واشنگٹن، 22 نومبر (ایجنسیز) امریکہ میں بدھ کے روز اسرائیل کی غزہ جنگ کو جاری رکھنے کے لیے دو بڑے اقدامات نے امریکی رائے عامہ کے علاوہ بین الاقوامی رائے عامہ کو بھی کسی قدر حیران کر دیا ہے کہ پچھلے ماہ تک جنگ بندی کے لیے کوششوں کا داعی اور جنگ بندی مذاکرات کے اہم کردار امریکہ نے ایک بار پھر کیونکر یوٹرن لیا ہے۔بدھ کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غزہ میں فوری اور غیر مشروط جنگ بندی کی قرارداد کو امریکہ کے ویٹو کرنے کے ساتھ ساتھ امریکی سینیٹ میں بھی اسرائیل کو اس جنگ میں تقویت دیے رکھنے کا فیصلہ سامنے آیا ہے۔
امریکی سینیٹ نے اپنے ہاں اس قانون سازی کے عمل کو روک دیا ہے جو اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی میں کچھ کمی کے لیے زیر عمل تھی۔قانون سازی کے لیے یہ بل امریکی سینٹ میں غزہ کی جاری جنگ کے پیش نظر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور بین الاقوامی قانون کے خلاف اقدامات کے تناظر میں تھا۔ بدھ کے روز اس پر ووٹنگ ہوئی 100 میں سے 79 سینیٹرز نے اس بل کی مخالفت کی اور اس کیخلاف ووٹ دیا کہ اسرائیل کو ٹینکوں کے گولوں کی فروخت روک دی جائے گی۔
امریکی ایک سو سینیٹرز میں سے 18 سینیٹروں نے اس بل کے حق میں ووٹ دیا۔ تاکہ اسرائیل کے لیے امریکی اسلحے کی سپلائی میں کچھ کمی ہو سکے۔اس بل کے خلاف سینیٹ کی غالب اکثریت نے ووٹ دیکر یہ ثابت کر دیا ہے کہ اسرائیل کو اسلحہ دینے میں کمی نہیں کی جائے گی۔علاوہ ازیں امریکی سینیٹ میں بدھ کے روز دو دیگر قراردادوں پر بھی ووٹنگ ہونی تھی جو دو دیگر قسم کے جارحانہ فوجی ساز و سامان کی ترسیل کو روکنے کے لیے تھیں۔ اس اقدام کے حق میں تمام ووٹ ڈیموکریٹس کی طرف سے آئے۔
لیکن سارے ڈیمو کریٹس کے ووٹ بھی نہیں آئے۔ کئی ڈیمو کریٹ سینیٹروں اور ریپبلکن سینیٹروں نے اسرائیل اور اس کی غزہ جنگ کے لیے مل کر ووٹ دیا۔اگر ان قرار دادوں کے حق میں ووٹ آتے تو اسرائیل کے لیے امریکی اسلحے کی کھلی فراہمی کی سالہا سال سے جاری روایت میں رکاوٹ یا رخنہ آ سکتا تھا۔
خیال رہے اس قانون سازی کے لیے بل سینیٹر برنی سینڈر کی طرف سے پیش کیے گئے تھے۔ سینڈر ایک آزاد سینیٹر ہیں اور ڈیمو کریٹس کے ساتھ مل کر اپنی آواز بلند کرتے ہیں۔ تاکہ انسانی حقوق کے لیے امریکی کانگریس کی اکثریت کے برعکس آزادانہ بات کرتے رہیں۔