واشنگٹن،17مارچ :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوتین کو یوکرین پر حملے پر ’جنگی مجرم‘ قرار دیا۔بائیڈن نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ میرے خیال میں وہ جنگی مجرم ہے۔بعد ازاں بائیڈن نے زور دے کر کہا کہ روس کی جانب سے اپارٹمنٹس کی عمارتوں اور زچگی کے وارڈں پر بمباری، سینکڑوں ڈاکٹروں اور مریضوں کو یرغمال بنانے کے بارے میں رپورٹس مظالم کی نشاندہی کرتی ہیں۔
جس کی وجہ سے پوری دنیا میں شدید غصہ ہے۔ ٹویٹر پرانہوں نے اپنے روسی ہم منصب پوتین پر یوکرین میں خوفناک تباہی اور دہشت پھیلانے کا الزام لگایا۔وائٹ ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے اے ایف پی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بائیڈن اپنے دل سے بات کر رہے تھے، جب انہوں نے ٹیلی ویژن پردوسرے ملک پر حملہ کرکے ایک سفاک آمر کے وحشیانہ اقدامات کی تصاویر دیکھیں۔
پوتین کے بارے میں بائیڈن کا یہ بیان اب تک کی کسی اعلیٰ امریکی عہدیدار کی سخت الفاظ میں مذمت ہے۔جب کہ دیگر عالمی رہ نماؤں نے روسی فوجی آپریشن کے بارے میں بات کرنے کے لیے جنگی جرائم کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ وائٹ ہاؤس پوتین کے اقدامات کو جنگی جرائم کہنے سے گریزاں رہا ہے۔
یہ کہتے ہوئے کہ یہ ایک قانونی اصطلاح ہے جس کے لیے تحقیق کی ضرورت ہے۔ایک ردعمل میں ٹاس خبر رساں ایجنسی نے بدھ کے روز کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف کے حوالے سے امریکی صدر بائیڈن کی طرف سے روسی صدر پوتین کو جنگی مجرم قرار دینے کو ایک ایسے سربراہ مملکت کے لیے ناقابل قبول اور ناقابل معافی الفاظ قرار دیا جس کے ملک کے بموں نیدنیا میں لاکھوں افراد کو ہلاک کیا ہے۔
جوبائیڈن کا یوکرین کو 80 کروڑ ڈالر کی امداد،طیارہ شکن ہتھیار اور ڈرون دینے کا اعلان
امریکی صدر جو بائیڈن نے یوکرین کو طیارہ شکن نظام اور ڈرون سمیت 80 کروڑڈالر کی اضافی حفاظتی امداد مہیا کرنے کی منظوری دینے کا اعلان کیا ہے۔بائیڈن نے ٹیلی ویژن پر اپنے خطاب میں کہا کہ امریکا اپنے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر یوکرین کے لیے امدادی سرگرمیوں کی قیادت کررہا ہے۔
اس کے تحت ہم آج بے پایاں سلامتی اور انسانی امداد مہیا کررہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ہم آنے والے دنوں اورہفتوں میں مزید کام جاری رکھیں گے۔ہم پابندیوں کی سزا کے ذریعے صدر ولادی میرپوتین کی معیشت کو کمزورکررہے ہیں، یہ پابندیاں وقت کے ساتھ ساتھ مزید تکلیف دہ ثابت ہوں گی۔
ان کا کہنا تھاکہ امریکہ اوراقوام متحدہ جن اصولوں کے ساتھ کھڑے ہیں،وہ اب ’’داؤ پر‘‘لگے ہوئے ہیں۔ وہ جب یوکرین کے لیے اضافی امدادی پیکیج کا اعلان کررہے تھے تو وزیرخارجہ انٹونی بلینکن ،نائب وزیردفاع کیتھلین ہکس اور چیئرمین جائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک میلے ان کے ساتھ کھڑے تھے۔بائیڈن نے مزید کہا کہ یہ امداد آزادی کے لیے ہے۔
یہ لوگوں کے اپنے مستقبل کا تعیّن کرنے کے حق کے بارے میں ہے۔ یہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہے کہ یوکرین میں روسی صدر ولادی میر پوتین کی فتح کبھی نہیں ہوگی، چاہے وہ میدان جنگ میں کوئی بھی پیش قدمی کرلیں۔بائیڈن نے نئے ہتھیاروں کی فہرست بھی پیش کی ہے اور بتایا ہے کہ یوکرین کو کس قسم کے ہتھیارمنتقل کیے جا رہے ہیں۔
ان کے بہ قول ان میں 800 طیارہ شکن نظام، 9000 اینٹی آرمرسسٹم، 7000 چھوٹے ہتھیار، دوکروڑ گولیاں،گولہ بارود اور ڈرون شامل ہیں۔بائیڈن یوکرین کے صدر ولودی میر زیلنسکی کے امریکی قانون سازوں سے خطاب کے چند گھنٹے کے بعد تقریر کر رہے تھے۔
یوکرینی صدر نے کانگریس سے ورچوئل خطاب میں اپنے ملک کو روس کے حملے سے بچانے کے لیے مزید اقدامات کا مطالبہ کیا تھا۔انھوں نے امریکی حکام سے درخواست کی کہ وہ یوکرین کی فضائی حدود میں نوفلائی زون نافذکریں۔انھوں نے روس کے حملے سے بچنے کے لیے مزید لڑاکا طیارے اور دفاعی نظام مہیا کرنے کی اپیل کی تھی۔
اس میں ہفتے کے آخر میں مختص کردہ 200 ملین ڈالر کی رقم شامل ہے۔ اس کے علاوہ گذشتہ ہفتے کانگریس کی طرف سے منظور کیے گئے امدادی پیکج میں 800 ملین ڈالر کی نئی فنڈنگ بھی شامل ہے۔



