امریکی انتخابات: ایکس پر سیاسی پیغامات کی اجازت ماحول تلخ تو نہ کردے گی؟
ایکس(سابق ٹوئٹر) کے مالک ایلون مسک نے اس پلیٹ فارم پر سیاسی پیغامات پر عائد پابندی ختم کردی
واشنگٹن ،31اگست:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) ایکس(سابق ٹوئٹر) کے مالک ایلون مسک نے اس پلیٹ فارم پر سیاسی پیغامات پر عائد پابندی ختم کردی ہے۔ ارب پتی مسک نے ٹوئٹر خریدتے ہوئے یہ پابندی عائد کی تھی تاکہ غلط معلومات کا سلسلہ روکا جا سکے۔ایکس پر سیاسی پیغامات کی دوبارہ اجازت دیے جانے سے ایک ہفتہ سے بھی کم عرصہ پہلے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوری 2021 کے بعد پہلی مرتبہ اس پر کچھ پوسٹ کیا تھا۔اور وہ تھا ان کا مگ شاٹ جو جارجیا میں ان کی گرفتاری کے بعد لیا گیا تھا۔ اور اس کے ساتھ ہی ٹرمپ اس پلیٹ فارم پر واپس آئے جو وائٹ ہاؤس میں ان کے اقتدار کے دنوں میں ان کا محبوب پلیٹ فارم تھا۔آخری دفعہ ٹرمپ نے اس وقت کے ٹوئٹر پر کچھ اس وقت پوسٹ کیا تھا جب چھ جنوری کو، جو بائیڈن کی امریکہ کے صدر کی حیثیت سے توثیق کی مخالفت کے لیے، واشنگٹن میں ان کے حامیوں کے کیپیٹل ہل پر ہلہ بولنے کو کچھ روز کا عرصہ ہو گیا تھا۔
تب ٹوئٹر نے ٹرمپ پر یہ کہتے ہوئے یہ پلیٹ فارم استعمال کرنے پر پابندی عائد کر دی تھی کہ انہوں نے اپنے ان غلط دعوؤں پر اصرار کرتے ہوئے کہ الیکش ان سے چرا لیا گیا، تشدد کی حمایت نہ کرنے کی ٹوئٹر کی پالیسی کی خلاف ورزی کی ہے۔واضح رہے کہ ٹرمپ نے چھ جنوری کے ہنگاموں سے پہلے اپنے حامیوں سے خطاب کیا تھا جس کے بارے میں بعض لوگوں کا خیال ہے کہ اس میں کہی گئی بعض باتوں سے لوگوں کو کیپیٹل ہل پر چڑھ دوڑنے کی ترغیب ملی۔ایلون مسک نے ٹوئٹر کو گزشتہ برس خرید لیا تھا۔ اور نومبر 2022 میں اس پلیٹ فارم پر ٹرمپ کی رسائی بحال کر دی تھی۔لیکن سابق صدر ٹرمپ ٹوئٹر سے دور ہی رہے اور اس کے بجائے اپنے ذاتی پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل کے ذریعے اپنے حامیوں سے رابطہ کرتے رہے حالانکہ اس پلیٹ فارم کے صارفین کی تعداد کہیں کم ہے۔سابقہ ٹوئٹر اور موجودہ ایکس نے اپنی ایک بلاگ پوسٹ میں وضاحت کی ہے کہ امریکہ میں سیاسی اشتہارات کی اجازت دینے کا مقصد آزادی اظہار کے اپنے وعدے کو فروغ دینا ہے۔
ایکس کی پالیسی تبدیل :صارفین کو اب بائیو میٹرک، ملازمت اور تعلیمی کارکردگی بھی فراہم کرنے ہوں گے
دنیا کی امیر ترین شخصیت، ٹیسلا اور ایکس کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر ایلون مسک اب آپ کے بائیو میٹرک، ملازمت اور تعلیمی کارکردگی سے متعلق بھی جاننا چاہتے ہیں۔مختلف سوشل میڈیا سائٹس کی جانب سے صارفین کا ڈیٹا اکٹھا کرنے کے لیے اِن کا نام، تاریخِ پیدائش، جنس وغیرہ کی تفصیلات طلب کرنا معمول کی بات ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ ایلون مسک ڈیٹا اکٹھا کرنے کی دوڑ میں ایک قدم آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایکس (ٹوئٹر) نے ڈیٹا اکٹھا کرنے کی پالیسی تبدیل کر لی ہے جس کے بعد اب ایکس صارفین کو ایپلیکیشن پر اکاؤنٹ بنانے اور استعمال کرنے کے لیے اپنے بائیومیٹرکس، ملازمت اور تعلیمی کارکردگی سے متعلق بھی معلومات فراہم کرنا ہوں گی۔ٹوئٹر، جسے اب X کہا جاتا ہے، نے اپنی پرائیویسی کی پالیسی کو اپ ڈیٹ کیا ہے جس کے بعد اب ایکس اپنے صارفین کی بائیو میٹرکس، ملازمت اور تعلیم سے متعلق معلومات بھی اپنے پاس جمع کرے گا۔
بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق کمپنی، ایکس کی اپ ڈیٹ کردہ نئی پرائیویسی پالیسی میں کہا گیا ہے ’آپ کی رضامندی کی بنیاد پر ہم آپ کی بائیومیٹرک معلومات کو حفاظت اور شناخت کے مقاصد کے لیے جمع اور استعمال کر سکتے ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بائیو میٹرک معلومات کے علاوہ، سوشل میڈیا سائٹ ایکس اب صارف کی ملازمت اور ماضی میں تعلیمی کارکردگی سے متعلق بھی پوچھ سکتی ہے۔دوسری جانب ایکس کا اپنے صارفین سے پرائیویسی کی تبدیلی سے متعلق کہنا ہے کہ ’ہم آپ کی ذاتی معلومات (جیسے کہ آپ کی ملازمت، ماضی میں تعلیمی کارکردگی، روزگار کی ترجیحات، مہارت اور قابلیت، ملازمت کی تلاش کی سرگرمیوں اور مشغولیت وغیرہ) کو جمع اور استعمال کر سکتے ہیں تاکہ آپ کو ممکنہ ملازمتوں کی تجویز دی جا سکے۔ایکس کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنے صارفین کا ڈیٹا اس لیے جمع کر رہے ہیں تاکہ وہ ملازمت ڈھونڈنے والے ایکس صارفین کو ملازمت سے متعلق مناسب اشتہارات دکھا سکیں اور ملازمت دینے والی کمپنیز اور ایکس صارفین کے بیچ میں حائل مسائل اور فاصلے کو کم کر سکیں۔یاد رہے کہ ایکس (ٹوئٹر) کی پرانی پالیسی جو 29 ستمبر تک نافذ تھی، اس پالیسی کے تحت صارفین سے بائیو میٹرک ڈیٹا، ملازمت اور ملازمت سے متعلق ماضی کی معلومات نہیں مانگی جا رہی تھیں۔



