
پنجاب: (اردودنیا.اِن)پنجاب کی جیل میں بند ایم ایل اے مختار انصاری کے بیٹے عباس اور عمر انصاری کو عبوری راحت کے خلاف یوپی حکومت کی درخواست کی سماعت سے سپریم کورٹ نے انکار کردیا اور یوپی حکومت کی درخواست خارج کردی۔سپریم کورٹ نے کہاہے کہ ہائی کورٹ کے اس معاملے میں عبوری ریلیف دینے کے حکم میں کوئی غلطی نہیں ہے۔ سپریم کورٹ نے کہاہے کہ کل(جمعرات) کو الہ آباد ہائی کورٹ میں سماعت ہوگی،
لہٰذاسپریم کورٹ اس میں مداخلت نہیں کرے گی۔اس کے بعدیوپی حکومت کی ایس ایل پی کو مسترد کردیا گیا۔ ایم ایل اے مختار انصاری پر ایک ہوٹل کی تعمیرکے لیے زمین لینے کاالزام لگایا گیا ہے۔ وہ زمینیں مختار نے اپنے بیٹوں عباس اور عمر انصاری کے نام پر خریدی تھیں۔ عدالت نے اعتراف کیا ہے کہ جب زمین خریدی گئی تھی تو دونوں بھائی نابالغ تھے۔
دوسری جانب سپریم کورٹ نے جیل سے تبادلے کے معاملے پر تینوں فریقوں کے دلائل سنے۔ جس میں مختار انصاری کے وکیل نے کہاہے کہ ان کی جان بھی خطرے میں ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ کرشنانند رائے قتل کیس کا معاملہ بھی دہلی منتقل کردیاگیا۔ اسی لیے وہ چاہتے ہیں کہ پنجاب کے معاملے کو بھی دہلی منتقل کیا جائے۔مختار انصاری کے وکیل کے دلائل سننے کے بعدعدالت نے کہاہے کہ ہم آپ کے مطالبے پر غور کریں گے۔
جبکہ یوپی حکومت کی جانب سے سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے کہاہے کہ مختار عدالتی تحویل میں یوپی کی باندہ جیل میں تھے۔ انہیں مقامی عدالت کی اجازت کے بغیر وہاں سے نہیں لیا جاسکتا۔ لیکن 22 جنوری 2019 کو پنجاب پولیس انکوائری آرڈر لے آئی۔ اس نے یہ حکم جیل کے حوالے کردیا اور ملزم مختار انصاری پنجاب چلے گئے۔



