ماں نے عاشق کے ساتھ مل کر بیٹے کو ہتھوڑے سے مار ڈالا، 40 لاکھ کی انشورنس رقم کے لیے خوفناک سازش
محبت، لالچ اور قتل — ایک خوفناک کہانی
نئی دہلی :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)اترپردیش کے ضلع کانپور دیہات سے ایک لرزہ خیز جرم کی خبر سامنے آئی ہے، جہاں ایک ماں نے اپنے عاشق کے ساتھ مل کر اپنے ہی بیٹے کی جان لے لی۔ابتدا میں یہ واقعہ سڑک حادثہ سمجھا گیا، لیکن پولیس تفتیش نے جب سچ کا پردہ ہٹایا تو محبت، لالچ اور دھوکے کی ایک بھیانک کہانی سامنے آئی۔
محبت، لالچ اور قتل — ایک خوفناک کہانی
وہ ایک ماں تھی — اس کا نام ممتا تھا۔ شوہر کی موت کے بعد ممتا کو ماینک عرف ایشو کٹیار سے محبت ہو گئی۔بیٹے پرادیپ شرما کو جب ماں کے اس تعلق کا علم ہوا، تو اس نے اس رشتے کی سخت مخالفت کی۔جھگڑے بڑھتے گئے، اور بالآخر پرادیپ گھر چھوڑ کر آندھرا پردیش میں ملازمت کرنے چلا گیا۔لیکن ممتا کے لیے یہ بغاوت ناقابلِ برداشت تھی۔پولیس کے مطابق، ماینک، اس کا بھائی رشی اور ممتا نے مل کر ایک خطرناک منصوبہ تیار کیا۔
قتل سے کچھ ہی دن قبل، ممتا نے پرادیپ کے نام پر چار انشورنس پالیسیاں نکلوائیں، جن کی مجموعی مالیت 40 لاکھ روپے تھی۔منصوبہ یہ تھا کہ پرادیپ کو قتل کر کے اسے حادثہ ظاہر کیا جائے تاکہ انشورنس رقم آسانی سے حاصل ہو سکے۔جب پرادیپ دیوالی کی چھٹیوں پر گھر آیا تو ماینک اور رشی نے اسے ڈنر پر لے جانے کا بہانہ بنایا۔وہ تینوں ویگن آر کار میں نکلے، مگر راستے میں دونوں نے پرادیپ پر ہتھوڑے سے حملہ کر دیا۔پرادیپ کے سر پر متعدد وار کیے گئے، جس سے وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔
نعش کو بالہراماؤ گاؤں کے قریب ہائی وے پر پھینک دیا گیا تاکہ ایسا لگے جیسے وہ حادثے کا شکار ہوا ہو تاہم، پوسٹ مارٹم رپورٹ نے پولیس کو چونکا دیا، جس میں قتل کے واضح شواہد سامنے آئے۔
پولیس نے جب تحقیقات میں گہرائی سے کام لیا تو ماینک اور رشی کے انشورنس فراڈ سے متعلق شواہد ہاتھ لگے۔انہیں گرفتار کرنے کے دوران پولیس انکاؤنٹر ہوا۔سرکل آفیسر کے مطابق، “رشی نے پولیس پر فائرنگ کی، جس پر پولیس نے جوابی کارروائی کی۔ رشی زخمی حالت میں پکڑا گیا، جبکہ ماینک کو بھی حراست میں لیا گیا۔”پولیس نے ہتھوڑا، غیر قانونی اسلحہ اور گاڑی برآمد کر کے ضبط کر لی۔دوسری جانب، ممتا کو جب گرفتار کیا گیا تو وہ شدید صدمے کے باعث بے ہوش ہو گئی اور اسپتال میں زیرِ علاج ہے۔



