قومی خبریں

لکھیم پور کھیری:18 سالہ شادی شدہ زندگی کا المیہ، شوہر نے بیوی کو عاشق کے حوالے کر دیا

تین بچوں کی ماں نے رشتہ توڑا، شوہر نے پنچایت میں بیوی کو عاشق کے حوالے کیا

 لکھیم پور :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اتر پردیش کے ضلع لکھیم پور کھیری سے ایک چونکا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جس نے سماجی اقدار اور ازدواجی رشتوں کی نوعیت پر کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس واقعے میں ایک شخص نے 18 سالہ شادی شدہ زندگی کے بعد، اپنی بیوی کو اس کے عاشق کے حوالے کر دیا۔ حیرت انگیز طور پر، بیوی کا عاشق خود اس کا قریبی رشتہ دار یعنی شوہر کا چچا زاد بھائی ہے۔

یہ معاملہ نگھاسن علاقے کے ایک گاؤں کا ہے، جہاں جھارکھنڈ سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کی شادی 18 برس قبل ہوئی تھی۔ اس جوڑے کے تین بچے ہیں، جن میں سب سے بڑی بیٹی کی عمر تقریباً 17 سال بتائی جا رہی ہے۔ خاتون کا اپنے شوہر کے چچا کے بیٹے سے تعلق قائم ہوگیا، جو اسی علاقے میں کچھ فاصلے پر رہتا ہے۔ عاشق خود بھی شادی شدہ ہے اور اس کے دو نابالغ بچے ہیں۔

چند روز قبل شوہر کو اپنی بیوی کے ناجائز تعلقات کا علم ہوا۔ شوہر نے بیوی کو کئی بار سمجھانے کی کوشش کی، لیکن اس نے ایک نہ سنی۔ بالآخر تنگ آکر شوہر نے گاؤں کی پنچایت بلائی تاکہ اس معاملے کا کوئی حل نکالا جائے۔ پنچایت میں جب دونوں نے شوہر کی بات ماننے سے انکار کیا، تو شوہر نے بیوی کو اس کے عاشق کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ اب وہ اسی کے ساتھ رہے۔

شوہر نے بتایا کہ بیٹی کی شادی کے دن بھی بیوی نے شدید ہنگامہ کھڑا کیا، جس کے بعد اس نے یہ سخت قدم اٹھایا۔ پنچایت نے خاتون اور اس کے عاشق کی باقاعدہ شادی کا اعلان کیا، جس کے بعد خاتون اپنے عاشق کے ساتھ چلی گئی۔

دوسری جانب خاتون کا کہنا ہے کہ اس کا شوہر شادی کے آغاز سے ہی اس پر شک کرتا تھا اور اسے جسمانی و ذہنی تشدد کا نشانہ بناتا تھا۔ عاشق کا کہنا ہے کہ وہ خاتون کو اپنے گھر لے آیا ہے کیونکہ اس کے کزن نے پنچایت میں بیوی کا ہاتھ اس کے حوالے کیا، تاہم اس کی اپنی بیوی بچوں کو لے کر میکے چلی گئی ہے، جس کی وجہ سے وہ اس خاتون کو مستقل اپنے پاس نہیں رکھ سکتا۔

اس معاملے میں مقامی پولیس افسر ایس ایچ او مہیش چندر نے میڈیا کو بتایا کہ اب تک انہیں کوئی باضابطہ شکایت موصول نہیں ہوئی ہے۔ شکایت موصول ہونے کی صورت میں قانونی کارروائی کی جائے گی۔

یہ واقعہ نہ صرف ازدواجی تعلقات میں دراڑ کا عکاس ہے، بلکہ یہ بھی ظاہر کرتا ہے کہ کس طرح پنچایتی نظام بعض اوقات قانونی دائرہ کار سے باہر فیصلے کرتا ہے، جن کے نتائج کئی خاندانوں کو متاثر کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button