بین الاقوامی خبریں

 امریکی وزیر خارجہ کا پھر دورۂ مشرقِ وسطیٰ: اسرائیل سے تازہ ترین معلومات حاصل کریں گے 

امریکہ کے وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن ایک ماہ کے دوران دوسری مرتبہ مشرقِ وسطیٰ کا دورہ

نیویارک، 3نومبر:(اردودنیانیوز.کام/ایجنسیز) امریکہ کے وزیرِ خارجہ اینٹنی بلنکن ایک ماہ کے دوران دوسری مرتبہ مشرقِ وسطیٰ کا دورہ کریں گے۔ ان کا یہ دورہ ایک ایسے موقع پر ہو رہا ہے کہ جب اسرائیل نے غزہ میں اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔مریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے ایک بریفنگ کے دوران اینٹنی بلنکن کے دورے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ وزیرِ خارجہ بلنکن جمعے کو اسرائیل اور اردن جائیں گے۔انہوں نے بتایا کہ وزیر خارجہ بلنکن پہلے اسرائیل پہنچیں گے جہاں ان کی ملاقات اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نیتن یاہو سمیت اسرائیلی حکومت کے دیگر عہدیداروں سے ہوگی۔محکمہ خارجہ کے ترجمان کے مطابق اینٹنی بلنکن اسرائیلی حکام سے ملاقاتوں میں اسرائیل کے فوجی مقاصد کے بارے میں تازہ ترین معلومات حاصل کریں گے اور اس بات کی ضرورت پر تبادلہ خیال کریں گے کہ ہر وہ احتیاط برتی جائے جس سے شہریوں کی ہلاکتیں کم سے کم ہوں۔

ترجمان نے مزید کہا کہ اردن میں امریکی وزیر خارجہ، غزہ میں شہریوں کو جان بچانے والی انسانی امداد کی بڑھتی ہوئی ضرورت کے پیش نظر اس کی مسلسل فراہمی میں سہولت فراہم کرنے کے لیے امریکہ اور اردن کے درمیان مشترکہ عزم کی جانب توجہ دلاتے ہوئے اس پر زور دیں گے۔وزیر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ وہ ضروری خدمات کی بحالی کے لیے بھی کام کریں گے۔اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کریں گے کہ فلسطینیوں کو زبر دستی غزہ سے باہر بے گھر نہ کیا جائے۔سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ امریکی وزیرِ خارجہ بلنکن اتوار کو اردن سے انقرہ جائیں گے۔ تاہم محکمہ خارجہ کے ترجمان ملر نے اس کی تصدیق کرنے سے انکار کر دیا کہ بلنکن ترکیہ بھی جائیں گے۔

خیال رہے کہ ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے حال ہی میں فلسطینیوں کی حمایت میں نکلنے والے ایک بہت بڑے جلوس سے خطاب میں کہا تھا کہ اسرائیل ایک قابض ہے اور حماس کوئی دہشت گرد تنظیم نہیں بلکہ آزادی کی ایک تحریک ہے۔اس کے جواب میں امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے کہا تھا کہ امریکہ کا یہ موقف بالکل واضح ہے کہ حماس ایک بے رحم دہشت گرد تنظیم ہے۔سات اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملے کے بعد یہ بلنکن کا مشرق وسطی کا دوسرا دورہ ہے۔ امریکہ، حماس کے جنگجوؤں کے خلاف اسرائیل کی جنگ میں اسے مدد فراہم کر رہا ہے اور غزہ میں فلسطینیوں کے لیے انسانی مدد پہنچانے میں سہولت کاری کر رہا ہے۔اسرائیل حماس جنگ میں اب تک دونوں جانب نو ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں جن میں خواتین اور بچوں کی بھی بڑی تعداد شامل ہے جب کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ پر بمباری کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button