نیویارک، 16اکتوبر:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) امریکہ کے اٹھہتر سالہ رئیل اسٹیٹ ٹائیکون کو پیرول کے امکان کے بغیر عمر قید کی سزا سنا دی گئی ہے۔ انہیں یہ سزا 2000ء میں ہوئے ایک قتل پر دی گئی۔ مقتولہ سوزن بریمن ،رابرٹ ڈرسٹ کی بہترین دوست تھیں۔استغاثہ کے مطابق رابرٹ ڈرسٹ Robert durst نے سوزن بریمن Susan Beman کو اس وجہ سے گولی ماری تھی تاکہ وہ اس کی بیوی کی گمشدگی کے حوالے سے پولیس کو معلومات فراہم نہ کر دے۔
رابرٹ ڈرسٹ نے اپنی بہترین دوست کو اس کے گھر پر قتل کیا تھا اور متاثرہ خاتون کو سر کے پیچھے گولی ماری گئی تھی۔ عدالت نے اسے ’فرسٹ ڈگری قتل‘ قرار دیا ہے اور مجرم پیرول پر بھی رہائی حاصل نہیں کر سکے گا۔جج مارک ونڈہم نے عمر قید کی سزا سنانے سے پہلے کہاکہ اس جرم میں ایک گواہ کو قتل کیا گیا ہے۔
اس صورتحال نے اس عمل کو خوفناک حد تک غلیظ بنا دیا ہے۔ جج نے نئے ٹرائل کے لیے وکیل دفاع کی درخواست بھی مسترد کر دی۔ مارک ونڈہم کا کہنا تھاکہ درحقیقت جرم کے کافی ثبوت موجود ہیں۔
سوزن بریمن کا قتل ایک ایسا معمہ تھا، جس نے پندرہ سال تک متاثرہ خاتون کے خاندان اور دوستوں کو پریشان کیے رکھا، یہاں تک کہ سن دو ہزار پندرہ میں ڈرسٹ کو گرفتار کر لیا گیا۔ ڈرسٹ نے ایک دستاویزی فلم د ی جنکس میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا، جس میں نئے شواہد کا پتہ چلا اور اس کے بعد ڈرسٹ کو اعتراف جرم میں پکڑ لیا گیا۔
رابرٹ ڈرسٹ کو ان دنوں شدید طبی مسائل کا سامنا ہے اور وہ عدالتی کارروائی کے دوران وہیل چیئر پر ہی بیٹھے رہے۔ وہ اس وجہ سے بھی خاموش رہے کہ کہیں انہیں سن 1982میں لاپتہ ہونے والی ان کی اہلیہ کے تحقیقات میں بھی مجرم قرار نہ دے دیا جائے۔



