سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

احتیاط بہتر ہے ,ذیابیطس میں مفید و آسان پرہیز

کھانے کی تین ایسی سفید چیزیں جو میٹھی نہیں ہوتیں مگر ذیابیطس کے مریض کیلئے سخت خطرناک ہوتی ہیں ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں اتنی اموات گزشتہ سال میں کرونا وائرس کے سبب نہیں ہوئی ہیں جتنی اموات ذیابیطس کے مرض کے سبب ہوئیں۔ ذیابیطس کے مرض میں روز بروز اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ یہ بیماری بنیادی طور پر غیر صحت مند طرز زندگی کے سبب ہوتی ہے جس میں سب سے اہم کردار ہماری خوراک کا ہے۔

ذیابیطس کی بیماری اور ہماری خوراک

ذیابیطس کی بیماری کو کنٹرول کرنے کے لئے خوراک کو درست رکھنا بہت ضروری ہے۔ بلکہ ماہرین غذائیت کے مطابق اس بیماری کی شدت کو کم کرنے کے لئے سب سے بنیادی حربہ ہی پرہیز ہے۔ ذیابیطس کے مریضوں میں یہ بھی غلط فہمی ہوتی ہے کہ یہ بیماری میٹھا کھانے سے بڑھتی ہے اس وجہ سے وہ میٹھی چیزوں سے پرہیز کر کے ہی اس کو صحت مند طرز زندگی سمجھتے ہیں جب کہ میٹھی چیزوں کے علاوہ کچھ اور اشیا بھی ایسی ہوتی ہیں جو شوگر کے لیول کو بڑھانے کا سبب بن سکتی ہیں۔

ذیابیطس اور غذا میں شامل تین چیزیں

عام طور پر ہماری غذا میں تین سفید چیزیں ایسی شامل ہیں جو کہ اگرچہ میٹھی نہیں ہوتی ہیں مگر ان کا استعمال خون میں شوگر لیول کو خطرناک حد تک بڑھانے کا سبب بن سکتی ہیں۔

سفید آٹا

آٹے کے اندر اگرچہ چینی کی مقدار بہت کم ہوتی ہے اور 100 گرام آٹے کے اندر اعشاریہ چار گرام چینی ہوتی ہے مگر اس میں بڑی مقدار میں کاربو ہائڈریٹ موجود ہوتے ہیں جو کہ ہضم ہونے کے دوران شوگر میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ خاص طور پر سفید آٹے کا گلیسمک انڈا کس 72 سے 85 تک ہوتا ہے جو کہ خون میں شوگر کے لیول کو تیزی سے اوپر لے کر جاتا ہے اس وجہ سے ذیابیطس کا مریض اگر سفید آٹا کھانا بند کر دیں تو اس سے ان کو شوگر کنٹرول کرنے مین بہت مدد ملتی ہے۔

چاول

چاول جو کہ ہم سب کی خوراک کا لازمی جز تصور کیا جاتا ہے۔ مگر درحقیقت اس کا گلیسمک انڈاکس بھی بہت زیادہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے اس کے استعمال سے فوراً شوگر لیول بڑھ جاتا ہے۔ اس وجہ سے ذیابیطس کے مریضوں کو چاہئے کہ وہ اگر چاول کھانے کے عادی ہو بھی چکے ہیں تو براؤن چاول کا استعمال کریں جو صحت کے لئے مفید ہو سکتے ہیں۔

آلو

آلو دنیا میں سب سے زیادہ پسند کی جانے والی سبزی ہے جس کو ہر عمر کے لوگ دنیا کے ہر حصے میں بہت شوق سے کھاتے ہیں مگر اس کا گلیسمک انڈا کس سفید آٹے سے بھی زیادہ ہوتا ہے اور اس کے استعمال سے شوگر میں بہت تیزی سے اضافہ ہوتا ہے اس وجہ سے شوگر کے مریضوں کو چاہئے کہ وہ آلو کھانا بالکل چھوڑ دیں اور اس بات کا فیصلہ کرلیں کہ یہ سبزی آپ کیلئے نہیں ہے۔

موسم کی سختی چاہے گرمی کی صْورت میں ہو یا سردی کی تکلیف دہ نہ ہو تو کسے پسند نہیں خاص طور پر ہندوستان میں جب گرمی کا موسم آتا ہے تو ٹھنڈے مشروبات اور ٹھنڈے پانی سے نہانا اور کھلی فضا میں رہنا طبیعت کو باغ باغ کردیتا ہے اسی طرحان علاقوں میں جہاں موسم گرما میں شدید گرمی پڑتی ہے وہاں سردی کے موسم کا سارا سال انتظار کیا جاتا ہے اور جب سردی آتی ہے تو دل موج مستی کرنے کو چاہتا ہے اور بندہ بے احتیاطی کر بیٹھتا ہے جس سے موسم کی بیماریاں جیسے نزلہ، زکام، کھانسی، بخار وغیرہ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

دل جب موج میں ہو اور طبیعت ساتھ نہ دے تو بھی سارا مزہ خراب ہوجاتا ہے اسی لئے اس آرٹیکل میں وائرل بیماریوں سے طبیعت کو ناساز ہونے سے بچانے کے لیے اور خوش باش رکھنے کے لئے ہم 7 ایسے قہووں کا ذکر کریں گے جو موسمی بیماریوں کو پیدا ہونے سے روکتے ہیں اور ہر طرح کے موسم میں صحت کو بحال رکھنے میں مدد کرتے ہیں خاص طور پر کرونا کی اس لہر میں ان قہووں کو اپنی روزانہ کی خوراک میں شامل کرنا آپ کی قوت مدافعت کے لیے بہت ضروری ہے۔

بابونہ کے پھول کی چائے

قدیم مصر کے دور میں گْل بابونہ کی چائے کو بہت سی بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال کیا جاتا تھا اور اب سائنس مانتی ہے کہ اس چائے میں اینٹی اینفلامیٹری اور اینٹی مائیکروبیل خوبیاں شامل ہیں جو بارش کے موسم میں صحت کو برقرار رکھنے میں انتہائی مدد گار ثابت ہوتی ہیں۔
سردی اور گرمی کے موسم میں کئی وائرل بیماریاں جیسے نزلہ، زکام، کھانسی وغیرہ عام ہوجاتی ہیں اور بابونہ کی چائے قوت مدافعت کو مضبوط بناکر ان بیماریوں سے بچاتی ہے اور ساتھ ساتھ تھکاؤٹ کو ختم کر کے نیند کو بہتر بناتی ہے جس سے جسم تروتازہ ہوجاتا ہے۔

گلاب کے پھل کی چائے

فضا میں جب وائرل جراثیم موجود ہوںتو ذرہ سی بد احتیاطی گلہ خراب کر سکتی ہے اور ایسے موقع پر گلاب کے پھل کی چائے قوت مدافعت کو توانا کر کے خراب گلے کو آرام پہنچاتی ہے، اس پھل کی چائے میں کئی وٹامنز خاص طور پر وٹامن اے، بی 3، سی، ڈی، ای وغیرہ صحت کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔

ادرک کی چائے

موسم کوئی بھی ہوادرک کی چائے صحت کے لیے بیحد مفید ہے لیکن بارش کے موسم میں ادرک کی چائے پینا بہت ضروری ہوجاتا ہے کیونکہ ادرک میں شامل اینٹی وائرل، اینٹی اینفلامیٹری خوبیاں بارش کے موسم کی موسم کی بیماریوں کو ٹھکانے لگا دیتی ہیں اور ادرک کی چائے پیٹ کو صاف کر کے نظام انہضام کو مضبوط بنادیتی ہے۔

گرین ٹی

ماہرین گرین ٹی پر اپنی روزانہ کی تحقیقات میں اس چائے کا روز کوئی نیا فائدہ دریافت کرتے ہیں، سبز چائے جسم کے فاضل مادوں کو خارج کرکے جگر پر سے بوجھ کو ختم کرتی ہے اور نظام انہظام کو فعال بنا کر قوت مدافعت کو تقویت دیتی ہے اور یہ چائے جہاں صحت کے لیے مفید ہے وہاں اس کا دلچسپ ذائقہ طبیعت کو بھی باغ باغ کر دیتا ہے۔

تلسی کی چائے

تلسی کا پودا کسی اکسیر سے کم نہیں خاص طور بہت سی دائمی بیماریوں جن میں دل، شوگر، ہائی بلڈ پریشر وغیرہ سر فہرست ہیں کو تلسی کا پودا ٹھیک کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور سردی اور گرمی کے موسم میں تلسی کے پتوں کی چائے موسم سے پیدا ہونے والی بیماریوں کو قریب نہیں پھٹکنے دیتی۔

پودینے کا قہوہ

 گرمی کے موسم میں ہسپتالوں میں ایمرجنسی لگائی جاتی ہے تاکہ پیٹ کے امراض میں مبتلا مریضوں کو فوری علاج ہو سکے، سردی کے موسم میں ڈائریا کے ساتھ، اْلٹی، متلی، پیٹ درد جیسی بیماریاں بھی عام ہوتی ہیں اور پودینے کا قہوہ پیٹ کو صاف کر کے ان بیماریوں کے جراثیموں کو سر اْٹھانے سے پہلے ہی ختم کر دیتا ہے۔

بلیک چائے

ہمارے گھروں میں عام استعمال ہونے والی کالی پتی کی چائے بھی اپنے اندر بے شمار خوبیوں رکھتی ہے اور جہاں ہمارے ایمیون سسٹم کو طاقتور بناتی ہے وہاں گلے کو ٹکور کر کے گلے کو صاف کو کرتی ہے اور طبیعت کی سستی کو ختم کرکے موسم کا مزہ دوبالا کرتی ہے۔

نوٹ: اوپر دئیے گئے قہووں میں چینی کا استعمال نقصان دہ ہے آپ ان قہووں میں چینی کی بجائے گڑ اور شہد کا استعمال کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button