نیویارک،9ستمبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکی وزیر خارجہ اینٹنی بلنکن Antony Blinken نے طالبان پر زور دیا کہ افغانستان سے چارٹر پروازوں کو روانہ ہونے کی اجازت دی جائے، چونکہ طیارے جن پر امریکی اور غیر محفوظ افغان باشندے سوار ہیں وہ اطلاعات کے مطابق مزار شریف کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر پھنسے ہوئے ہیں۔
جرمن وزیرخارجہ ہائکو ماس کے ہمراہ جرمنی کے رامسٹائین ایئر بیس پر ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے، بلنکن نے کہا کہ اس وقت طالبان چارٹر فلائٹس کو روانہ ہونے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔
اردودنیا ایپ انسٹال کے لیے کلک کریں
ان کا دعویٰ ہے کہ کچھ مسافروں کے پاس درکار دستاویزات موجود نہیں ہیں۔امریکہ کے اعلیٰ ترین سفارت کار کے بقول حاصلِ کلام یہ ہے کہ ان چارٹر فلائٹس کو افغانستان سے روانہ ہونے دیا جائے۔ اور ہم ہر روز یہی کوشش کریں گے کہ یہ بات یقینی بنائی جائے کہ جانے والوں کو روانہ ہونے دیا جائے۔
اطلاعات کے مطابق امریکی شہری اور پریشان حال افغان باشندے شمالی افغانستان میں واقع مزار شریف میں پھنس کر رہ گئے ہیں، جب کہ دوسری جانب بیرون ملک جانے والی پروازوں کے منتظمین نے امریکی محکمہ خارجہ پر الزام لگایا ہے کہ وہ ان کی روانگی کی سہولت کی فراہمی کے لیے درکار تگ و دو نہیں کر رہا ہے۔
ایک ٹوئٹ میں ڈیموکریٹ پارٹی کے سینیٹر، رچرڈ بلومنتھل نے کہا ہے کہ مجھے انتہائی مایوسی ہوئی ہے، یہاں تک کہ میں اپنی حکومت کی جانب سے تاخیر اور عمل سے عاری ہونے پر سخت برہم ہوں۔ افسر شاہی کی جانب سے سرخ فیتے کے ناقابل معافی عمل کے احتساب کے لیے کافی وقت پڑا ہوا ہے؛ لیکن اس وقت اس بات کو اہمیت دینے کی ضرورت ہے کہ ہمارے متعدد افغان اتحادی پھنس کر رہ گئے ہیں۔
اپنے بین الاقوامی پارٹنرز کے ساتھ مل کر امریکہ طالبان پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ ملک سے باہر جانے والے افراد کو بحفاظت انخلا کی اجازت دیں اور جو کوئی بھی افغانستان سے جانا چاہے، اسے آزادانہ سفر کی سہولت فراہم کرنے کا عہد پورا کیا جائے۔امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق امریکہ اس وقت مخصوص افراد اور طالبان کے ساتھ براہ راست رابطے میں ہے، تاکہ سرحد پار سفر کی سہولت کو یقینی بنایا جاسکے۔
بلنکن اور ماس نے افغانستان کی صورت حال پر اپنے پارٹنرز کے گروپ اور اتحادیوں کے ساتھ مذاکرات کیے جن میں طالبان کی جانب سے اقتدار سنبھالنے کے بعد ملک کی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد فراہم کرنے کی کوششیں جاری رکھنے پر زور دیا گیا۔
طالبان نے200 امریکی اور غیر ملکیوں کو ملک چھوڑنے کی اجازت دے دی: رپورٹ
طالبان نے دو سو امریکیوں سمیت دیگر غیر ملکی شہریوں کو افغانستان چھوڑنے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ بات ایک امریکی عہدیدار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتائی۔ امریکی اہلکار کے مطابق یہ وہ شہری ہیں جو افغانستان سے غیر ملکی شہریوں اور مقامی عملے کے انخلا کا آپریشن مکمل ہونے کے بعد پیچھے رہ گئے تھے۔
ان کی روانگی متوقع ہے۔ اس کے علاوہ ان افراد کی روانگی کے سلسلے میں افغانستان کے لیے امریکا کے خصوصی مندوب زلمے خلیل زاد نے طالبان پر دباؤ ڈالنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ آیا یہ غیر ملکی شہری مزار شریف میں چارٹر فلائٹ کو روکے جانے کی وجہ سے پھنس گئے تھے یا نہیں۔



