یوگی کے دور میں علی گڑھ بھی ہری گڑھ ہوجائے گا،میونسپل کارپوریشن کے اجلاس میں نام تبدیل کرنے کی تجویز کو منظوری
یوپی کے علی گڑھ ضلع کا نام تبدیل کرنے کی تجویز میونسپل کارپوریشن نے منظور کرلی
علی گڑھ :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) یوگی آدتیہ ناتھ کے اتر پردیش میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ایک مخصوص عزم کے ساتھ جگہوں کے نام بدلنے کا عمل جاری ہے۔یوپی میں کئی جگہوں کے نام بدلے گئے ہیں،جیساکہ سابق الٰہ آباد کانام بدل کر پریاگ راج کردیا گیا۔ اس سلسلے میں یوپی کے علی گڑھ کا نام بدلنا اگلا ہے۔ علی گڑھ کا نام اب ہری گڑھ ہو جائے گا۔ منگل کو میونسپل کارپوریشن کے اجلاس میں نام تبدیل کرنے کی تجویز کو بھی منظوری دی گئی ہے۔میونسپل کارپوریشن کی میٹنگ میں علی گڑھ کا نام بدل کر ہری گڑھ کرنے کی تجویز کی منظوری پر میئر پرشانت سنگھل نے کہا کہ کل میٹنگ میں ایک کونسلر سنجے پنڈت نے علی گڑھ کا نام بدل کر ہری گڑھ کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔ جسے تمام کونسلرز نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ اب اسے آگے بھیجا جائے گا۔ مجھے امید ہے کہ حکومت بہت جلد اس پر غور کرے گی اور علی گڑھ کا نام بدل کر ہری گڑھ کرنے کے ہمارے مطالبے کو پورا کرے گی۔علی گڑھ میونسپل کارپوریشن بورڈ کی میٹنگ میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے کونسلر سنجے پنڈت نے علی گڑھ کا نام تبدیل کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔
تجویز میں انہوں نے علی گڑھ کا نام بدل کر ہری گڑھ کرنے کا مطالبہ کیا۔ اجلاس میں تجویز آتے ہی اپوزیشن کونسلرز نے ہنگامہ آرائی شروع کر دی۔ بی جے پی کا نام بدلنے کے ایجنڈے پر کافی ہنگامہ ہوا۔ بی جے پی کے کونسلروں نے میز تھپتھپا کر اس تجویز کا خیر مقدم کیا۔ میٹنگ میں بی جے پی کونسلروں نے اس تجویز سے اتفاق کیا۔ اس کے بعد یہ منظور ہو گیا۔ اب میونسپل کارپوریشن بورڈ کی جانب سے تجویز حکومت کو بھیجی جائے گی۔ حکومت سے منظوری ملنے کے بعد علی گڑھ کو ایک نئے نام سے جانا جائے گا۔خیال رہے کہ علی گڑھ کا قدیم کول ہے، جسے بعد میں مغلیہ دور میں علی گڑھ کردیا گیا تھا۔
علی گڑھ تالے کی صنعت کے لیے مشہور ہے۔علی گڑھ اتر پردیش کا ایک اہم تجارتی مرکز ہے اور اپنی لاک انڈسٹری کے لیے پوری دنیا میں مشہور ہے۔ علی گڑھ کے تالے پوری دنیا میں برآمد کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ علی گڑھ اپنے پیتل کے ہارڈ ویئر اور مجسمہ سازی کے لیے مشہور ہے۔ علی گڑھ ملک کا ایک بڑا تعلیمی مرکز بھی ہے۔ یہاں پر 100 سے زائد سکول، کالج اور تعلیمی ادارے ہیں۔ جس میں علی گڑھ کالج آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی بھی شامل ہے۔



