
ایشیا بحرالکاہل میں واحد امریکی جنگی بحری بیڑے کو مشرق وسطی بھجوائے جانے کا امکان
نیویارک:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) امریکہ کے وزیر دفاع لائیڈ آسٹن، جمعرات کو متوقع طور پر ایشیا بحرالکاہل میں موجود جنگی جہازوں والے واحد بحری بیڑے کو مشرق وسطی کی طرف لے جانے کی منظوری دے رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، یوکوسوکا، جاپان میں موجود یو ایس ایس رونلڈ ریگن نامی اس بحری بیڑے کو عام طور پر بحرالکاہل کے ارد گرد ہی تعینات کیا جاتا ہے۔ حکام کے مطابق تازہ ترین نقل و حرکت کا مقصد افغانستان سے امریکی فوجوں کے انخلا میں مدد فراہم کرنا ہے۔
یو ایس ایس رونلڈ ریگن بیڑے کے اس نئے مشن کا مطلب ہے کہ امریکہ کا بحرالکاہل میں کوئی بیڑا موجود نہیں ہوگا، کم از کم اس وقت تک جب تک کہ یہ بیڑہ دوسرے مشن پر رہتا ہے۔ لیکن اس عرصے میں برطانیہ کے ایچ ایم ایس کوئین الزبتھ ائیرکرافٹ کیرئیر پر امریکہ کی سینکڑوں کشتیاں اور مرکزی میرین کور کے دس ایف۔35 طیارے موجود ہوں گے، جو اس وقت بحرالکاہل کی طرف سفر کر رہا ہے۔
یو ایس این آئی نیوز کے مطابق، سال دو ہزار تین کے بعد ایسا پہلی بار ہو گا جب جاپان میں موجود امریکہ کا سٹرائیک گروپ اور فضائی ونگ مشرق وسطی سے کام کرے گی۔ اس وقت یو ایس ایس ہاک کو جسے اب امریکہ کے کمیشن کیرئرز میں سے نکال لیا گیا ہے، خلیج فارس میں تعینات گیا گیا تھا تاکہ وہ عراق جنگ میں فضائی کارروائیوں میں مدد فراہم کر سکے۔



