سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

خون کی کمی میں پالک کا استعمال

حکیم ڈاکٹرمحمد فاروق اعظم حبان قاسمی رحیمی شفا خانہ بنگلور

شناخت: پالک ہمارے ملک ہندوستان اور پڑوسی ممالک میں کھیتی کر کے حاصل کیا جاتا ہے، اس کے پتے لمبے چوڑے اور انڈے کی صورت کے ہوتے ہیں، اس کا ساگ ہمارے ملک کے تمام صوبوں میں ملتا ہے یہ سردی میں زیادہ پیدا ہوتا ہے مگر اب سب موسم میں ملتا ہے صحت کے نقطہ نظر سے سب ساگوں میں سب سے زیادہ مفید ہے۔

پالک کا مزاج سرد ہے اس لئے خون کی گرمی کیلئے مفید ہے۔ خون کی خرابی کو دور کرتا ہے اس میں سوڈیم ، کیلشیم، کالورین، فاسفورس ، آئرن، پروٹین اور وٹامن A اور وٹامن C کے علاوہ لوہا بھی پایا جاتا ہے آئرن ہونے کی وجہ سے خون کی کمی والوں کیلئے بہت ہی مفید ہے۔ پالک کو سبزی کی صورت میں استعمال کیا جاتاہے، بیمار آدمی کو کسی قسم کی سبزی نہیں دی جاسکتی ہے لیکن تمام اطباء پالک کی سبزی کھانے کیلئے مریض کو منع نہیں کرتے کیونکہ یہ خون بڑھانے والی سبزی ہے اور اس کے نام سے سب لوگ واقف ہیں پالک کو علاج کے نقطہ نظر سے بطور دوا مختلف امراض میں استعمال کیا جاسکتاہے۔

خون کی کمی: خون کی کمی میں پالک بہت ہی مفید ہے اسلئے خون پیدا کرنے کیلئے اسے مندرجہ ذیل طریقہ سے استعمال کرنا چاہیے۔

پالک کا رس 25 گرام برائے ایک خوراک، پالک کے پتوں کو اکٹھا کر لیں، انہیں اچھی طرح پانی میں صاف کر کے ان کا رس نکال لیں مندرجہ بالا طریقہ سے بنائی گئی مقدار کے مطابق صبح و شام استعمال میں لائیں، اس کے رس کا اس طرح لگاتار استعمال کرنے سے انسان کے جسم میں خون کی بڑھوتری ہوتی ہے۔ مریض کے لئے اس کی سبزی کا استعمال مفید بتایا گیا ہے یہ سبزی جلدی ہضم ہونے والی ہے۔

صبح وشام بیمار شخص کو اس کے رس کا استعمال کرانے سے جسم میں طاقت کی بڑھوتری ہوگی۔ اگر صحت مند شخص بھی پالک کا استعمال کرتا ہے۔ تو وہ عام طور پر مرض کے حملہ سے بچا رہتا ہے، اس میں کئی دھاتوں کی موجودگی کی وجہ سے بہت سے امراض سے بچنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ اس لئے پالک کا استعمال مریض اور صحت مند دونوں کے لئے بہت مفید ہے اس کے مسلسل استعمال سے انسان میں طاقت و چستی آتی ہے۔

امراض جگر: امراض جگر میں پالک بہت ہی مفید پایا گیا ہے۔ اس میں پالک کا استعمال مندرجہ ذیل طریقہ سے کرایا جاسکتا ہے۔

اردو دنیا واٹس ایپ گروپ https://chat.whatsapp.com/C6atlwNTZ9M9y5J2MFYNGx کو جوائن کرنے کے لئے لنک کلک کریں

پالک رس دس گرام ، پیاز رس دس گرام، پودینہ رس 5گرام، دھنیا رس 5گرام، ایک خوراک بنالیں۔ یعنی ان سب رسوں کو ملا کر ایک خوراک بنالیں، ایسی خوراک صبح اور شام کھانا کھانے سے پہلے استعمال کرنے سے جگر کے تمام نقائص دور ہوتے ہیں۔ یہ رس بھوک نہ لگنے، بدہضمی، دردِ جگر، پیٹ کی گیس میں فائدہ مند ہے، اس لئے ان امراض میں مندرجہ بالا مقدار میں رسوں کا استعمال کرنا چاہیے۔

ایک بات کا دھیان رکھنا بہت ضروری ہے کہ دوا کی صورت میں استعمال کرنے سے پہلے پتہ کر لیں کہ مرض کتنا پرانا ہے، اگر مرض کی شروع حالت ہے تو دس دنوں تک اس رس کا استعمال کرانے سے فائدہ ہوجاتاہے۔ اگر مرض پرانا ہے تو دوا کی صورت میں اس کا کئی مہینوں تک استعمال کرائیں، جب تک مرض دور نہ ہوجائے۔ ٹھیک ہوجانے پر بھی مریض کو مشورہ دیںکہ وہ پالک کو اپنی خوراک میں سبزی کی صورت میں استعمال کرتا رہے جس سے اس کی صحت بنی رہے گی۔

الٹی آنا: قے (الٹی) ایک ایسی حالت ہے کہ اس میں مریض اور اس کے خاندان والے دونوں تنگ آجاتے ہیں قے کی حالت میں پالک کے رس کا مندرجہ ذیل طریقہ سے استعمال کرائیں۔ پالک کا رس 5 ؍ایم ایل ، پیاز کا رس 5 ؍ایم ایل ، پودینہ کا رس 5 ؍ایم ایل ۔ ایک خوراک۔

مندرجہ بالا سب کا رس نکال لیں اور آپس میں ملا لیں مریض کو آدھے آدھے یا ایک ایک گھنٹہ بعد دیتے رہیں۔ مریض کو یہ رس تب تک استعمال کراتے رہیں، جب تک الٹیاں بند نہ ہوجائیں۔

پالک کے رس کا اور اس کی سبزی کاجو شخص لگاتار استعمال کرتا ہے اس کی ہاضمہ کی طاقت بڑھ جاتی ہے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کی سبزی کے استعمال سے جن مریضوں کی ایلو پیتھک ادویات کے استعمال سے بھوک مرجاتی ہے اس سے ان کی ہاضمہ کی طاقت بڑھ جاتی ہے اور بھوک لگنے لگ جاتی ہے۔

امراض چشم: پالک میں وٹامن اے ہو تا ہے، اس لئے یہ آنکھوں سے متعلق امراض میں مفید ہے پالک کا روزانہ استعمال کرنے والوں کو آنکھوں کی بیماریاں نہیں ہوتی ہیں، رتوندھی کے مرض میںپالک کا استعمال بہت ہی مفید ہے اس کے استعمال سے نظر بھی بڑھتی ہے۔

بچوں کا سوکھا روگ: بچوں کو مرض سوکھا ہوجانے پر بچے کی جسمانی بڑھوتری رک جاتی ہے بچے سوکھنے لگ جاتے ہیں، اور دن بدن اتنے کمزور ہوجاتے ہیں کہ ان کی ہڈیاں دکھائی پڑتی ہیں، اگر وقت پر سوکھے مرض کا صحیح علاج نہ کرایا جائے تو بچہ کی موت تک ہوجاتی ہے اس لئے سوکھا مرض ہوتے ہی مستند معالج کا مشورہ لے کر درست دوا کا انتظام کرناچاہیے، اور بچے کو پالک کا رس دس دس ایم ایل دن میں چار بار دینا چاہیے، اس سے سوکھیا مسان دور ہوجاتا ہے۔

چہرہ کے داغ: عورتیں اپنے چہرہ کی خوب صورتی کیلئے مصنوعی پاؤڈر ، اسنو، کریم، لپ سٹک وغیرہ کا استعمال کرتی ہیں، اس کی جگہ اگر لگاتار صرف پالک کے رس کا استعمال کیا جائے تو چہرہ چمکنے لگے گا اور مستقل طور پر چہرہ خوبصورت بنا رہے گا۔

قبض: پالک کے پتوں کو دھوکر بنا پانی ڈالے سل پرپیس کر اس کا رس نکال کردس ایم ایل کی مقدار میں پینے سے قبض دور ہوجاتی ہے۔

یرقان: پالک کے پتوں کو دھوکر اس کا رس نکالیں، اور دس ایم ایل صبح اور دس ایم ایل شام کو دیں، اس سے یرقان (جوانڈس) ٹھیک ہوجاتا ہے۔

پالک کی افادیت کو آپ نے پڑھ لیا ہے۔ اس سے خوب فائدہ اٹھائیں لیکن یہ بات یاد رکھیں کہ میرے والد محترمؒ فرماتے ہیں کہ گردوں اور پتے کی پتھری والے مریضوں کو ہرگز پالک استعمال نہ کرائیں۔اسی طرح جو گردوں کے مریض ہوں مثلاً جن کا کریٹنین بڑھ گیا ہو، یا جن لوگوں کو بلڈ یوریا اور پوٹاشیم کی مقدار بڑھ گئی ہو ایسے اشخاص کو پالک کا استعمال کرانا نقصان دہ ہے۔ اس لئے اپنے قریبی معالج سے بھی اس سلسلے میں مشورہ کر کے آگے قدم بڑھائیں۔

نوٹ: یہ مضمون عام معلومات کے لیے ہے۔ قارئین اس حوالے سے اپنے معالج سے بھی ضرور مشورہ لیں

پالک

پالک میں لوہے کی مقدار کثرت سے موجود ہوتی ہے لہذا پالک کا جوس بھی جوائنڈس کے مریض کے لیے ایک موثر گھریلو علاج ہو سکتا ہے جب کہ پالک کے پتوں کے ساتھ گاجر کا استعمال بھی نہایت مفید ثابت ہو گا۔

چھاچھ

چھاچھ جسم میں کسی قسم کی چربی نہیں بناتا اس لیے یہ بھی ہاضمے کے لیے ایک بہترین مشروب ہے جس پر نمک اور کالی مرچ اور زیرے کی ایک چٹکی ڈال کر روزآنہ پینے سے یرقان کے مریض کو اس بیماری سے نجات حاصل ہو سکتی ہے۔

طبی دنیا کا معتبر نام رحیمی شفاخانہ بنگلور،بالمشافہ ملاقات کریں یا آن لائن رابطہ کریں فون نمبر: 9343712908

متعلقہ خبریں

Back to top button