صحت اور سائنس کی دنیا

اسباب و علاج:یورک ایسیڈ کے نقصانات -ڈاکٹر رحمت اللہ حمیدی قاسمی

یورک ایسڈ کیا ہے؟ علامات، وجوہات، نقصانات اور علاج

یورک ایسڈ کیا ہے؟

یورک ایسڈ ایک فضلہ ہے جو جسم میں پورینز کے ٹوٹنے سے بنتا ہے۔ عام حالت میں گردے اسے پیشاب کے ذریعے خارج کرتے ہیں۔ اگر یہ مقدار زیادہ ہو جائے تو خون میں جمع ہو کر مختلف بیماریوں کا باعث بنتی ہے۔

ہمارا جسمانی نظام مسلسل اپنا کام کرتا رہتا ہے یہاں تک کہ جب ہم سورہے ہوتے ہیں تب بھی یہ حرکت میں رہتا ہے جیسے دل کا دھڑکنا، جسم میں دوران خون کا عمل، نظام انہضام کا عمل، دماغ کا کام کرنا، اورسا نس کی آمدو رفت وغیرہ ہم جو بھی غذائی اشیاء کھاتے ہیں، ان میں سے وٹامنز، پروٹین، معدنیات اور کاربوہئیڈریٹ وغیرہ جسم میں جذب ہوجاتے ہیں۔ لیکن جو چیزیں جسم کے لئے مضر ہوتی ہیں انسانی جسم جذب نہیں کرتا اور ان کا قدرتی فضلہ بن جاتا ہے۔ ان فضلہ مصنوعات میں سے ایک یورک ایسڈ ہے۔ یورک ایسڈ بھی خون میں پایا جانے والا ایک قدرتی فضلہ ہے۔ یہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب جسم کیمیکلز کو توڑ دیتا ہے جسے پورینز کہتے ہیں۔

پورینز کیمیائی مرکبات ہوتے ہیں جو میٹابولائز ہونے پر یورک ایسڈ بناتے ہیں۔ پورین کاربن اور نائٹروجن ایٹموں سے بنے مالیکیول ہوتے ہیں۔ پورینز جسم میں بنتے ہیں اور ٹوٹ بھی جاتے ہیں۔ ان کے ٹوٹنے سے ہی خون میں یورک ایسیڈ فضلہ بنتاہے۔ یورک ایسڈ گھل جاتا ہے۔ زیادہ تر یورک ایسڈ پیشاب کے ذریعے جسم میں سے نکل جاتا ہے۔ اگر خوراک میں بہت زیادہ پیورین والی غذائیں استعمال کی جائیں تو خون میں یورک ایسیڈ کی مقدار کافی بڑھ جاتی ہے جسے جسم اتنی جلدی یا تیزی سے نہیں نکال پاتا اور گردے بھی اسے خارج کرنے سے قاصر ہوجاتے ہیں تو یورک ایسڈ خون میں جمع ہو سکتا ہے۔ جو گُردوں، مثانے، دل اور جگر وغیرہ کو متاثر کرتاہے اور کولیسٹرول اور شوگر کی سطح کو بھی بڑھاتا ہے۔

نقصانات

انسانی جسم میں کچھ فیصد یوریک ایسڈ تو لازمی خون میں شامل رہتاہے۔ جس کی نارمل مقدار 2.4 سے لیکر 6.0 ایم جی تک ہے۔ اگر یوریک ایسڈ لیول کی سطح 7.0 ایم جی سے زیادہ ہوجائے تو جسم کے اعضاء کو نقصان پہنچنا شروع ہوجاتا ہے۔ جیسے مثانے یا گردوں میں انفیکشن، گُردوں میں پتھری یا گردوں کا ناکارہ ہوجانا، جوڑوں میں درد، جگر کی خرابی ، کمر درد، بلڈ پریشر،امراض قلب اور فالج وغیرہ کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ جب جسم میں یورک ایسڈ کی زیادتی ہوجائے تو اسے ہائپروریسیمیا کہا جاتا ہے۔ جس سے گاؤٹ نامی بیماری پیدا ہوسکتی ہے جو شدید جوڑوں کا درد ہے۔ یورک ایسیڈ کی زیادتی سے خون اور پیشاب بھی تیزابی ہوسکتے ہیں۔عام طور پر لوگوں کو اس بات کا پتہ ہی نہیں چلتا کہ جسم میں یوریک ایسڈ بڑھ رہا ہے۔

وجوہات

یورک ایسڈ کئی وجوہات کی بنا پر جسم میں جمع ہوسکتا ہے۔ ان میں سے کچھ یہ ہیں:خوراک، موٹاپا یا زیادہ وزن ہونا، اور ذہنی دباؤ وغیرہ، بعض صحت کی خرابیاں بھی یورک ایسڈ کے اضافے کا سبب بن سکتی ہیں۔ جیسے ذیابیطس، گردوں کی بیماری، کچھ ا قسام کے کینسر یا کیموتھراپی، چنبل وغیرہ وراثتی طور پر بھی کچھ افراد میں یورک ایسڈ کی شرح زیادہ ہوتی ہے۔

پورین سے بھرپور غذائیں

جب یورک ایسیڈ کی مقدار خون میں بڑھ جائے تو جسم کے اہم اعضا متاثر ہوتے ہیں اور ان کو شدید نقصان پہنچتا ہے جو خطرناک بیماریوں کاسبب بنتا ہے۔ اس لئے ایسی غذاؤں کا استعمال اپنی روز مرہ کی خوراک میں محدود کریں تاکہ خون میں یورک ایسیڈ کی زیادتی سے محفوظ رہ سکیں۔ پورین سے بھرپورغذاؤں میں جیسے سمندری غذا مچھلی اور شیلفش، سرخ گوشت،مٹن، مغز، کلیجی، پائے، نہاری، گردے، سبزیاں، گوبھی، پالک، سبز مٹر،خشک پھلیاں، مشرومز، دالیں، خشک میوہ جات وغیرہ شامل ہیں۔ یہ تمام غذائیں ہضم ہونے پرکافی مقدار میں یورک ایسڈ خارج کرتی ہیں۔

میٹھی اشیاء مضر

عام طور پر پروٹین سے بھرپور غذاؤں کے استعمال سے یورک ایسڈ میں اضافہ ہوتا ہے۔ لیکن ایک حالیہ تحقیق کے مطابق شوگر یا میٹھی اشیاء بھی یورک ایسیڈ میں اضافے کا سبب ہے۔

شکر ملے مشروبات

میٹھے مشروبات، سوڈا، اور یہاں تک کہ تازہ پھلوں کے جوس فروکٹوز اور گلوکوز پر مشتمل چینی آرٹفیشل شگر اورجوس یا دیگر کھانوں میں چینی سے بھی یورک ایسیڈ بڑھ سکتا ہے۔ شوگر تیزی سے جسم میں جذب ہونیکی وجہ سے یہ بلڈ شوگر کی سطح کو بلند کرتی ہے اور یورک ایسڈ میں اضافے کا سبب بھی بنتی ہے۔اس کیلئے بہتر ہے کہ فائبر پر مشتمل غذاؤں کو استعمال کیاجائے۔

مفید غذائیں

کچھ ایسی غذائیں بھی ہیں جو جسم میں یورک ایسیڈ کی مقدار میں اضافہ نہیں کرتیں جیسے سیب۔سیب میں پیورین اجزاء کم مقدار میں شامل ہوتے ہیں اور اس میں شامل میلک ایسڈجسم سے یورک ایسیڈ کو باہر نکالنے میں مدد کرتا ہے۔ اسی طرح لیموں جسم سے یورک ایسیڈ کو باہر نکالنے میں بہت مدد گار ثابت ہوتا ہے کیوںکہ اس میں وٹامن سی شامل ہوتا ہے جو جسم سے یورک ایسیڈ کے کرسٹلز اور آلودگیوں کو صاف کرتا ہے۔ اجوائن میں شامل صحت مند چکنائی فیٹی ایسیڈ، یورک ایسیڈ کو جسم سے خارج کرنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہیں۔ گاجر بھی یورک ایسیڈ کے خاتمے کے لئے بہت مفید ہے۔ ان کے علاوہ ٹماٹر، سلاد کے پتے، دودھ اور دودھ سے بنی ہوئی اشیاء، پانی، پھلوں کے جوسز، تازہ پھل اور سبز سبزیاں وغیرہ یورک ایسیڈ کو جسم سے خارج کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہیں۔

پانی کا استعمال

سب سے اہم بات یہ ہے پانی زیادہ پئیں کیونکہ کافی مقدار میں پانی یا سیال پینے سے گردوں کو یورک ایسڈ کو پیشاپ کے ذریعے تیزی سے نکالنے میں مدد ملتی ہے۔ اس لئے پانی کی بوتل ہر وقت اپنے ساتھ رکھیں۔ اور وقتاً فوقتاًچند گھونٹ پانی پینے کی عادت بنائیں۔

موٹاپا

جسم میں چربی کی زیادتی وزن میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ پٹھوں کے خلیوں کی بہ نسبت چربی کے خلیے زیادہ یورک ایسڈ بنا نے کا باعث بنتے ہیں۔ اس لئے زیادہ مقدار میں گردوں کے لیے یورک ایسڈ کو فلٹر کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اسی طرح اگر بہت تیزی سے جسمانی وزن کو کم کیا جائے تو بھی یورک ایسیڈ کی سطح متاثر ہوتی ہے۔وزن کم کرنے کے لئے ڈائٹنگ سے پرہیز کریں۔ اس کے لئے کسی ماہر طبی معالج سے رجوع کریں۔تاکہ انسو لین کی سطح مناسب رہ سکے۔ ٹائپ 2 ذیابیطس والے افراد کو خون میں بہت زیادہ انسولین کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ لیکن بہت زیادہ انسولین سے نہ صرف جسمانی وزن میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ اضافی یورک ایسڈ کا سبب بھی ہے۔

فائبر والی غذائیں

فائبر پر مشتمل غذائیں یورک ایسڈ سے نجات کے لئے بہترین ہیں۔ اس سے بلڈ شوگر اور انسولین کی سطح کو نارمل رکھنے میں بھی مدد ملے گی۔ روزانہ کی خوراک میں تقریباً کم از کم 5 سے 10 گرام ریشہ یعنی فائبر اپنی خوراک میں ضرور شامل کریں۔جیسے فائبر سے بھرپور تازہ پھل اور سبزیاں کیلے، سیب، خشک پھل،تازہ، منجمد یا خشک پھل، جو، گری دار میوے۔

ذہنی تناؤ

ذہنی تناؤ بھی خون مین یورک ایسڈ کے اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔ تناؤ، نیند میں کمی، اور ورزش کی کمی سوزش میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔ سوزش یورک ایسڈ کی سطح کو بڑھاتی ہے۔اس کیلئے ورزش کی عادت کو اپنائیں اور تناؤ سے بچنے کی کوشش کریں۔

حفظان صحت ضروری

حفظان صحت کے اصولوں پر عمل کرکے یورک ایسیڈ کی زیادتی کو روکا جاسکتاہے جیسے غذا، ورزش، اور دیگر صحت مند طرز زندگی میں تبدیلیاں لا کر اس بیماری پر قابو پایا جاسکتاہے۔ سب سے پہلے تو پانی کا استعمال زیادہ کریں کیونکہ اس سے گردے فلٹر ہوتے ہیں اور یورک ایسیڈ پیشاب کے ذریعے خارج ہوجاتاہے۔ تناؤ سے خود کو محفوظ رکھیں اور بھرپوراور اچھی نیند لیں۔ ورزش کی عادت اپنائیں، متوازن خوراک کا خیال رکھیں اور ایسی غذاؤں کو زیادہ مقدار میں اپنی خوراک میں شامل کرنے سے گریز کریں جو پیورئن اجزاء پر مشتمل ہوں۔

ڈیجیٹل سکرین سے گریز کریں خاص طور پر سونے سے دو تین گھنٹے پہلے ذہن کو سکون دیں۔ اور پرسکون نیند لیں۔ کیفین والی اشیاء کا استعمال کم کریں۔ کھانے کی فہرست مرتب کریں جو غذائیں مفید ہیں اور جو غذائیں آپ کیلئے مفید نہیں ہیں اس میں انھیں درج کرلیں۔ کچھ ادویات اور سپلیمنٹس خون میں یورک ایسڈ بننے کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ جیسے اسپرین، قوت مدافعت کم کرنے والی دوائیں، کیموتھراپی ادویات اسلئے طبی معالج کی ہدایات پر عمل کریں۔٭

متعلقہ خبریں

Back to top button