لبنان میں جنگ بندی کے بعد غزہ کے حوالے سے مزید کوشش کریں گے:امریکہ
بائیڈن نے کہا کہ حماس امریکی شہریوں سمیت یرغمالیوں کو رہا کرے اور تاکہ اس عمل سے لڑائی کا خاتمہ ممکن ہو
واشنگٹن،27نومبر (ایجنسیز) اسرائیل کی طرف سے لبنان میں جنگ بندی کے لیے امریکہ کے تجویز کردہ منصوبے کی باضابطہ منظوری کے بعد صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امریکہ غزہ میں بھی جنگ بندی کی مزید کوششیں کرے گا۔ انہوں نے لبنان میں جنگ بندی کا خیر مقدم کیا۔بائیڈن نے کہا کہ اب حماس کے پاس ایک انتخاب ہے کہ وہ امریکی شہریوں سمیت ان یرغمالیوں کو رہا کرے اور تاکہ اس عمل سے لڑائی کا خاتمہ ممکن ہو۔ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امدادی کوششوں میں اضافہ کیا جا سکے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آنے والے دنوں میں امریکہ غزہ میں جنگ بندی کے حصول کے لیے ترکیہ، مصر، قطر، اسرائیل، اور دیگر ممالک کے ساتھ اضافی کوششیں کرے گا۔ یرغمالیوں کی رہائی کے ساتھ جنگ کے خاتمہ اور حماس کو اقتدار سے باہر رکھنے سے جنگ بندی کا حصول ممکن ہوجائے گا۔گذشتہ روز جو بائیڈن نے اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی کو ”اچھی خبر” قرار دیتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ 13 ماہ سے زائد عرصے سے جاری لڑائی میں وقفہ غزہ میں بھی جنگ کے خاتمے کے لیے ایک ترغیب ثابت ہو گا۔
فرانسیسی صدر عمانوئل میکروں نے منگل کی شام اس بات پر زور دیا کہ لبنان میں طے پانے والے جنگ بندی کے معاہدے کو غزہ کی پٹی میں اسی طرح کے طویل انتظار کے معاہدے کے لیے راستہ کھولنا چاہیے۔میکروں نے ایکس پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ پر ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ اس معاہدے سے غزہ کے عوام کی بے پناہ مصائب کے پیش نظر طویل انتظار کے بعد جنگ بندی کا راستہ کھلنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ اس بات کا ثبوت ہے۔
سیاسی جرات اکیلے ہی سب کو مشرق وسطی میں طویل مدتی امن اور سلامتی فراہم کرسکتی ہے۔اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے منگل کو ایک ٹیلیویژن بیان میں کہا تھا کہ حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی سے غزہ میں حماس کی تنہائی میں اضافہ ہو گا اور اسرائیل کو اپنی توجہ ایران کی طرف منتقل کرنے کا موقع ملے گا۔اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان غزہ میں کسی معاہدے تک پہنچنے کے بغیر جنگ بندی حماس کے لیے ایک تکلیف دہ دھچکا ہے جس کے رہ نما امید لیے ہوئے ہیں کہ لبنان میں جنگ کی توسیع اسرائیل پر ایک جامع جنگ بندی تک پہنچنے کے لیے دباؤڈالے گی۔
حزب اللہ کا اصرار تھا کہ وہ غزہ میں جنگ کے خاتمے سے پہلے جنگ بندی پر راضی نہیں ہوگی۔تاہم ستمبر کے وسط سے حزب اللہ کو پرتشدد اسرائیلی فوجی کارروائیوں کا سامنا ہے جس نے اس کے سیکرٹری جنرل حسن نصراللہ کی قیادت میں اس کی تمام فوجی قیادت کو ختم کردیا۔ اس کے ہتھیاروں کے ایک بڑے حصے اور لبنان کے بڑے علاقوں کو تباہ وبرباد کر ڈالا۔
عرب ثالثوں، مصر اور قطر کی طرف سے کئی مہینوں سے امریکہ کی حمایت سے کی جانے والی کوششوں کے نتیجے میں ابھی تک اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ نہیں ہو سکا ہے۔ غزہ کا معاملہ جوں کا توں موجود ہے اور اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا کوئی راستہ سامنے نہیں آسکا ہے۔رواں نومبر کے اوائل میں قطر نے حماس اور اسرائیل کو مطلع کیا تھا کہ وہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کی ثالثی کی کوششوں کو معطل کر دے گا جس سے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے کی جانے والی کوششیں تعطل کا شکار ہوگئی تھیں۔



