بیٹے نے شادی کے باعث ماں کی نعش لینے سے انکار کر دیا، کہا چار دن فریزر میں رکھ دو
"شادی چل رہی ہے، ماں کی نعش چار دن فریزر میں رکھ دو" — بیٹے کا آشرم عملے سے مطالبہ
جونپور :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اترپردیش کے ضلع جونپور سے ایک دل دہلا دینے والا واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں ایک شخص نے اپنی ماں کی نعش گھر لانے سے انکار کردیا کیونکہ اس کے گھر میں شادی کی تقریبات جاری تھیں۔ اطلاع کے مطابق شوبھا دیوی نامی بزرگ خاتون کئی ماہ سے ایک بزرگوں کے آشرم میں رہ رہی تھیں اور طویل علالت کے بعد ان کا انتقال ہوگیا۔
آشرم انتظامیہ کے مطابق بیٹے نے فون پر صاف الفاظ میں کہا:”میری ماں کی نعش کو چار دن ڈیپ فریزر میں رکھ دیں، گھر میں شادی ہے، نعش لانا منحوس ہوگا، میں شادی کے بعد لے جاؤں گا”۔
آشرم کے عملے نے دوسرے رشتہ داروں سے رابطہ کیا، جس پر اہل خانہ نے نعش وصول تو کرلی، مگر آخری رسومات ادا کرنے کے بجائے اسے دفن کردیا۔ گھر والوں کا کہنا تھا کہ چار دن بعد قبر کشائی کرکے چتا سسکار کیا جائے گا، جس پر شوہر بھوال گپتا نے شدید رنج کا اظہار کیا۔
شوبھا دیوی کے شوہر بھوال گپتا گورکھپور کے رہائشی اور ایک کریانہ تاجر تھے۔ ان کے تین بیٹے اور تین شادی شدہ بیٹیاں ہیں۔ بھوال کے مطابق ایک سال قبل گھریلو تنازعہ کے دوران بڑے بیٹے نے انہیں گھر سے نکال دیا، جس کے بعد وہ انتہائی مایوسی میں راج گھاٹ پہنچے اور جان دینے کا فیصلہ کرلیا۔
وہاں موجود لوگوں نے انہیں روک کر مشورہ دیا کہ ایودھیا یا متھرا میں سہارا مل سکتا ہے۔ میاں بیوی پہلے ایودھیا اور پھر متھرا پہنچے، جہاں سے انہیں جونپور کے ایک آشرم کا پتہ دیا گیا۔ آشرم کے مالک روی کمار چوبے نے دونوں کو سہارا دیا اور علاج کا انتظام بھی کیا۔
چوبے کے مطابق چند ماہ قبل شوبھا دیوی کی ٹانگ میں تکلیف بڑھ گئی جس پر انہیں نجی اسپتال لے جایا گیا۔ 19 نومبر کو حالت تشویشناک ہونے کے باعث ان کا انتقال ہوگیا۔
شوہر نے چھوٹے بیٹے کو فون کیا، جس نے بڑے بھائی سے مشورے کے بعد اطلاع دی کہ گھر میں شادی ہونے کے باعث نعش کو فریزر میں رکھنا ہوگا۔ چوبے نے خود بھی بیٹے سے بات کی تو اس نے وہی مطالبہ دہرایا۔
جب دیگر رشتہ داروں کو موت کی خبر ملی تو انہوں نے آخری دیدار کی خواہش ظاہر کی، جس کے بعد نعش جونپور سے گورکھپور بھیجی گئی۔ تاہم بڑے بیٹے نے چتا سسکار کے بجائے ماں کو دفن کردیا۔بھوال گپتا نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا:”چار دن تک قبر میں کیڑے پڑ جائیں گے، ماں کی نعش کے ساتھ ایسا سلوک کیوں؟”چوبے کا کہنا ہے کہ والدین سے صرف چھوٹا بیٹا کبھی کبھار خیریت پوچھتا تھا، مگر کوئی بھی آشرم میں ملنے نہیں آیا۔



