یوپی: شاہجہاں پور میں جوتا مار ہولی جلوس سے قبل 48 مساجد اور مزارات پر ترپال چڑھا دی گئی
شاہجہاں پور میں جوتا مار ہولی جلوس کے راستے پر مسجد کو ترپال سے ڈھانپا گیا
نئی دہلی 26 فروری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) اتر پردیش کے ضلع شاہجہاں پور میں روایتی جوتا مار ہولی جلوس سے قبل انتظامیہ نے شہر کی 48 مساجد اور مزارات کو ترپال سے ڈھانپ دیا ہے۔ یہ تمام مذہبی مقامات اس مشہور لاٹ صاحب ہولی جلوس کے راستے پر واقع ہیں جسے جوتا مار ہولی بھی کہا جاتا ہے۔ جلوس 3 مارچ کو ہولی سے ایک دن قبل نکالا جائے گا۔
ضلعی انتظامیہ کے مطابق اس سال سیکیورٹی کے انتظامات گزشتہ برس کے مقابلے ڈیڑھ گنا زیادہ سخت کیے گئے ہیں۔ جلوس کے دن کم از کم دو ہزار پولیس اہلکار تعینات رہیں گے۔ ان میں 13 سرکل افسران، 310 سب انسپکٹر، 1200 کانسٹیبل اور 500 ہوم گارڈ شامل ہوں گے۔ اس کے علاوہ متعدد مجسٹریٹ سطح کے افسران شہر میں سیکیورٹی کی نگرانی کریں گے۔
انتظامیہ نے بتایا کہ جلوس کے موقع پر صوبائی مسلح کانسٹیبلری اور ریپڈ ایکشن فورس کی نفری بھی تعینات رہے گی، جبکہ قومی آفات سے نمٹنے والی ٹیم کو بھی احتیاطاً الرٹ رکھا گیا ہے۔ شہر بھر میں تقریباً 100 نگرانی کیمرے نصب کیے گئے ہیں تاکہ جوتا مار ہولی کے بڑے اور چھوٹے تمام جلوسوں پر نظر رکھی جا سکے۔ یہ جلوس تقریباً آٹھ کلومیٹر کے دائرے میں نکالے جاتے ہیں۔
پچھلے سال معمولی تنازعات اور رکاوٹوں کے پیش نظر اس مرتبہ اضافی سیکیورٹی زون بھی قائم کیا گیا ہے۔ جلوس کے راستے پر 148 گلیوں کو بیریکیڈ لگا کر بند کیا گیا ہے تاکہ اچانک بھیڑ بڑھنے کی صورت میں کسی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔ ضلع کے ایڈیشنل مجسٹریٹ راجنیش کمار مشرا کے مطابق ہولیکا دہن کے مقامات پر بھی سیکیورٹی سخت کر دی گئی ہے اور سو سے زائد مجسٹریٹ وہاں تعینات کیے جائیں گے تاکہ امن و امان برقرار رکھا جا سکے۔
جوتا مار ہولی جلوس کی تاریخ 1728 سے جڑی ہوئی ہے جب نواب عبداللہ خان ہولی کے موقع پر شاہجہاں پور واپس آئے تھے اور ہندو و مسلم باشندوں نے ان کا استقبال کیا تھا۔ آزادی کے بعد اس تقریب کو نواب صاحب جلوس کہا جانے لگا، جبکہ 1988 میں اس کا نام بدل کر لاٹ صاحب جلوس رکھ دیا گیا۔ اس روایت کو آج بھی شہر میں خاص اہمیت حاصل ہے اور ہر سال بڑی تعداد میں لوگ اس میں شرکت کرتے ہیں۔



