یوپی حکومت ذات اور مذہب کی بنیاد پر انکاؤنٹر کراتی ہے:اکھلیش
اتر پردیش ایس ٹی ایف نے جمعرات کو عتیق احمد کے بیٹے اسد اور شوٹر غلام احمد کو انکاؤنٹر کے دوران ہلاک کر دیا۔
لکھنؤ،15 اپریل:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اتر پردیش ایس ٹی ایف نے جمعرات کو عتیق احمد کے بیٹے اسد اور شوٹر غلام احمد کو انکاؤنٹر کے دوران ہلاک کر دیا۔ اس سلسلے میں سماجوادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے کہا کہ ہم کسی مجرم کے ساتھ نہیں ہیں، لیکن حکومت ذات پات کے نام پر امتیازی سلوک کر رہی ہے۔اکھلیش نے کہا کہ حکومت ذات اور مذہب کی بنیاد پر انکاؤنٹر کرواتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کوئی یوگی کی ذات سے ہے تو اسے پھول مالاسے استقبال کیا جائے گا۔ یوگی حکومت پر نشانہ لگاتے ہوئے اکھلیش نے کہا کہ وہ ایسے وزیر اعلیٰ ہیں جنہوں نے اپنے خلاف چل رہے مقدمات خود ہی واپس لے لیے ہیں۔ اکھلیش نے کہا کہ اگر فہرست بنتی تو گورکھپور سے مافیا میں کس کا نام سب سے اوپر ہوتا۔
اکھلیش یادو نے کہا کہ اگر خاندان کے افراد کو لگتا ہے کہ انکاؤنٹر فرضی ہے تو انہیں عدالت جانا چاہئے، اب یہ اُن پر منحصر ہے۔اکھلیش سے پہلے ڈمپل یادو نے کہا تھا کہ یوپی میں مسلسل فرضی انکاؤنٹر ہو رہے ہیں۔ ہندوستان ایک جمہوری ملک ہے جس میں قواعد و ضوابط ہیں۔ اتر پردیش میں ان کی مسلسل دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ ایک اور بیان میں سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادونے عتیق احمد کے جواں سال بیٹے اسد کے انکاؤنٹر پر سوال اٹھائے تھے۔



