بین الاقوامی خبریںسرورق

اپنے ملک کو کاٹ کر فلسطینی ریاست بنالیں: اسرائیل میں امریکی سفیر کا میکروں کو جواب

امریکہ کا دو ریاستی حل پر میکروں کے بیان پر سخت ردعمل

 واشنگٹن/پیرس، 2 جون (اردو دنیا نیوز / ایجنسیز):فرانسیسی صدر عمانوئیل میکروں کی جانب سے فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت اور دو ریاستی حل پر زور دیے جانے پر امریکہ کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ اسرائیل میں تعینات امریکی سفیر مائیک ہکابی نے اس بیان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

"فاکس نیوز ڈیجیٹل” کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ہکابی نے کہا کہ "7 اکتوبر نے سب کچھ بدل دیا ہے، اور ایسے وقت میں جب اسرائیل ایک سنگین جنگ کا سامنا کر رہا ہے، فرانسیسی صدر کی ایسی باتیں کرنا جنہیں اسرائیل تسلیم نہیں کرتا، مکمل طور پر نامناسب ہے۔”

انہوں نے طنز کرتے ہوئے کہا:

"اگر فرانس واقعی ایک فلسطینی ریاست چاہتا ہے تو فرانسیسی ریویرا کا کچھ حصہ کاٹ کر وہاں ایک فلسطینی ریاست قائم کرے، ہم اس کا خیرمقدم کریں گے۔ لیکن اسرائیل پر اس قسم کا سیاسی دباؤ ڈالنا نا قابل قبول اور گھنانا ہے۔”

یہ بیان اس وقت آیا ہے جب صدر میکروں نے سنگاپور میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ اگر اسرائیل نے غزہ کی تباہ کن انسانی صورتحال کا سنجیدہ نوٹس نہ لیا تو یورپی ممالک کو اسرائیل کے خلاف اپنا اجتماعی رویہ سخت کرنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پیرس ایک سیاسی حل تک پہنچنے کے لیے پرعزم ہے اور دو ریاستی حل کی حمایت ان کا "اخلاقی فرض” اور "سیاسی تقاضا” ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

ادھر بین الاقوامی دباؤ کے باعث اسرائیل نے گزشتہ ہفتے غزہ پر 11 ہفتوں سے جاری سخت ناکہ بندی میں جزوی نرمی کی، جس کے تحت انتہائی محدود انسانی امداد کی اجازت دی گئی۔

ماہرین اور سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ میکروں کی قیادت میں فرانس جلد ہی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا امکان رکھتا ہے، جو اسرائیل کو برہم کر سکتا ہے اور یورپی اتحاد میں اختلاف پیدا کر سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق فرانس اور سعودی عرب رواں ماہ 17 سے 20 جون کے درمیان اقوام متحدہ کے تحت ایک اہم کانفرنس کی میزبانی کر رہے ہیں جس کا مقصد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ایک جامع روڈ میپ تیار کرنا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button