بین الاقوامی خبریں

امریکہ-ایران کشیدگی میں اضافہ، خطے میں مزید امریکی افواج کی تعیناتی

مذاکرات کے ساتھ طاقت کا مظاہرہ—امریکہ کی نئی حکمت عملی

نیویارک 01 اپریل:(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جہاں ایک طرف مذاکرات کی باتیں کی جا رہی ہیں تو دوسری جانب فوجی طاقت کا بھرپور مظاہرہ بھی دیکھنے میں آ رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ سفارتی پیش رفت کا عندیہ دیا ہے، تاہم معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں سخت ردعمل کی وارننگ بھی دی جا رہی ہے۔

اسی تناظر میں امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنی عسکری موجودگی میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق طیارہ بردار بحری جہاز "یو ایس ایس جارج بش” تین جنگی جہازوں کے ہمراہ خطے کی جانب روانہ ہو چکا ہے، جس میں چھ ہزار سے زائد بحری اہلکار شامل ہیں۔ اس کے ساتھ ہی 82 ویں ایئربورن ڈویژن کے ہزاروں فوجی بھی فضائی راستے سے پہنچنا شروع ہو گئے ہیں، جن میں خصوصی طور پر تربیت یافتہ پیرا ٹروپرز شامل ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس تعیناتی کا بڑا حصہ معمول کی تبدیلی کا حصہ ہے، تاہم تقریباً پندرہ سو پیرا ٹروپرز کو ہنگامی بنیادوں پر روانہ کیا گیا ہے۔ یہ فوجی حساس اور متنازع علاقوں میں فوری کارروائی اور ہوائی اڈوں پر کنٹرول حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ مزید برآں، امریکی بحریہ کے تقریباً ڈھائی ہزار میرینز پہلے ہی خطے میں موجود ہیں جبکہ مزید نفری بھی بھیجی جا رہی ہے۔

دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ایران کے خلاف ممکنہ زمینی کارروائی سے متعلق سوالات کا براہ راست جواب دینے سے گریز کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگی حکمت عملی کو ظاہر کرنا دانشمندانہ نہیں ہوتا، تاہم انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کا اولین مقصد سفارتی ذرائع سے مسئلے کا حل تلاش کرنا ہے۔

ادھر جنگی صورتحال کے باعث امریکی بحری اثاثوں پر دباؤ بھی بڑھ گیا ہے۔ دنیا کے جدید ترین طیارہ بردار جہاز "یو ایس ایس جیرالڈ فورڈ” کو حالیہ آگ لگنے کے واقعے کے بعد مرمت کے لیے بحیرہ روم منتقل کر دیا گیا ہے، جس کی واپسی مئی کے آخر تک متوقع ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکہ کی جانب سے فوجی طاقت میں یہ اضافہ دراصل ایران پر مذاکرات کے دوران دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ بعض ماہرین اسے ڈونلڈ ٹرمپ کے مخصوص انداز سیاست سے بھی جوڑتے ہیں، جس میں وہ اپنے اگلے اقدام کو غیر واضح رکھتے ہوئے مخالفین کو غیر یقینی صورتحال میں مبتلا رکھتے ہیں۔

موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ خطہ ایک بار پھر غیر یقینی کی فضا میں داخل ہو چکا ہے، جہاں سفارت کاری اور عسکری حکمت عملی ساتھ ساتھ چل رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button