بین الاقوامی خبریں

امریکہ کا گرین کارڈ نظام بدلنے کی تیاری، بھارتی پروفیشنلز متاثر ہونے کا خدشہ

پوائنٹس بیسڈ نظام متعارف کرانے کی تجویز، موجودہ گرین کارڈ درخواستیں اور طویل انتظار کرنے والے تارکین وطن متاثر ہوسکتے ہیں

واشنگٹن، 25 ستمبر (اردو دنیا نیوز/ایجنسیز): امریکہ میں روزگار کی بنیاد پر گرین کارڈ حاصل کرنے کے موجودہ نظام میں بڑی تبدیلی کی تجویز سامنے آئی ہے۔ نئے مجوزہ قانون کے تحت employment-based green card نظام کو ختم کرکے پوائنٹس پر مبنی نیا طریقہ کار متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے باعث امریکہ میں مستقل رہائش کے منتظر غیر ملکی پروفیشنلز، خصوصاً بھارتی کارکنوں، کے لیے صورتحال تبدیل ہوسکتی ہے۔

الاباما کے ریپبلکن سینیٹر ٹامی ٹیوبرول کی جانب سے پیش کیے گئے Americans First Immigration Act میں موجودہ روزگار پر مبنی گرین کارڈ کیٹیگریز کی جگہ ایک پوائنٹس بیسڈ نظام قائم کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ بل کے متن کے مطابق نئے نظام میں امیدواروں کا انتخاب ان کی تعلیم، تنخواہ، انگریزی زبان کی مہارت، عمر، فوجی خدمات اور غیر معمولی کامیابیوں سمیت مختلف عوامل کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

مجوزہ قانون کے تحت ہر سال دنیا بھر کے لیے 192,000 پوائنٹس بیسڈ امیگرنٹ ویزے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ امیدوار کے لیے امریکہ میں حقیقی ملازمت کی پیشکش ہونا ضروری ہوگی، جبکہ عمر 18 سے 51 سال کے درمیان ہونا اور انگریزی زبان کے امتحان میں مقررہ معیار حاصل کرنا بھی لازمی ہوگا۔ درخواست گزار کو کم از کم 16 پوائنٹس حاصل کرنا ہوں گے۔

نئے نظام میں زیادہ تنخواہ والی ملازمتوں اور اعلیٰ تعلیمی قابلیت رکھنے والے افراد کو اضافی پوائنٹس مل سکیں گے۔ امریکی ڈگری نہ رکھنے والے بعض امیدواروں کے لیے ملازمت کی پیشکش متعلقہ ریاست کی median wage کے کم از کم 200 فیصد کے برابر ہونا ضروری ہوگا، جبکہ مخصوص امریکی ڈگری رکھنے والوں کے لیے یہ حد 150 فیصد مقرر کرنے کی تجویز ہے۔

بل میں امریکی کمپنیوں کے لیے بھی سخت شرائط رکھی گئی ہیں۔ ملازمت کے لیے غیر ملکی امیدوار کو منتخب کرنے سے پہلے کمپنی کو امریکی کارکنوں کی بھرتی کی کوشش کرنا ہوگی۔ اس کے علاوہ مساوی نوعیت کی ملازمتوں میں امریکی کارکنوں کو مخصوص مدت کے دوران ملازمت سے فارغ کرنے پر بھی پابندی کی تجویز شامل ہے۔

مجوزہ قانون کا ایک اہم حصہ پہلے سے موجود employment-based green card درخواستوں سے متعلق ہے۔ بل کے مطابق نئے نظام کے نافذ ہونے پر متعدد زیرِ التوا employment-based petitions کے حوالے سے موجودہ طریقہ کار ختم ہوسکتا ہے۔ ایسی petitions کی بنیاد پر adjustment of status یا immigrant visa کی درخواستیں مسترد یا غیر مؤثر قرار دیے جانے کی شق بھی شامل ہے۔

جن افراد کی petitions نئے قانون کے نفاذ سے پہلے منظور ہوچکی ہوں، ان کے لیے بھی عبوری انتظامات تجویز کیے گئے ہیں۔ تاہم موجودہ کیٹیگری کے سالانہ ویزا کوٹے کے مکمل ہونے کے بعد مزید ویزے جاری نہ کیے جانے کی شق ان افراد کے لیے اہم ہوسکتی ہے جو پہلے ہی گرین کارڈ کے طویل انتظار میں ہیں۔

یہ معاملہ بھارتی پروفیشنلز کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے کیونکہ امریکہ میں بڑی تعداد میں بھارتی ٹیکنالوجی ماہرین، انجینئرز، مینجمنٹ پروفیشنلز اور دیگر ہنرمند افراد روزگار کی بنیاد پر مستقل رہائش کے منتظر ہیں۔ نئے نظام میں موجودہ انتظار کے بجائے امیدواروں کی اہلیت اور پوائنٹس کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی۔

سینیٹر ٹیوبرول کا کہنا ہے کہ موجودہ امیگریشن نظام میں امریکہ آنے والے افراد کی صلاحیتوں اور معاشرے میں ان کے ممکنہ کردار کو جانچنے کا عمل کافی نہیں ہے۔ ان کے مطابق نئے نظام کا مقصد ایسے افراد کو ترجیح دینا ہے جو امریکی قوانین کی پابندی کریں اور ملکی معیشت و معاشرے میں حصہ ڈالیں۔

بل میں صرف روزگار پر مبنی امیگریشن ہی نہیں بلکہ دیگر امیگریشن پروگراموں میں بھی تبدیلیاں تجویز کی گئی ہیں۔ ان میں Diversity Visa Lottery کو ختم کرنا اور family-sponsored immigration کے دائرے کو محدود کرنا شامل ہے۔ تجویز کے مطابق مستقبل میں خاندانی امیگریشن کے بعض موجودہ راستے ختم ہوسکتے ہیں، جن میں والدین، بہن بھائیوں اور بالغ بچوں کے لیے موجودہ راستے بھی شامل ہیں۔

مجوزہ قانون کے تحت ایسے غیر مستقل رہائشی تارکین وطن کے لیے امریکی تعلیمی اداروں میں کم از کم out-of-state طلبہ کے برابر ٹیوشن اور فیس ادا کرنے کی شرط بھی رکھی گئی ہے۔ جو تعلیمی ادارے اس شرط کی خلاف ورزی کریں گے، ان پر بین الاقوامی طلبہ کو داخلہ دینے کے حوالے سے پابندیاں عائد کیے جانے کی تجویز ہے۔

تاہم یہ بات اہم ہے کہ یہ قانون ابھی صرف ایک مجوزہ بل ہے۔ اس کے حتمی قانونی اثرات کا انحصار کانگریس میں ہونے والی کارروائی، ممکنہ ترامیم اور منظوری کے بعد قانون کی حتمی شکل پر ہوگا۔ اس لیے فی الحال موجودہ گرین کارڈ نظام میں فوری تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔

اگر یہ تجاویز قانون کی شکل اختیار کرتی ہیں تو امریکہ میں employment-based immigration کا طریقہ کار نمایاں طور پر تبدیل ہوسکتا ہے اور موجودہ ویزا قطار میں شامل افراد سمیت مستقبل کے درخواست گزاروں کے لیے اہلیت کے معیار بھی مختلف ہوسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button