
یوپی پولیس کانسٹیبل بھرتی امتحان، نئی تاریخوں کا اعلان
کانسٹیبل کی بھرتی کا امتحان روزانہ دو شفٹوں میں لیا جائے گا
لکھنؤ ،25جولائی :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)اترپردیش پولیس بھرتی اور پروموشن بورڈ نے یوپی پولیس کانسٹیبل بھرتی امتحان کی نئی تاریخ کا اعلان کیا ہے۔ تحریری امتحان 23 اگست سے 31 اگست 2024 تک لیا جائے گا۔ امتحان میں شرکت کرنے والے امیدواروں کو بورڈ مقررہ وقت پر ایڈمٹ کارڈ جاری کرے گا۔ یہ امتحان پہلے 17 اور 18 فروری کو لیا گیا تھا لیکن پیپر لیک ہونے کی وجہ سے امتحان منسوخ کر دیا گیا تھا۔ریکروٹمنٹ بورڈ کی جانب سے 23، 24، 25، 30 اور 31 اگست 2024 کو ریزرو سول پولیس کی 60244 آسامیوں پر براہ راست بھرتی 2023 کے تحریری امتحان کا انعقاد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ پیپر لیک ہونے کی وجہ سے امتحان منسوخ کر دیا گیا تھا اور سی ایم یوگی نے 6 ماہ کے اندر دوبارہ امتحان کرانے کی ہدایت دی تھی۔جاری کردہ شیڈول کے مطابق کانسٹیبل کی بھرتی کا امتحان روزانہ دو شفٹوں میں لیا جائے گا۔ ہر شفٹ کے امتحان میں 5 لاکھ امیدوار شرکت کریں گے۔ امتحان میں شامل ہونے والے امیدواروں کو اتر پردیش اسٹیٹ روڈ ٹرانسپورٹ کارپوریشن کی بسوں میں مفت سفر کی سہولت دی جائے گی۔
امیدوار اپنا ایڈمٹ کارڈ دکھا کر اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔تحریری امتحان ریکروٹمنٹ بورڈ کے جاری کردہ رہنما خطوط کے مطابق لیا جائے گا۔ کانسٹیبل کے عہدوں کے لیے انتخاب تحریری امتحان، جسمانی کارکردگی ٹیسٹ اور دستاویزات کی تصدیق وغیرہ کے عمل کے ذریعے کیا جائے گا۔ تحریری امتحان میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کو مزید انتخابی عمل کے لیے بلایا جائے گا۔امتحان میں شرکت کرنے والے رجسٹرڈ امیدواروں کو ابھی تک ایڈمٹ کارڈ جاری نہیں کیے گئے ہیں۔ ریکروٹمنٹ بورڈ مقررہ وقت پر اپنی سرکاری ویب سائٹ پر ایڈمٹ کارڈ جاری کرے گا، جسے امیدوار اپنے درخواست نمبر اور تاریخ پیدائش کے ذریعے ڈاون لوڈ کر سکیں گے۔
نقل کرتے ہوئے پکڑا گیا تو سخت کارروائی کی جائے گی۔یوپی پبلک ایگزامینیشن (غیر منصفانہ طریقوں کی روک تھام) آرڈیننس -2024 کو اتر پردیش حکومت نے 1 جولائی 2024 سے لاگو کیا ہے تاکہ عوامی امتحانات میں غیر منصفانہ طریقوں جیسے سوالیہ پرچوں کے لیک ہونے، جوابی پرچوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ وغیرہ کو روکا جا سکے۔ایسی صورت حال میں اگر کوئی امیدوار غیر منصفانہ طریقے استعمال کرتا ہے یا پولیس بھرتی کے امتحان میں دھوکہ دہی کرتا پکڑا جاتا ہے تو اسے ایک کروڑ روپے تک جرمانہ یا عمر قید یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔



