سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

حفظ ماتقدم , یورک ایسڈ-شبلی فاروق بنگلور

یورک ایسڈ جسم میں گندگی کی طرح جمع ہو جاتا ہے

آج کے دور میں یورک ایسڈ کا مسئلہ بہت عام ہو گیا ہے۔ یورک ایسڈ جسم میں گندگی کی طرح جمع ہو جاتا ہے۔ اگر خون میں یورک ایسڈ کی مقدار بڑھ جائے تو جوڑوں کے مسائل، گردے کی بیماری، ہارٹ اٹیک جیسی خطرناک بیماریاں جنم لے سکتی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یورک ایسڈ جسم میں پیورین کی ایک شکل ہے جو جسم سے پیشاب کے ذریعے خارج ہوتی ہے۔یورک ایسڈ ہمارے خون میں پایا جانے والا ایک مادہ ہے۔ یہ اس وقت بنتا ہے جب ہمارا جسم پیورین نامی کیمیکل کو توڑتا ہے۔ زیادہ تر معاملات میں یورک ایسڈ خون میں گھل مل جاتا ہے اور گردوں کے ذریعے پیشاب کے راستے جسم سے باہر نکل جاتا ہے لیکن اگر ایسی غذائیں اور مشروبات جن میں پیورین کی زیادہ مقدار ہوتی ہے خاص طور پر کلیجی، سرخ گوشت، گردے کپورے اور مغز وغیرہ کھائے جائیں تو یہ جسم میں یورک ایسڈ کی بلند سطح کا باعث بنتے ہیں۔

جب جسم میں یورک ایسڈ کی سطح بڑھ جاتی ہے تو یہ ایک بیماری کا باعث بنتا ہے جسے ہائپر یوریسیمیا کہتے ہیں۔ ہائپر یوریسیمیا کی وجہ سے جسم میں موجود یورک ایسڈ کرسٹل کی شکل میں بننے لگتا ہے۔ یہ کرسٹل جوڑوں میں جم جاتے ہیں، جس کی وجہ سے جوڑوں کے درد کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جب یہ کرسٹل گردے میں جم جاتے ہیں تو پھر اسے گردے کی پتھری کے مسئلے کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جب جسم میں یورک ایسڈ بڑھنے کے مسئلے کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ ہڈیوں، جوڑوں اور ٹشوز کو نقصان پہنچانے کے ساتھ ساتھ گردوں کے امراض اور دل کے امراض کا سبب بھی بنتا ہے۔ اس سے بچنے کے لئے طرز زندگی میں تبدیلی یعنی ورزش اور صحت مند غذا کے استعمال سے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔اس مضمون میں ہم آپ کے ساتھ کچھ ایسی چیزوں کا ذکر کریں گے جو خون میں موجود گندے یوریک ایسڈ کو فلٹر کرنے میں انتہائی مدد گار ثابت ہوتی ہیں اور اگر آپ یوریک ایسڈ بڑھنے کے مریض ہیں تو ان اشیاء کو اپنی روزانہ  کی زندگی میں Uric Acid Diet شامل کریں تاکہ یوریک ایسڈ کی بیماری سے بچے رہیں۔

کم چکنائی والی ڈیری مصنوعات: کچھ کھانے ایسے ہیں جو گھٹیا کے مرض میں مبتلا افراد کو کم کھانا چاہیے یا بالکل بند کر دینا چاہیے۔ لیکن کچھ چیزیں ایسی ہیں جو بہت فائدہ مند بھی ثابت ہوتی ہیں۔ کئی مطالعات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو لوگ کم چکنائی والی ڈیری مصنوعات کھاتے ہیں ان کے جسم میں یورک ایسڈ کی سطح کم ہوتی ہے۔ خوراک میں کیلشیم سے بھرپور غذا شامل کرنے سے ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں اور جوڑوں کے درد کا مسئلہ بھی کم ہوتا ہے اس لئے کم چکنائی والا دودھ، دہی وغیرہ لازمی استعمال کرتے رہیں۔

اومیگا تھری فیٹی ایسڈ: اومیگا تھری ایک ایسی چکنائی ہے جو ہمارے سارے جسم کی صحت کے لیے انتہائی مفید سمجھی جاتی ہے اور یہ چکنائی ہمیں سمندری کھانوں یعنی مچھلی وغیرہ سے حاصل ہونے کے ساتھ ساتھ کئی پودوں جیسے السی، اخروٹ وغیرہ میں بھی پائی جاتی ہے۔ یہاں یہ بات جاننا بھی ضروری ہے کہ کچھ سمندری کھانے جسم میں پیورین کو بڑھاتے ہیں اس لیے اگر آپ گھٹیا کے مریض ہیں اور سمندری کھانوں سے پرہیز کر رہے ہیں تو اس چکنائی کو بطور سپلیمنٹ اپنی خوراک میں شامل کر لیں۔

وٹامن سی: متعدد مطالعات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ وٹامن سی کے استعمال سے یورک ایسڈ کی سطح کو کم کیا جاسکتا ہے۔ خوراک میں وٹامن سی بڑھانے اور ایسے پھلوں جن میں وٹامن سی زیادہ ہو جیسے کینو مالٹا اور چکوترہ وغیرہ کو شامل کرنے سے جوڑوں کے درد کے مسئلے سے نجات مل سکتی ہے اور یوریک ایسڈ کو کنٹرول کرنے میں مدد ملتی ہے۔

پلانٹ فوڈز: ایسے قدرتی کھانے جو پودوں سے حاصل ہوتے ہیں وہ جیسے تازہ پھل اور سبزیاں اور ڈرائی فروٹس وغیرہ بھی اگر مناسب مقدار میں روزانہ کی خوراک میں شامل کر لیا جائے تو یہ یوریک ایسڈ سمیت کئی بیماریوں کو پیدا ہونے سے روکا جا سکتا ہے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ آپ اپنے جسم سے کتنی مشقت لیتے ہیں۔ اگر آپ روزانہ ورزش کرنے کے عادی بن جائیں تو یہ تکلیف دہ بیماریاں آپ کا کبھی بھی کچھ نہ بگاڑ پائیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button