امریکی فوجی قیادت میں بڑی تبدیلیاں: وزیرِ دفاع نے مزید سینئر افسران برطرف کر دیے
وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے مزید دو سینئر فوجی افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا،
واشنگٹن 03 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) امریکہ میں فوجی قیادت کے اعلیٰ حلقوں میں غیر معمولی ہلچل اس وقت دیکھنے میں آئی جب وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے مزید دو سینئر فوجی افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا، جس کے بعد پینٹاگون کے اندر بے چینی اور خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق برطرف کیے جانے والے افسران میں جنرل ڈیوڈ ایم ہوڈن اور میجر جنرل ولیم گرین جونیئر شامل ہیں۔ ان فیصلوں نے امریکی فوج کے اندر جاری قیادت کی تبدیلیوں کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔
جنرل ڈیوڈ ایم ہوڈن حال ہی میں ترقی پانے والے سینئر افسران میں شمار ہوتے تھے اور وہ آرمی کے ٹرانسفارمیشن اینڈ ٹریننگ کمانڈ کی قیادت کر رہے تھے، جو فوج کی جدید کاری اور مستقبل کی جنگی حکمتِ عملی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
دوسری جانب میجر جنرل ولیم گرین جونیئر امریکی فوج کے اعلیٰ ترین چیپلین کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے اور فوجی اہلکاروں کی مذہبی و اخلاقی رہنمائی کے ذمہ دار تھے۔
اس سے قبل آرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی جارج کو بھی ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا، حالانکہ یہ منصب عمومی طور پر چار سالہ مدت کے لیے مقرر کیا جاتا ہے۔ رینڈی جارج ایک تجربہ کار فوجی افسر تھے، جنہیں 2023 میں سابق صدر جو بائیڈن نے اس عہدے کے لیے نامزد کیا تھا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق حالیہ برطرفیوں کا سلسلہ امریکی فوج کی پالیسیوں، حکمت عملی اور اندرونی نظم و ضبط پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔
واضح رہے کہ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ گزشتہ 14 ماہ کے دوران 26 سے زائد جنرلز اور ایڈمرلز کو عہدوں سے ہٹا چکے ہیں، جس نے فوجی قیادت کے اندر عدم استحکام اور تشویش کو جنم دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس تیزی سے ہونے والی تبدیلیوں سے نہ صرف فوجی اداروں کے اندر اعتماد متاثر ہو سکتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی امریکی دفاعی پالیسیوں کے بارے میں سوالات اٹھ سکتے ہیں۔



