لکھنؤ ،11ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)اتر پردیش میں شراب سمیت دیگر منیشات کے غیر قانونی کاروبار پر یوگی حکومت کی سخت کارروائی کے بعد الکوحل پر مبنی پروڈکٹس کے کاروبار میں تیزی سے اچھال آنے کا دعوی کرتے ہوئے ریاستی حکومت نے کہا ہے کہ شراب کے کاروبار میں اترپردیش نے گوا اور آندھراپردیش کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔محکمہ آبکاری کے ذریعہ اتوار کو فراہم کی گئی جانکاری کے مطابق شراب مافیا اور سنڈیکیٹ کی کمر توڑنے کے لئے یوگی حکومت کے ذریعہ چلائی جارہی ریاست گیر مہم کے نتیجے اب ’ڈسٹلری انڈسٹری‘ نے رفتار پکڑ لی ہے۔ محکمہ کا دعوی ہے کہ نشے کے غیر قانونی کاروبار پر نکیل کسنے کے بعد ریاست میں 18کمپنیوں نے ڈسٹلری علاقے میں سرمایہ کاری کی ہے۔
ان میں سے تین اکائیوں نے پروڈکشن شروع کردی ہے۔ اور15 دیگر کمپنیوں کو ڈسٹلری لگانے کی اجازت دی جا چکی ہے۔محکمہ کے اعداد کے مطابق گزشتہ پانچ سالوں میں ڈسٹلری شعبے میں ریاست میں 9000 کروڑ روپئے کی سرمایہ کاری ہوئی ہے۔ اس سے 60 ہزار سے زیادہ لوگوں کو روزگار کے نئے مواقع ملے ہیں۔ ریاست میں الکوحل پروڈکٹس کا پروڈکشن دو گنے سے زیادہ ہوگئے ہیں۔ رواں مالی سال میں 170 کروڑ بلک لیٹر سے زیادہ الکہل پروڈکٹس کے پروڈکشن کے امکانات ہیں۔
اس کے نتیجے میں آبکاری ریونیو میں دوگنے سے زیادہ کا اضافہ ہونے کے ساتھ ہی ریاستی حکومت کا آبکاری ریوینو 17ہزار کروڑ روپئے سے بڑھ کر 36ہزار کروڑ روپئے ہوگیا ہے۔اس کے ساتھ ہی شراب ایکسپورٹ، سرمایہ کاری اور روزگار میں اضافے کے نتیجے میں اترپردیش ڈسٹلری ہب بننے کی جانب مائل ہے۔ محکمہ کا دعوی ہے کہ ریاست کو ایک ٹریلین ڈالر کی معیشت بنانے کے ہدف کو حاصل کرنے میں ڈسٹلری انڈسٹری معاون ثابت ہوگی۔



