امریکی صدارتی امیدوار کملا ہیرس کی طرف سے اسرائیل کو اسلحہ فراہمی روکنے کی مخالفت
اسرائیل کے ساتھ اسلحہ پابندی کا ایشو اٹھایا ہے۔
نیویارک، 9اگست :(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز)امریکی صدارتی امیدوار اور موجودہ نائب صدر کملا ہیرس امریکی اتحادی اسرائیل کے لیے اسلحہ فراہمی پر پابندی کی حمایت نہیں کرتی ہیں۔ یہ بات جمعرات کے روز ان کے ایک اعلیٰ معاون نے کہی ہے۔کملا ہیرس جب سے ماہ جولائی کے وسط سے ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے جو بائیڈن کی جگہ پر صدارتی امیدوار بنی ہیں ان کے حوالے سے اسرائیل کے حق میں آنے والے ٹھوس اور اہم بیانات میں سے ایک ہے۔ان کا یہ بیان اس واقعے کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے جب ان کی تین ہفتوں پر محیط انتخابی مہم کے دوران غزہ جنگ کے مخالفین اور فلسطینیوں کے حامیوں نے انہیں ایک ریلی میں گھیر لیا اور کے ساتھ نامناسب انداز اختیار کیا۔ کملا ہیرس نے ڈیٹرائٹ، مشی گن میں غزہ کی جنگ کے مخالفین کے ساتھ ریلی کے بعد ملاقات کی اور کہا میں نے اسرائیل کے ساتھ اسلحہ پابندی کا ایشو اٹھایا ہے۔تاہم ان کے قومی سلامتی کے لیے مشیر فلگورڈن نے ایکس پر کہا ہے کہ کملا ہیرس اسرائیل کو اسلحہ فراہمی پر پابندی کی حمایت نہیں کرتی ہیں۔
مشیر برائے سلامتی نے کہا کہ نائب صدر بڑی واضح ہیں کہ اسرائیل ایران اور ایرانی حمایت یافتہ گروپوں کے ساتھ لڑنے اور اپنے دفاع کا پورا حق رکھتا ہے۔واضح رہے کملا ہیرس پر ڈیمو کریٹس کی ایک بڑی تعداد کا دباؤ موجود ہے کہ وہ جوبائیدن کی اسرائیل کھلی حمایت کی پالیسی کو تبدیل کریں۔ یہ ایشو مشی گن میں بطور خاص اہم ہے۔جہاں عرب ووٹروں کی بھی بڑی تعداد موجود ہیں۔ مشی گن کے لوگ فلسطینیوں کے خلاف جنگ کے سخت مخالف ہیں۔ریلی میں جب کملا ہیرس کو شرکا کی طرف سے بار بار تقریر کو روکا تو ہیرس نے کہا کہ اگر آپ چاہتے ہیں کہ ٹرمپ جیت جائیں ،تو آپ سیدھے طریقے سے بات کریں۔ یہ کہتے ہوئے کملا کی آواز یہ کہتے ہوئے اونچی ہوتی گئی۔ احتجاجی شرکا ئے ریلی سے مخاطب تھیں؛کیوں کہ کملا ہیرس کا اکثریت کے ان ووٹوں کی بھی بہت ضرورت ہے، جو پارٹی میں اکثریت میں اور اسرائیل کی حمایت کے لیے سرگرم ہیں۔ا نہیں بعض اوقات اسرائیل کے حق میں پالیسی کی وجہ سے صدر جو بائیڈن سے زیادہ تنقید سننا پڑتی ہے۔



