
نئی دہلی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)سابق مرکزی وزیر اور کانگریس لیڈر جتن پرساداجو کبھی راہل گاندھی کے بہت قریبی سمجھے جاتے تھے، انہوں نے بی جے پی میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔ انہوں نے بی جے پی ہیڈ کوارٹر میں پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ آئندہ سال یوپی میں ہونے والے اسمبلی انتخابات سے قبل جتن کی بی جے پی میں شمولیت کو کانگریس کے لئے ایک بڑا دھچکا سمجھا جارہا ہے۔
اس سے قبل جتن کی مرکزی وزیر پیوش گوئل سے ملاقات ہوئی تھی۔ 47 سالہ جتن پرساد جیوتی رادتیہ سندھیا کے بعد بی جے پی میں جانے والے راہل گاندھی کے دوسرے سب سے قریبی رہنما ہیں۔ جیوتی رادتیہ سندھیا نے گذشتہ سال بی جے پی میں شمولیت اختیار کی تھی۔جتن جو 20 سال کانگریس سے وابستہ تھے ان کی کی ناراضگی کسی سے پوشیدہ نہیں تھی۔
وہ اس جی -23 یا کانگریس کے 23 رہنماؤں کے گروپ کا حصہ تھے جنہوں نے سونیا گاندھی کو پارٹی میں جامع اصلاحات کی ضرورت کا حوالہ دیتے ہوئے خط لکھا تھا۔ اس خط میں انہوں نے پارٹی میں کل وقتی قیادت کی آواز اٹھائی۔ویسے اس خط کے بعد بھی جتن ان رہنماؤں میں شامل تھے، جنہیں عدم اطمینان کا اظہار کرنے کے باوجود پارٹی میں کوئی کردار دیا گیا تھا۔
وہ مغربی بنگال میں کانگریس کی مہم سے وابستہ تھے، لیکن ان انتخابات میں کانگریس کی کارکردگی انتہائی مایوس کن رہی۔ جتن نے بنگال انتخابات میں انڈین سیکولر فرنٹ کے ساتھ اپنی پارٹی کے اتحاد پر سر عام تنقید کی تھی۔ جتن نے ٹویٹ کیا تھاکہ اتحاد کے فیصلے پارٹی اور کارکنوں کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے لیے جاتے ہیں اب وقت آگیا ہے کہ سب مل کر کام کریں ۔



