بین الاقوامی خبریںسرورق

امریکی انتخابات: ڈونلڈ ٹرمپ ریپبلکن صدارتی امیدوار

سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ واحد امریکی صدر ہیں جن کا دو بار مواخذہ کیا گیا

واشنگٹن، 19جولائی:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ واحد امریکی صدر ہیں جن کا دو بار مواخذہ کیا گیا ہے اور وہ واحد صدر ہیں جنہیں فوجداری جرائم کا مرتکب قرار دیا گیا۔ انہیں جیل کی ممکنہ سزا اور مزید دو فرد جرم کا سامنا ہے، جن دونوں میں ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انہوں نے2020 کے انتخابات میں اپنی شکست کو تبدیل کرنے کی کوشش کی تھی۔لیکن ٹرمپ، جو اب 78 سال کے ہیں، مسلسل تیسرے صدارتی االیکشن کے لیے نامزد ریپبلکن صدارتی ہیں۔ وہ جمعرات کی شب کو ریپبلکن نیشنل کنونشن میں اس نامزدگی کو قبول کریں گے۔اور وہ نومبر میں صدارتی انتخاب میں، وائٹ ہاؤس میں دوسری، غیر مسلسل، چار سالہ مدت کے لیے منتخب ہونے والے دوسرے امریکی صدر بن سکتے ہیں۔1800 کی دہائی کے اواخر میں گروور کلیولینڈ کے یہ کامیابی حاصل کرنے کے بعد سے کوئی اور اس میں کامیاب نہیں ہو سکا۔

ڈیموکریٹس ٹرمپ کو پسند نہیں کرتے لیکن ٹرمپ کے لاکھوں حامی ان سے محبت کرتے ہیں جنہوں نے 2016 میں امریکہ کو دوبارہ عظیم بنانے کے ان کے وعدے پر انہیں ووٹ دیا تھا۔ ان میں سے بہت سے لوگ اب بھی ان کے اس غلط دعوے پر یقین رکھتے ہیں کہ، تمام عدالتی نتائج کے برعکس، چار سال قبل دوسری مدت کے لیے انتخاب میں ان سے دھوکہ کیا گیا تھا۔

رئیل اسٹیٹ کے سابق ٹائیکون اور رئیلٹی شو کے میزبان، ٹرمپ نے خود بعض اوقات، تقریباً لاپرواہی میں یہ تسلیم بھی کیا ہے کہ وہ گزشتہ الیکشن نہیں جیتے تھے لیکن وہ اکثر یہی کہتے ہیں کہ وہ صرف اس لیے ہارے تھے کہ ووٹ میں اور ووٹوں کی گنتی میں ان کیخلاف دھاندلی کی گئی تھی۔اب، رائے عامہ کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ اور صدر جو بائیڈن کے درمیان بظاہر سخت مقابلہ ہے۔ بائیڈن نے جو ڈیموکریٹ ہیں، انہیں 2020 میں معمولی فرق سے شکست دی تھی، جب کہ 5 نومبر کے انتخابات کا فیصلہ کرنے والی، سخت مقابلے کی حامل متعدد ریاستوں میں وہ بائیڈن سے معمولی لیکن مستقل طور پر آگے ہیں۔رائے عامہ کے جائزوں سے پتہ چلتا ہے کہ بہت سے رائے دہندگان کے خیال میں ٹرمپ نے امریکی معیشت کو جو دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے، جو بائیڈن سے زیادہ بہتر مینیج کیا، اور وہ میکسیکو کے ساتھ امریکہ کی جنوب مغربی سرحد کے پار سے امریکہ میں غیر قانونی تارکین وطن کے داخلی کو روکنے میں زیادہ سخت اور زیادہ کامیاب تھے۔

ٹرمپ نے اپنے ووٹروں سے وعدہ کیا ہے کہ وہ 2020 کے انتخابات میں شکست کا بدلہ لیں گے اور کہا ہے کہ وہ ایک آمر ثابت ہوں گے، لیکن صرف نئی صدارتی مدت کے پہلے دن۔ٹرمپ نے قدامت پسند مبصر، شان ہینٹی سے بات کرتے ہوئے کہا،”ہم میکسیکو کے ساتھ سرحد بند کر رہے ہیں اور ہم ڈرلنگ، ڈرلنگ، ڈرلنگ کر رہے ہیں۔ اس کے بعد، میں ایک آمر نہیں ہوں گا، ٹھیک ہے؟ٹرمپ کہتے ہیں کہ وہ منشیات کے گروہوں سے لڑنے کے لیے امریکی فوجی میکسیکو بھیجنا چاہتے ہیں لیکن ساتھ ہی انہوں نے حکومتی پالیسیوں کے خلاف، ڈیموکریٹک کنٹرول والے امریکی شہروں میں وقتاً فوقتاً پھوٹنے والے احتجاج کو روکنے کے لیے بھی، فوجی بھیجنے کی بات کی۔ملک کی 248 سالہ تاریخ میں بائیڈن-ٹرمپ مقابلے کی صورت میں ایسا ساتویں مرتبہ ہوگا کہ ایک ہی امیدوار مسلسل انتخابات میں ایک دوسرے کے مدمقابل ہوئے ہیں، لیکن 1956 کے بعد ایسا پہلی مرتبہ ہو رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button