامپال جس نے مردہ گایوں کی لاش کو دفن کیا ہے، اس کا کہنا ہے کہ تین ماہ میں اس نے ایک ہزار گائیں دفن کی ہیں۔ا س کے مطابق اس نے جمعہ کو 10 اور جمعرات کو 8 گائیں دفن کی ہیں۔ وہیں مقامی باشندوں کا شکوہ ہے کہ کہ گایوں کے مرنے کے بعد ہفتوں تک اس کی لاشیں پڑی رہتی ہیں۔ کوے لاش کو نوچتے رہتے ہیں۔جب لاش میں کیڑے ہوجاتے ہیں اور اس سے بدبو پھیلتی ہے ، تو دفن کر دیا جاتا ہے ۔
جمعہ کی صبح بلاک سے گئوشالا پہنچے ویٹرنریئن ڈاکٹر وجے کمار نے بیمار گایوں کا علاج کیا۔ انہوں نے بتایا کہ گائے کافی مقدار گھاس چارہ نہ ملنے کی وجہ سے بیمار ہو رہی ہے۔ گاگئو شالہ کے احاطے میں دلدل اور کیچڑ ہونے کی وجہ سے گائیں اس میں پھنس جاتی ہیں اور بیمار پڑ جاتی ہیں۔بی جے پی لیڈر منیش یادو نے کہا کہ انہوں نے سی ایم یوگی آدتیہ ناتھ سے مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے معاملہ کی تحقیقات کی جانی چاہیے۔
ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اور چیف ویٹرنری آفیسر کے دفتر سے ماہانہ گایوں کے خوراک کیلئے رقم جاری نہیں کی جاتی ، جس کی وجہ سے گائے خوراک کی کمی کی وجہ سے مر رہی ہیں۔ ساتھ ہی سماج وادی پارٹی کے ضلع صدر نے الزام لگایا کہ حکومتی سطح پر غفلت کی وجہ سے گائیں ہلاک ہو رہی ہیں ۔یہ بھی خبر ہے کہ ضلع انتظامیہ نے 15 دن پہلے 10 لاکھ روپے دیے تھے، پہلے 39 لاکھ روپے دیئے جا چکے ہیں۔ اس مہینے میں کل 49 لاکھ روپے دیئے گئے ہیں۔ ایک گائے کے مطابق 30 روپے یومیہ دیئے جاتے ہیں ۔



