غزہ انخلا منصوبہ: فلسطینیوں کی جبری ہجرت کے ذکر پر امریکی محکمہ خارجہ کا سینئر عہدیدار برطرف
انہیں برطرفی کی کوئی وضاحت نہیں دی گئی
واشنگٹن، 22 اگست (اردودنیا.اِن/ایجنسیز)امریکی محکمہ خارجہ نے اپنے ایک سینئر صحافتی عہدیدار شاہد گریشی کو برطرف کر دیا ہے۔ گریشی اسرائیل اور فلسطین امور کے ذمہ دار تھے اور انہوں نے غزہ سے فلسطینیوں کی ممکنہ "ہجرت” یا "انخلا” کے منصوبے پر اختلافی مؤقف اختیار کیا تھا۔
"واشنگٹن پوسٹ” اور امریکی حکام کے مطابق یہ فیصلہ اس وقت کیا گیا جب گریشی نے ایک بیان تیار کیا جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ غزہ میں فلسطینیوں کی جبری بے دخلی کی حمایت نہیں کرتا۔ تاہم محکمہ خارجہ کی قیادت نے اس بیان پر اعتراض اٹھایا اور اسے ٹرمپ انتظامیہ اور مشرق وسطیٰ کے خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف کے سابقہ بیانات کے خلاف قرار دیا۔
یاد رہے، وٹکوف نے رواں سال فروری میں کہا تھا کہ امریکہ غزہ کے لیے کسی "انخلا منصوبے” پر عمل نہیں کرے گا۔ لیکن اندرونی سطح پر اس مسئلے پر تضاد موجود رہا۔
امریکی حکام نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ گریشی کی برطرفی نے عملے کو یہ پیغام دیا ہے کہ اگر کوئی اہلکار اسرائیل کے حق میں سخت مؤقف سے ہٹ کر کچھ کہے، چاہے وہ امریکی پالیسی کے مطابق ہی کیوں نہ ہو، تو اسے برداشت نہیں کیا جائے گا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ ہم لیک ہونے والے ای میلز یا الزامات پر تبصرہ نہیں کرتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وفاقی اہلکاروں کو اپنے ذاتی سیاسی نظریات کو صدر کے ایجنڈے پر ترجیح نہیں دینی چاہیے۔
شاہد گریشی نے "واشنگٹن پوسٹ” کو بتایا کہ انہیں برطرفی کی کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے نے غزہ سے فلسطینیوں کے ممکنہ اخراج پر محکمہ کے مؤقف کے بارے میں سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اس ماہ کے آغاز میں غزہ میں الجزیرہ کے صحافی انس الشریف سمیت کئی صحافی اسرائیلی حملوں میں جاں بحق ہو گئے تھے، جس پر محکمہ خارجہ کے اندر بھی سخت اختلافات دیکھنے میں آئے۔



