بین الاقوامی خبریںسرورق

امریکی عدالتوں نے 43 سال بعد بے گناہ ثابت ہونے والے بھارتی نژاد سبرا منیم ویدم کی ملک بدری روک دی

"43 سال جیل کاٹنے کے بعد اب ملک بدری ایک اور ظلم ہوگا" — سبرا منیم ویدم کی بہن

واشنگٹن: (اردو دنیا نیوز / ایجنسیز)امریکی عدالتوں نے بھارتی نژاد سبرا منیم ویدم کی ملک بدری پر عارضی طور پر روک لگادی ہے، جو 43 سال ایک قتل کے جھوٹے الزام میں جیل میں گزارنے کے بعد بالآخر بے گناہ ثابت ہوئے۔

64 سالہ ویدم کو حال ہی میں پنسلوانیا کی عدالت نے بری کیا، مگر اسی دن امریکی محکمہ امیگریشن نے انہیں حراست میں لے کر بھارت ڈی پورٹ کرنے کی کارروائی شروع کر دی۔ تاہم اب دو امریکی عدالتوں نے اس فیصلے پر عارضی پابندی عائد کر دی ہے۔

’ایسوسی ایٹڈ پریس AP‘ کے مطابق، ایک امیگریشن جج نے گزشتہ ہفتے ویدم کی ملک بدری پر روک لگاتے ہوئے کہا کہ جب تک امیگریشن اپیل بورڈ یہ طے نہیں کر لیتا کہ وہ کیس کا جائزہ لے گا یا نہیں، انہیں ڈی پورٹ نہیں کیا جا سکتا۔ اسی دن پنسلوانیا کی ضلعی عدالت نے بھی ملک بدری پر اسٹے آرڈر جاری کیا۔

1980 کے قتل کیس میں غلط سزا

ویدم کو 1982 میں اپنے دوست تھامس کنسر کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ 19 سالہ کنسر دسمبر 1980 میں لاپتہ ہو گیا تھا اور نو ماہ بعد اس کی نعش جنگل سے برآمد ہوئی۔ پولیس کے مطابق کنسر کو آخری بار ویدم کے ساتھ دیکھا گیا تھا۔

1983 میں ویدم کو عمر قید کی سزا سنائی گئی، ساتھ ہی منشیات کے ایک پرانے کیس میں اضافی سزا بھی دی گئی۔ ان کے وکلاء کا کہنا تھا کہ مقدمہ حالاتی شواہد پر مبنی تھا، نہ کوئی گواہ تھا، نہ کوئی واضح مقصد اور نہ ہی کوئی ٹھوس ثبوت۔

چھپائے گئے شواہد نے بدل دی تقدیر

اس سال اگست 2025 میں ایک عدالت نے ان کی سزا اس وقت کالعدم قرار دی جب انکشاف ہوا کہ استغاثہ نے اہم بیلسٹک شواہد چھپائے رکھے تھے۔ عدالت کے مطابق اگر یہ ثبوت پہلے سامنے آتے تو ویدم کبھی مجرم قرار نہ پاتے۔

رہائی کے بعد، امیگریشن حکام نے انہیں فوری طور پر لوزیانا کے ایک حراستی مرکز میں منتقل کر دیا، جو ملک بدری کی پروازوں کے لیے مخصوص ہوائی اڈے کے قریب واقع ہے۔

"ایک اور ظلم نہ ہو” — ویدم کی بہن

ویدم کی بہن سراسوتی ویدم نے عدالت کے فیصلے پر اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا،”ہمارا بھائی 43 سال ایک جھوٹے الزام میں جیل میں رہا۔ اب اگر اسے بھارت بھیجا گیا تو یہ انصاف نہیں بلکہ ایک اور ظلم ہوگا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ ویدم نے جیل میں رہتے ہوئے تین ڈگریاں حاصل کیں، تعلیم دی اور دیگر قیدیوں کو بہتر زندگی کے لیے تیار کیا۔ ان کے والد 2009 میں اور والدہ 2016 میں انتقال کر گئے تھے، اور وہ اب امریکہ میں اپنے خاندان کے ساتھ زندگی ازسرنو شروع کرنا چاہتے ہیں۔

امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ قتل کی سزا کالعدم ہونے کے باوجود، پرانا منشیات کیس برقرار ہے اور اسی بنیاد پر ملک بدری ممکن ہے۔ تاہم ویدم کے وکلاء نے دلیل دی کہ چار دہائیوں کی قید خود کسی بھی جرم سے بڑی سزا ہے، لہٰذا حکومت کو انسانی بنیادوں پر فیصلہ لینا چاہیے۔

ویدم کا کیس ایک بار پھر امریکی عدالتی نظام میں خامیوں، امیگریشن پالیسیوں اور غلط سزاؤں کے سنگین پہلوؤں کو نمایاں کر رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button