
امریکی سپریم کورٹ نے تارکین وطن کی تیسرے ممالک میں ملک بدری کی اجازت دے دی
ٹرمپ انتظامیہ کو ریلیف، تارکین وطن کو تیسرے ممالک بھیجنے کی اجازت
واشنگٹن، 30 ستمبر (اردودنیا نیوز/ایجنسیز): امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ انتظامیہ کو ایسے تارکین وطن کو ان کے آبائی ممالک کے بجائے دوسرے یعنی تیسرے ممالک میں بھیجنے کا عمل دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ عدالت نے نچلی عدالت کے اس حکم کو عارضی طور پر روک دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ کسی شخص کو تیسرے ملک بھیجنے سے پہلے اسے مناسب اطلاع دی جائے اور اسے یہ بتانے کا موقع دیا جائے کہ وہاں اسے ظلم، تشدد یا کسی دوسرے خطرے کا سامنا ہوسکتا ہے۔
سپریم کورٹ نے ابھی یہ فیصلہ نہیں کیا کہ حکومت کی تیسرے ممالک میں ملک بدری کی پالیسی قانونی ہے یا نہیں۔ عدالت اس معاملے پر دسمبر میں تفصیلی سماعت کرے گی اور بعد میں اس بارے میں حتمی فیصلہ دے گی۔
یہ معاملہ میساچوسٹس کی ایک وفاقی عدالت کے فروری میں دیے گئے فیصلے کے بعد سامنے آیا۔ اس عدالت نے حکومت کی تیسرے ملک میں ملک بدری کی پالیسی پر پابندی لگاتے ہوئے کہا تھا کہ جس شخص کو امریکہ سے نکالا جا رہا ہے، اسے پہلے بتایا جائے کہ اسے کس ملک بھیجا جا رہا ہے۔ اسے یہ موقع بھی دیا جائے کہ وہ وہاں ممکنہ خطرے کے بارے میں اپنی بات رکھ سکے۔
سپریم کورٹ کے نو ججوں میں سے جسٹس سونیا سوٹومائیر، ایلینا کاگن اور کیٹانجی براؤن جیکسن نے حکومت کی درخواست مسترد کرنے کی حمایت کی۔ باقی ججوں نے حکومت کو عارضی طور پر یہ عمل جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔ عدالت نے اپنے حکم میں اس کی تفصیلی وجہ نہیں بتائی۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے قواعد کے مطابق اگر کسی شخص کے خلاف حتمی ملک بدری کا حکم موجود ہے تو اسے ایسے ملک بھی بھیجا جا سکتا ہے جو اس کے اصل ملک کے بجائے کوئی تیسرا ملک ہو، بشرطیکہ وہ ملک اسے قبول کرنے کے لیے تیار ہو۔
کچھ معاملات میں اگر تیسرے ملک سے پہلے ہی منظوری مل چکی ہو تو ملک بدری کا عمل نسبتاً تیزی سے کیا جا سکتا ہے۔ اگر ایسی منظوری موجود نہ ہو تو متعلقہ شخص کو منزل کے بارے میں اطلاع دی جاتی ہے اور اسے یہ بتانے کا موقع دیا جاتا ہے کہ وہاں جانے کی صورت میں اسے تشدد یا ظلم کا خطرہ ہے یا نہیں۔
حکومت کے مطابق عام طور پر اس اطلاع کے بعد کم از کم 24 گھنٹے کا وقت دیا جاتا ہے۔ اس کے بعد ایک امیگریشن افسر یہ دیکھتا ہے کہ متعلقہ شخص کو تیسرے ملک میں نقصان پہنچنے کا خطرہ کتنا ہے۔ اگر افسر کو ایسا خطرہ زیادہ نظر نہ آئے تو اسے ملک بدر کیا جا سکتا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے عدالت کو بتایا کہ تیسرے ممالک میں ملک بدری اس لیے ضروری ہے کیونکہ بعض تارکین وطن کے آبائی ممالک انہیں واپس لینے سے انکار کر دیتے ہیں۔ حکومت نے خاص طور پر ایسے افراد کا حوالہ دیا جن کے خلاف مجرمانہ مقدمات میں سزائیں ہوچکی ہیں۔
حکومت کے مطابق نچلی عدالت کی پابندیوں کی وجہ سے ملک بدری کے بعض منصوبے روکنے پڑے۔ انتظامیہ نے بتایا کہ ایک پرواز میں 70 سزا یافتہ تارکین وطن کو تین مختلف ممالک لے جانا تھا، لیکن عدالتی پابندیوں کے باعث یہ پرواز منسوخ کرنا پڑی۔ حکومت کے مطابق اس سے اضافی اخراجات ہوئے اور کچھ ممالک کے ساتھ سفارتی بات چیت دوبارہ کرنا پڑی۔
محکمہ انصاف نے یہ بھی کہا کہ نچلی عدالت کے فیصلے نے حکومت کے امیگریشن اور دوسرے ممالک کے ساتھ معاملات سے متعلق اختیارات کو محدود کیا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ایسے فیصلے امیگریشن کے عمل میں رکاوٹ پیدا کر سکتے ہیں۔
دوسری طرف تارکین وطن کے وکلا اور حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپ اس پالیسی پر اعتراض کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی شخص کو ایسے ملک بھیجا جا سکتا ہے جس سے اس کا کوئی تعلق نہیں، جبکہ اسے وہاں ممکنہ خطرے کے بارے میں اپنی بات رکھنے کے لیے کافی وقت اور موقع نہیں ملتا۔
تارکین وطن کے وکلا نے عدالت میں کہا کہ بعض افراد کو تیسرے ممالک بھیجے جانے کے بعد طویل عرصے تک حراست میں رکھا گیا۔ ان کی جانب سے مارپیٹ، جنسی زیادتی، لاپتا ہونے اور دوبارہ کسی دوسرے ملک بھیجے جانے کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں۔ وکلا کا کہنا ہے کہ صرف کسی حکومت کی سفارتی یقین دہانی اس بات کی ضمانت نہیں دیتی کہ ہر شخص محفوظ رہے گا۔
تارکین وطن کے وکلا کی جانب سے پیش کیے گئے ایک اندازے کے مطابق 2025 اور 2026 کے دوران 25 ہزار سے زیادہ افراد کو کم از کم 28 تیسرے ممالک میں بھیجا جا سکتا ہے۔ تاہم یہ ان کا اندازہ ہے اور سپریم کورٹ نے اپنے موجودہ حکم میں اس تعداد کی تصدیق نہیں کی۔
ایک الگ تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ امریکی حکومت نے مختلف ممالک کو ایسے تارکین وطن کو قبول کرنے پر آمادہ کرنے کے لیے مالی اور سفارتی ذرائع بھی استعمال کیے ہیں۔ کچھ ممالک کے ساتھ مالی معاہدے بھی کیے گئے ہیں تاکہ وہ امریکہ سے بھیجے جانے والے افراد کو قبول کریں۔
امریکی قانون کے تحت کسی ایسے شخص کو ایسے ملک بھیجنے کی اجازت نہیں جہاں اسے جان کو خطرہ، تشدد یا ظلم کا سامنا ہونے کا خدشہ ہو۔ اسی قانونی تحفظ کا دائرہ اور حکومت کی طرف سے اختیار کیے گئے طریقہ کار کی قانونی حیثیت اب سپریم کورٹ کے سامنے ہے۔
دسمبر میں ہونے والی سماعت میں عدالت یہ بھی دیکھے گی کہ نچلی عدالت کے پاس اتنے بڑے گروپ کے لیے ایسا حکم جاری کرنے کا اختیار تھا یا نہیں۔ اس کے علاوہ یہ سوال بھی زیر غور آئے گا کہ تیسرے ممالک میں ملک بدری کا موجودہ طریقہ امریکی امیگریشن قانون اور آئینی حقوق کے مطابق ہے یا نہیں۔
سپریم کورٹ کا موجودہ حکم صرف ان لوگوں سے متعلق ہے جن کے خلاف پہلے ہی حتمی ملک بدری کا حکم جاری ہوچکا ہے۔ اس فیصلے سے قانونی مستقل رہائشیوں، طلبہ، کارکنوں یا دیگر ویزا رکھنے والے افراد کی حیثیت خود بخود تبدیل نہیں ہوتی، اگر وہ ملک بدری کی کارروائی کا سامنا نہیں کر رہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے 2025 میں دوبارہ صدر بننے کے بعد امریکہ میں غیر قانونی طور پر موجود تارکین وطن کو ملک سے نکالنے کے عمل میں تیزی لانے کو اپنی حکومت کی اہم ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ تیسرے ممالک میں لوگوں کو بھیجنا بھی اسی پالیسی کا حصہ ہے۔
ابھی سپریم کورٹ نے حکومت کو یہ عمل جاری رکھنے کی عارضی اجازت دی ہے۔ اس پالیسی کے بارے میں حتمی فیصلہ دسمبر میں ہونے والی سماعت کے بعد سامنے آئے گا۔



