قومی خبریں

وقف پر جے پی سی میٹنگ میں ہنگامہ نشی کانت اور کلیان بنرجی میں مباحثہ، 10 اپوزیشن ممبران پارلیمنٹ معطل

اپوزیشن کا لوک سبھا اسپیکر کو مکتوب : جواب دینے کے بجائے جی پی سی چیئرمین نے چیختے ہوئے ہماری معطلی کا دیا حکم

نئی دہلی،24جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) وقف بل کے حوالے سے تشکیل دی گئی پارلیمنٹ کی مشترکہ کمیٹی کا جمعہ کے روز میٹنگ ہوئی۔ میٹنگ میں ٹی ایم سی ایم پی کلیان بنرجی اور بی جے پی ایم پی نشی کانت دوبے کے درمیان گرما گرم بحث ہو گئی۔ جس کے بعد اجلاس کچھ دیر کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔بتایا جا رہا ہے کہ کلیان بنرجی نے پوچھا کہ اتنی جلدی میں میٹنگ کیوں بلائی جا رہی ہے۔ نشی کانت دوبے نے اس پر اعتراض کیا۔ اس کے بعد دونوں لیڈران کے درمیان گرما گرم بحث ہو گئی۔ تنازعہ بڑھنے کے بعد اپوزیشن کے 10 ارکان پارلیمنٹ کو ایک دن کے لیے کمیٹی سے معطل کر دیا گیا ہے۔ اجلاس 27 تک ملتوی کر دیا گیا۔

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق کشمیر کے مذہبی سربراہ میر واعظ عمر فاروق جمعہ کے روز وقف ترمیمی بل پر پارلیمانی کمیٹی کے سامنے پیش ہوں گے اور مسودہ بل پر اپنے اعتراضات کا اظہار کریں گے۔وقف ترمیمی بل پر مشترکہ کمیٹی نے، جس کی سربراہی بی جے پی لیڈر جگدمبیکا پال کی ہے، نے اپوزیشن لیڈروں کے اعتراضات کے بعد مسودہ قانون پر بحث کو اگلے ہفتے تک ملتوی کر دیا ہے۔

کمیٹی پیر کو بل پر تفصیلی غور کرے گی۔ میرواعظ کے علاوہ کمیٹی جمعہ کو لائرز فار جسٹس گروپ کے خیالات بھی سنے گی۔دوسری طرف UDF کے رکن پارلیمنٹ فرانسس جارج، جنہوں نے وقف (ترمیمی) بل 2024 کی حمایت کا اعلان کیا تھا، جمعرات کو اپنے بیان سے پیچھے ہٹ گئے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بیان کی غلط تشریح کی گئی۔

اس سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ عوامی نمائندے اور سیاسی جماعت کے نمائندے کے طور پر وہ نئے بل کی حمایت کریں گے۔ لوک سبھا میں، کوٹائم کے رکن پارلیمنٹ جارج نے کہا کہ انہوں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ وہ وقف ترمیمی بل کی حمایت کریں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کا موقف وہی ہے جو یو ڈی ایف اور کانگریس کا ہے، جنہوں نے وقف ایکٹ میں ترمیم کے مرکز کے فیصلے کے خلاف کیرالہ اسمبلی میں قرارداد کی حمایت کی تھی۔؎

اپوزیشن کا لوک سبھا اسپیکر کو مکتوب : جواب دینے کے بجائے جی پی سی چیئرمین نے چیختے ہوئے ہماری معطلی کا دیا حکم

وقف ترمیمی بل 2024 پر مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کے اراکین نے لوک اسپیکر اوم برلا کو ایک خط لکھا ہے، جس میں ان پر زور دیا گیا ہے کہ جے پی سی کے چیئر پرسن شفاف اور غیر جانبدارانہ طریقے سے کارروائی کو یقینی بنائیں۔ خط میں کہا گیا کہ جب آج صبح 11 بجے اجلاس شروع ہوا تو ہم اپوزیشن ارکان نے چیئرمین کی کارروائی کیخلاف پورے احترام کے ساتھ آواز اٹھائی۔

ہم نے قواعد میں زیر غور مناسب عمل کو نظر انداز کرتے ہوئے جے پی سی کے کام کرنے کے یکطرفہ اور غیر منصفانہ انداز کو اجاگر کیا۔حزب اختلاف کے ممبران پارلیمنٹ نے دعویٰ کیا کہ 24 اور 25 تاریخ کو میٹنگ کے لیے شیڈول نوٹس دیا گیا تھا، اس لیے ہم نے 31 تاریخ کو پارلیمنٹ کا اجلاس شروع ہونے کی وجہ سے 27 سے 30 تک حلقوں/ریاستوں میں جانے کا فیصلہ کیا ہے۔اس لئے 27ویں اجلاس کے ملتوی ہونے کی درخواست کی۔ جب کہ ہم نے یہ معقول وجوہات چیئرمین کے سامنے میں پیش کیے لیکن انہوں نے جواب دینے کی کوشش بھی نہیں کی۔ جس سے ہم سب نے اپنی توہین محسوس کی، ہم نے کھڑے ہو کر جمہوری طریقے سے اپنے مطالبات کی شنوائی کے لیے آواز بلند کی۔ اسی دوران چیئرمین کسی سے فون پر بات کر رہے تھے کہ اچانک اور حیرت انگیز طور پر انہوں نے چلا کر ہماری معطلی کا حکم دے دیا۔خط میں کہا گیا ہے کہ اسٹیک ہولڈرز کی طرف سے اٹھائے گئے ان مسائل کو جامع انداز میں حل کرنے کے لیے جے پی سی کی طرف سے ایک جامع مطالعہ ضروری ہے۔ ان حالات میں چیئرمین کا جے پی سی کی کارروائی کو بغیر کسی مناسب غور و فکر کے شروع کرنے کا عجلت میں فیصلہ چھپی ہوئی بددیانتی کے سوا کچھ نہیں۔

ہماری رائے ہے کہ جے پی سی کے چیئرمین کے پاس کمیٹی کے ارکان کو معطل کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ اس لییاپیل کی جاتی ہے کہ جے پی سی کے چیئرمین کو شفاف اور منصفانہ طریقے سے کارروائی کرنے کی ہدایت کی جائے۔ چیئرمین کو چاہیے کہ وہ 27 ویں اجلاس کو ملتوی کریں تاکہ اپوزیشن اراکین کو قواعد و ضوابط سے انحراف کیے بغیر اپنے دلائل/ دعوے پیش کرنے کا کافی وقت اور موقع دیا جائے تاکہ پارلیمنٹ کی جمہوریت کو یقینی بنایا جا سکے جس پر قوم کا اعتماد ہے۔

وہیں سہارنپور سے کانگریس کے رکن پارلیمنٹ عمران مسعود نے کہا کہ آئینی روایات پر عمل نہیں کیا جا رہا ہے۔ وقف ترمیمی بل وقف کو بچانے کے لیے نہیں بلکہ اسے تباہ کرنے کے لیے ہے۔ وہ اپنے سیاسی ایجنڈے کے حصے کے طور پر اس بل کو متعارف کروا رہے ہیں۔ رام پور سے سماج وادی پارٹی کے رکن پارلیمنٹ محب اللہ ندوی نے کہا کہ یہ بدقسمتی کی بات ہے کہ بی جے پی مسلمانوں کے مذہبی معاملہ وقف کے تصور کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ جمہوری اقدار کا خاتمہ ہے اور ہم آئین کی پاسداری نہیں کر رہے۔ ہمارے آئین کے دیباچے میں درج مساوات کو ختم کیا جا رہا ہے۔

جے پی سی میٹنگ میں ہنگامہ چیئرمین جگدمبیکا پال کا بڑا الزام ، ممتا کے ممبر پارلیمنٹ نے مجھے گالی دی

جمعہ کو دہلی میں وقف (ترمیمی) بل 2024 پر مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے پی سی) کی میٹنگ میں کافی ہنگامہ ہوا۔ حالات ایسے ہو گئے کہ مارشلز کو بلانا پڑا۔ اجلاس میں ہنگامہ آرائی کی وجہ سے اسپیکر نے جے پی سی سے اپوزیشن کے 10 اراکین پارلیمنٹ کو پورے دن کے لیے معطل کر دیا۔ جے پی سی میٹنگ میں ہنگامہ اور ممبران پارلیمنٹ کی معطلی کے بعد اب کمیٹی کے چیئرمین جگدمبیکا پال کا بڑا بیان سامنے آیا ہے۔ پال نے الزام لگایا کہ ممتا بنرجی کے ایم پی کلیان بنرجی نے ان کے ساتھ بدسلوکی کی اور غیر پارلیمانی زبان کا استعمال کیا۔جے پی سی کے چیئرمین نے مزید کہا کہ ہم اراکین پارلیمنٹ کو معطل کرنے پر مجبور ہوئے۔

جے پی سی اجلاس کا عمل آمرانہ نہیں بلکہ جمہوری طریقے سے ہے۔ جس طرح سے جے پی سی کی میٹنگ چل رہی ہے، اس طرح کی کوئی اور میٹنگ نہیں ہوئی۔ پال نے کہا کہ، کیا اپوزیشن ارکان نہیں چاہتے کہ یہ بل آئے؟ یہ لوگ 370/35A پر بھی یہی کام کرتے تھے۔ اگر حکومت کو جلدی ہوتی تو وہ بل جے پی سی کو کیوں بھیجتی؟ ٹی ایم سی ایم پی نے میرے ساتھ بدسلوکی کی۔درحقیقت وقف پر تشکیل دی گئی جے پی سی میں اپوزیشن جماعتوں کے ارکان کے ہنگامے کی اصل وجہ کمیٹی کے ارکان کا مطالبہ تھا کہ رپورٹ کو منظور کرنے کی تاریخ 31 جنوری ہونی چاہئے۔ اس سے قبل کمیٹی کی رپورٹ کی تیاری سے قبل شقوں کے ذریعے ترمیم کی شق پر بحث کے لیے 24 اور 25 جنوری کی تاریخیں مقرر کی گئی تھیں تاہم جمعرات کی رات گئے اس تاریخ کو تبدیل کر کے 27 جنوری کر دیا گیا۔

کمیٹی میں اپوزیشن جماعت کے اراکین پارلیمنٹ کا مطالبہ تھا کہ شق وار اجلاس 27 جنوری کی بجائے 31 جنوری کو منعقد کیا جائے۔ کمیٹی کے چیئرمین اپوزیشن جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ کے مطالبات کے لیے تیار نہیں تھے۔ پہلے شیڈول کے مطابق شق بہ شق میں ترمیم آج 24 جنوری کو کی جانی تھی لیکن آج میر واعظ فاروق کی سربراہی میں کشمیر کے مسلم علماء کو کمیٹی کے سامنے اپنے خیالات پیش کرنے کا موقع دیا گیا۔

متعلقہ خبریں

Back to top button