امریکہ میں غیر ملکی شہریوں کی تصویر لینے کا نیا قانون نافذ
ٹرمپ انتظامیہ کی سخت امیگریشن پالیسی کا حصہ
واشنگٹن:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) امریکہ نے غیر ملکی شہریوں کے لیے ایک نیا ضابطہ متعارف کرایا ہے جس کے تحت ملک میں داخل ہونے یا نکلنے والے ہر غیر ملکی کی تصویر لی جائے گی۔ امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن (CBP) نے یہ تجویز فیڈرل رجسٹر میں جاری کی ہے، جس کا مقصد قومی سلامتی کو مضبوط بنانا اور غیر قانونی ہجرت پر قابو پانا ہے۔
نئی پالیسی کے مطابق، امریکہ میں داخل ہونے یا ملک چھوڑنے والے تمام غیر ملکی چاہے وہ گرین کارڈ ہولڈر ہوں، ویزا پر آئے مسافر ہوں یا غیر قانونی طور پر مقیم افراد سب کی تصویر لی جائے گی۔
CBP کے مطابق، یہ قدم جعلی سفری دستاویزات اور دہشت گرد خطرات سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے۔ ایجنسی نے واضح کیا کہ مسافروں کی بایومیٹرک معلومات، یعنی چہرے کی تصویر اور فنگر پرنٹ، داخلے اور خروج کے وقت مطابقت کے لیے استعمال کی جائیں گی تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی مسافر ویزا کی مدت سے زیادہ قیام نہ کرے۔
ایجنسی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ چہرہ پہچاننے والی جدید ٹیکنالوجی اب پہلے سے زیادہ تیز اور درست ہے، جس سے یہ نظام مؤثر انداز میں نافذ ہو سکے گا۔ اس ٹیکنالوجی کے ذریعے CBP ایک ڈیجیٹل فوٹو گیلری تیار کرے گی، جس میں پاسپورٹ، سفری دستاویزات اور سرحد پر لی گئی تصاویر شامل ہوں گی، اور انہیں حقیقی وقت میں لی گئی نئی تصاویر سے موازنہ کیا جائے گا۔
نئی پالیسی 26 دسمبر 2025 سے نافذ ہوگی۔ اس کے بعد امریکی سرحدی اہلکار ہر غیر ملکی شہری کی تصویر ملک چھوڑتے وقت لے سکیں گے، اور اگر ضرورت پڑی تو اضافی بایومیٹرک ڈیٹا بھی جمع کیا جا سکے گا۔
پہلے یہ قانون 14 سال سے کم عمر بچوں اور 79 سال سے زائد افراد پر لاگو نہیں ہوتا تھا، مگر اب انہیں بھی شامل کیا گیا ہے۔
امریکی ٹرانسپورٹ سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن (TSA) پہلے ہی کئی ہوائی اڈوں پر فیس ریکگنیشن ٹیکنالوجی استعمال کر رہی ہے۔ CBP بھی داخلے کے وقت فنگر پرنٹ اور تصاویر حاصل کرتی ہے، مگر اب یہ عمل ملک چھوڑنے کے وقت بھی لازمی ہوگا۔
ٹرمپ انتظامیہ کے مطابق، اس نظام سے ویزا کی مدت سے زیادہ قیام کرنے والوں، جعلی شناخت استعمال کرنے والوں اور امیگریشن قوانین سے بچنے کی کوشش کرنے والوں کو پکڑنا آسان ہو جائے گا۔
CBP نے تسلیم کیا ہے کہ ایسے ہوائی اڈوں یا زمینی راستوں پر جہاں محفوظ ’ایگزٹ لین‘ موجود نہیں، وہاں اس نظام کو نافذ کرنا چیلنج ہوگا، مگر جدید ٹیکنالوجی نے اس مشکل کو بھی آسان بنا دیا ہے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ اگلے 3 سے 5 سال میں یہ نظام پورے امریکہ میں مکمل طور پر لاگو کر دیا جائے گا۔27 اکتوبر سے اس تجویز پر عوامی رائے کے لیے عمل شروع ہونے کی توقع ہے۔



