احتجاجی کسان کی لاش ترنگامیں لپٹی گئی،یوپی پولس چونکی اخلاق احمددادری لینچنگ کیس کے مجرم کیساتھ یہی سلوک بنااعزاز

نئی دہلی:(ایجنسی) سوشل میڈیاپر دی وائرکیلئے صحافی جھانوی سین اورعصمت آڑنے عام آدمیوں کی لاش ترنگامیں لپٹی جانے پریوپی پولس کی دوہرے پیمانے کی کاروائی بے نقاب کی ہے۔موصولہ جانکاری کے مطابق ایک احتجاجی کسان جس کانام بلویندرسنگھ بتایاجاتاہے پولس ذرائع کے مطابق دہلی کے ایک اسپتال میں سڑک حادثہ میں شدیدزخمی یکم فروری کوچل بسا۔
متوفی کی لاش کوآس پاس کے گاؤں والوں نے ترنگامیں لپیٹ کرانکی آخری رسوم انجام دی۔اس معاملہ کانوٹس لیتے ہوئے اشوتوش رگھونشی،ایس ایچ او،سریمواٹاری؍شمالی پولس اسٹیشن کے انچارج نے قومی جھنڈے کی توہین سے متعلق قانون کااستعمال کر تے ہوئے متوفی کے رشتہ داروں کے خلاف ایف آئی آردرج کی۔
موصولہ جانکاری کے مطابق پولس کی یہ کاروائی متوفی کسان کی آخری رسم کے ایک ویڈیووائرل ہونے پرعمل میں آئی۔ برعکس اسکے اکتوبر ۲۰۱۶؍ میں دادری لینچینگ کیس میں ملوث ایک مجرم راوین سسوڈیاکی چکن گنیاسے موت کے بعداترپردیش میں اسکی لاش ترنگے میں لپٹی گئی اورپورے سرکاری اعزازکے ساتھ انکی آخری رسم انجام دی گئی ۔ اس موقعہ پرخبروں کے مطابق بھارتیہ جنتاپارٹی کے اہم وزرااورکئی اہم لیڈران موجودتھے۔
جسکی تصاویرسوشل میڈیاپروائرل ہوئی تھی۔سال ۲۰۱۵؍ میں راوین سسوڈیاان مجرمین میں شامل تھا۔جنہوں نے ذبیحہ گائے کی جھوٹی خبرپراخلاق احمد کو ہجومی تشددمیں ہلاک کیاگیاتھا۔اترپردیش پولس تمام واقعات سے واقف تھی لیکن اس معاملے میں قومی جھنڈے کی توہین کاکوئی کیس درج نہیں ہوا۔اترپردیش پولس کی دوہرے پیمانے کی یہ کاروائی غورطلب ہے۔



