بین الاقوامی خبریں

امریکی جج نے پیدائشی حق شہریت کو ختم کرنے کے صدارتی حکم کو عارضی طور پر روک دیا

یہ ایک صریحاً غیر آئینی حکم ہے۔

واشنگٹن،24جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز)امریکہ کے ایک وفاقی جج نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پیدائشی حقِ شہریت کی ازسر نو تعریف کرنے والے ایگزیکٹو آرڈر کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اسے عارضی طور پر روک دیا۔محکمہ انصاف نے کہا کہ وہ صدر کے ایگزیکٹو آرڈر کا ” بھرپور طریقے سے دفاع” کرے گا جو بقول اسکے”امریکی آئین کی 14ویں ترمیم کی صحیح تشریح کرتا ہے۔واضح رہے کہ امریکی ریاستوں ایریزونا، الینوائے، اوریگون اور واشنگٹن نے صدر کے ایگزیکٹو آرڈر کو عارضی طور پر روکنے کے لیے حکم امتناعی کی عدالت میں استدعا کی تھی۔اس سلسلے میں قانونی چارہ جوئی کرنے والوں کا استدلال ہے کہ امریکی آئین کی 14ویں ترمیم امریکہ میں پیدا ہونے والے لوگوں کے لیے شہریت کی ضمانت دیتی ہے اور ریاستیں ایک صدی سے اس ترمیم کی یہی تشریح کر رہی ہیں۔

امریکی آئین کی 14ویں ترمیم کے تحت امریکی سرزمین پر پیدا ہونے والے بچے کو شہریت کا حق حاصل ہے جس کی توثیق 1868 میں کی گئی تاکہ خانہ جنگی کے بعد سابق غلاموں کے لیے امریکی شہریت کو یقینی بنایاجا سکے۔ٹرمپ کے حکم نامے کے تحت 19 فروری کے بعد پیدا ہونے والے ان بچوں کو جن کے والدین امریکہ میں غیر قانونی طور پر موجود ہیں، امریکی شہریت نہیں دی جائے گی۔

اس کے تحت امریکی ادارے ان کے لیے کسی قسم کی دستاویزات جاری نہیں کریں گے اور نہ ہی کوئی ایسی ریاستی دستاویز قبول کریں گے جس میں ان بچوں کی امریکی شہریت کو تسلیم کیا گیا ہو۔یہ پہلا موقع تھا کہ یو ایس ڈسٹرکٹ جج کے سامنے یہ کیس زیر سماعت آیا اور اس کا اطلاق قومی سطح پر ہوتا ہے۔ریاست واشنگٹن کے ڈسٹرکٹ جج جان کوفینور نے محکمہ انصاف کے وکیل سے استفسار کیا کہ وہ اس حکم کو آئینی کیسے سمجھ سکتے ہیں؟

جب اٹارنی بریٹ شومیٹ نے کہا کہ وہ ایک مکمل بریفنگ میں اس کی وضاحت کرنے کا موقع چاہتے ہیں تو جج کوفینور نے انہیں بتایا کہ سماعت میں اس کا موقع ملے گا۔یہ مقدمہ امریکہ بھر میں 22 ریاستوں اور تارکین وطن کے حقوق کے متعدد گروپوں کی طرف سے لائے جانے والے پانچ مقدمات میں سے ایک ہے۔اس مقدمے میں ان اٹارنیز جنرل کی ذاتی شہادتیں شامل ہیں جو پیدائشی حق کے لحاظ سے امریکی شہری ہیں۔مقدمے میں ان حاملہ خواتین کے نام بھی شامل ہیں جنہیں ڈر ہے کہ ان کے بچے امریکی شہری نہیں بن پائیں گے۔سماعت کرنے والے 84 سالہ جج کوفینور نے، جنہیں سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن نے مقرر کیا تھا، کہا،”یہ ایک صریحاً غیر آئینی حکم ہے۔

جمعرات کا فیصلہ ٹرمپ انتظامیہ کو 14 دنوں کے لیے ایگزیکٹو آرڈر پر عمل درآمد کے لیے اقدامات کرنے سے روکتا ہے۔ اس دوران فریقین ٹرمپ کے حکم کے میرٹ(اس کے درست یا نہ درست ہونے) کے بارے میں مزید دلائل پیش کریں گے۔جج کوفینور نے یہ فیصلہ کرنے کے لیے 6 فروری کو ایک سماعت طے کی ہیکہ ایک ایسے وقت میں جب کارروائی جاری ہیآیا اس کیس کو طویل مدت تک روکا جانا چاہئے۔محکمہ انصاف کے وکیل بریٹ شومیٹ نے کہا کہ وہ احترام کے ساتھ اس بات سے متفق نہیں کہ یہ غیر آئینی حکم ہے۔

شومیٹ نے جج سے استدعا کی کہ انہیں اس کیس کے حق میں مکمل بریفنگ دینے کا موقع دیا جائے نہ کہ اس پر عمل درآمد کو روکنے کے لیے 14 دن کا عارضی حکم امتناعی جاری کیا جائے۔محکمہ انصاف نے کہا کہ اسے امید ہے کہ اس مقدمے کے میریٹ کے حق میں دلائل عدالت اور امریکی عوام کے سامنے رکھے جائیں گے جو قوم کے قوانین کا نفاذ دیکھنے کے لیے بے چین ہیں۔مقدمہ دائر کرنے والی ریاستوں کی طرف سے بحث کرتے ہوئے ریاست واشنگٹن کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل لین پولوزولا نے حکومت کی اس دلیل کی مخالفت کی کہ غیر قانونی طور پر رہنے والے والدین کے بچے امریکہ کے دائرہ اختیار کے تابع نہیں ہیں۔


ٹرمپ کا نیا حکم نامہ، حماس و حزب اللہ کے حامی بھی امریکہ بدر ہوں گے

واشنگٹن،24جنوری :(اردودنیا.اِن/ایجنسیز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دہشت گردی کے حامی غیر ملکیوں کے خلاف نیا صدارتی حکم نامہ جاری کر دیا۔صدارتی حکم نامے کا عنوان ’امریکا کو غیر ملکی دہشت گردوں اور دیگر قومی سلامتی و عوامی تحفظ کے خطرات سے محفوظ رکھنا‘ ہے۔اس حکم نامے کا مقصد ایسے غیر ملکیوں کی شناخت، جانچ اور ممکنہ ملک بدری ہے جو امریکہ کی قومی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھے جاتے ہیں۔اس حکم نامے میں خاص طور پر ان افراد کو نشانہ بنایا گیا ہے جو حماس اور حزب اللہ کی حمایت کرتے ہیں، جس سے امریکا میں ان بین الاقوامی طلبہ، ملازمین، مہاجرین اور زائرین کے لیے خدشات پیدا ہو گئے ہیں، جو ان تنظیموں سے وابستہ مظاہروں یا سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں، انہیں بھی فوری ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔

اس حکم نامے میں تحقیقات، جانچ اور ملک بدری کے اقدامات کے لیے ہوم لینڈ سیکیورٹی، محکمہ خارجہ اور انٹیلی جنس ایجنسیاں سخت نگرانی اور جانچ کے اقدامات کریں گی تاکہ ممکنہ خطرات کی نشاندہی کی جا سکے۔حکم نامے کی تحت ایسے غیر ملکی جو پہلے ہی امریکہ میں موجود ہیں اور امریکا مخالف نظریات رکھتے ہیں یا نفرت انگیز نظریے کی تبلیغ کرتے ہیں، انہیں ملک بدر کیا جا سکتا ہے، جبکہ ویزا رکھنے والوں کی سخت جانچ کی جائے گی، خاص طور پر ان افراد کی جو مشرقِ وسطیٰ، جنوبی ایشیاء اور شمالی افریقہ جیسے دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں سے آتے ہیں۔

مذہبی آزادی اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے یہ حکم نامہ داخلی اور عالمی سطح پر شدید بحث کا باعث بنے گا۔ان کا کہنا ہے کہ یہ ان کے گزشتہ دورِ اقتدار میں جاری کردہ ’مسلم بین‘ جیسا ہی ہے جس میں بغیر نام لیے مسلمانوں کو اور ان ممالک کو نشانہ بنایا گیا ہے جہاں مسلمان بڑی تعداد میں آباد ہیں۔دوسری جانب ٹرمپ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہے تاکہ غیر ملکی افراد امریکی آزادی کا غلط استعمال کر کے نفرت یا تشدد کو فروغ نہ دے سکیں۔امریکی صدر ٹرمپ کے ناقدین، شہری حقوق کے ادارے اور مہاجرین کی وکالت کرنے والے گروہ نے خبردار کیا ہے کہ یہ حکم نسلی امتیاز، مسلمانوں کو نشانہ بنانے اور آزادی اظہار پر قدغن کا باعث بن سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button