سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

غذائیت سے بھرپور دودھ اور انڈا: بہترین ناشتہ-حفصہ فاروق بنگلور

نیند کے بعد جسم کو توانائی کی ضرورت ہوتی ہے

دن بھر کی غذاؤں میں ناشتہ بہت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ سات یا آٹھ گھنٹے رات بھر کی نیند کے بعد جسم کو توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ ناشتے میں انڈے اور دودھ کا استعمال دن کی شروعات میں مفید ہے۔ اس لئے ناشتہ غذائیت سے بھرپور اور متوازن ہونا بہت ضروری ہے۔ ناشتے میں کم ازکم ایک پروٹین لازمی ہونا چاہئے، دودھ اور انڈے ہمارے جسم کی تمام غذائی ضروریات پوری کرسکتے ہیں ۔

پروٹین کا ذریعہ

انڈے اور دودھ پروٹین حا صل کرنے کا ایک بہت اچھا ذریعہ ہیں۔ یہ آئرن، اینٹی آکسایڈینٹ اور امینو ایسیڈ سے بھرپور ہوتے ہیں۔ انڈے کے غذائی اجزاء میں پروٹین وٹامن اے، فولیٹ، وٹامن بی، وٹامن ڈی، وٹامن ای، وٹامن کے، بی 6،آئرن، کیروٹینائڈز، چکنائی وغیرہ شامل ہیں اور کچھ معدنیات جیسے فاسفورس، سیلینیم، کیلشیم اور زنک بھی مناسب مقدار میں موجود ہوتے ہیں جن کی ہمارے جسم کو ضرورت ہوتی ہے۔ دودھ میں بھی وہ تمام غذائی اجزاء شامل ہوتے ہیں جو انسانی جسم کے لیے ضروری ہیں۔ دودھ کے غذائی اجزا میں پروٹین، آئرن، فاسفورس، وٹامن ڈی، سیلینیم، پوٹاشیم، کیلشیم اور وٹامن K2 وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔

ایچ ڈی ایل کولسٹرال

ایچ ڈی ایل سے مراد اچھا کولیسٹرول ہے جو صحت کے لئے مفید ہے۔ انڈوں سے ایچ ڈی ایل اچھے کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ ہوتا ہے جو امراض قلب، فالج اور دوسرے متعدد امراض سے محفوظ رکھتاہے۔ روزانہ دو انڈے کھانے سے ایچ ڈی ایل کی سطح میں خاطر خواہ اضافہ ہوتاہے۔ انڈوں اور دودھ سے پروٹین حاصل ہوتی ہے۔ جو جسمانی نشو و نما اور افعال کیلئے بہت ضروری ہے۔ یہ توانائی میں اضافہ کرتے ہیں۔ بلڈ پریشر کی سطح کوبھی کم کرتے ہیں۔

آنکھوں کی بینائی

انڈوں میں ایسے اجزاء بھی شامل ہوتے ہیں جو آنکھوں کی بینا ئی کے لئے مفید ہیں اس لئے بڑھتی عمر کے ساتھ نظر کی کمزوری کا امکان کم ہوتاہے۔ کیونکہ اس کے غذائی اجزا میں وٹامن اے بھی شامل ہوتا ہے جو آنکھوں کی بینائی کے لئے مفید ہے۔

کاربو ہائیڈریٹس

انڈے میں کاربوہائیڈریٹس کی کم مقدار شامل ہوتی ہے اس لئے انڈا ذیابطیس کے مریضوں کے لئے نہایت مفید اور بہترین غذا ہے اور اہم ضروری قدرتی غذائی اجزاء حاصل کرنے کا ایک بہترین ذریعہ بھی ہے۔

پروٹین

انڈہ اور دودھ ایک ایسی غذا ہے جس میں شامل پروٹین کی وافر مقدار کی وجہ سے پیٹ زیادہ دیر تک بھرا ہوا محسوس ہوتا ہے اور کافی دیر تک بھوک محسوس نہیں ہوتی جس کی وجہ سے وہ دوسری غذائیں کھانے کی طرف رغبت نہیں ہوتی اور جسمانی وزن میں اضافہ نہیں ہوتا۔

زنک وسیلینیم

دودھ اور انڈے قوت مدافعت میں اضافہ کرتے ہیں۔انڈوں کی زردی میں زنک اور سیلینیم جیسے غذائی اجزاء بھی شامل ہوتے ہیں۔ زنک اور سیلینیم دونوں معدنیات مدافعاتی نظام میں اضافہ کرتی ہیں۔ انڈے کی زردی سے کولیسٹرول کی سطح میں تھوڑا سا اضافہ ہوتا ہے، لیکن انڈے کی سخت زردی اتنا نقصان دہ نہیں ہوتی ہے۔اسی طرح روزانہ ایک گلاس دودھ مدافعاتی نظام کو بہتر کرتا ہے۔

کیلشیم

دودھ پٹھوں دانتوں اور ہڈیوں کی مضبوطی کے لئے بہترین ہوتا ہے کیونکہ اس میں کیلشیم شامل ہوتاہے۔ یہ ہڈیوں کی بیماریوں جیسے آسٹیوپوروسس سے بھی محفوظ رکھتاہے۔

اومیگا تھری

انڈے اور دودھ سے اومیگا تھری فیٹی ایسڈز بھی حاصل ہوتا ہے جو ایک صحت بخش چربی ہے۔ جس سے خون میں ٹرائگلیسرائیڈ کی سطح کم ہوتی ہے۔ جو امراض قلب سے محفوظ رکھتا ہے۔انڈے اور دودھ میں کافی مقدار میں امینو ایسیڈز شامل ہوتے ہیں اور یہ پروٹین اور صحت مند چکنائی حاصل کرنے کے اچھے ذرائع میں شمار ہوتے ہیں۔ انڈوں کی طرح دودھ بھی اہم ضروری غذائی اجزا پر مشتمل ہوتا ہے یہ بھی پروٹین اور کیلشیم حاصل کرنے کا ا چھا ذریعہ ہے۔ بلکہ دودھ تو ایک مکمل غذا ہے۔

میٹا بولزم

ان میں شامل غذائی اجزاء میٹا بولزم کی کارکردگی کو بڑھاتے ہیں۔ اکثر اوقات لوگ ایک ہی وقت میں ایک ہی قسم کی غذا استعمال نہیں کرتے بلکہ مختلف غذاؤں کو ملا کر ان کا استعمال کرتے ہیں، کچھ غذائیں ملاکر کھانے سے ان کی غذائیت بڑھ جاتی ہے اور ان کا استعمال انسانی جسم کی صحت و تندرستی کے لئے مفید ثابت ہوتاہے اسی طرح کچھ غذائیں ملا کر کھانے سے انسانی جسم پر ان کے مضر اثرات رونما ہوتے ہیں لیکن انڈا اور دودھ بیک وقت استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ بہت ہی مقوی ناشتہ ابلا ہوا انڈا اور ابلا ہوا دودھ ہے جو انتہائی قوت اور صحت بخش غذا ہے۔ اور جن کا تیار کرنا بھی آسان ہے۔

کچا انڈا بیکٹریل انفیکشن کا سبب بن سکتا ہے اور فوڈ پوائزنگ کی وجہ بھی بن سکتا ہے۔ لیکن کچا انڈا دودھ کے ساتھ ملا کر پینا صحت بخش ہے مضر صحت نہیں ہے۔ اسی طرح کچا ڈیری فارم کا دودھ یعنی تازہ دودھ بھی صحت کیلئے نقصان دہ ہوسکتا ہے اگر اسے ابالا نہ جائے اس لئے ڈیری فارم کا کچا دودھ ہمیشہ ابال کر پینا چاہئے کیونکہ آگ پر ابالنے سے اس میں شامل بیکٹریا یعنی جراثیم آگ کی گرمائش اور دودھ کو ابالنے سے مر جاتے ہیں اور دودھ انتہائی صحت بخش غذا بن جاتاہے۔ اس لئے ابلے ہوئے دودھ سے کوئی نقصانات نہیں ہیں۔

انڈا ہو یا دودھ دونوں ہی انتہائی غذائیت سے بھرپور، صحت بخش اور متوازن غذائیں ہیں۔ ان دونوں کو ہی اپنے ناشتے کی خوراک میں شامل رکھنے کی کوشش کرنی چاہئے لیکن اگر کسی کو کوئی طبی مجبوری ہے تو پھر کم از کم کسی ایک کو ناشتے میں شامل رکھیں۔ مثلا دودھ میں کاربوہائیڈریٹ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے اور کچھ امراض میں کاربوہائیڈریٹ والی غذاؤں سے پرہیز ہوتا ہے تو اس صورت میں دودھ کے بجائے انڈے کو اپنے ناشتے کی خوراک میں شامل رکھیں۔ اسی طرح کچھ افراد کو انڈے یا دودھ کی ہیک یا مہک پسند نہیں ہوتی تو دود ھ کو کیلے، آم، چیکو وغیرہ کے پھل کے ساتھ جوس بنا کر استعمال کریں اس سے زیادہ غذائیت حاصل ہوگی۔ اسی طرح انڈے کو فل بوائل کرلیں تو انڈے کی ناگوار مہک ختم ہوجاتی ہے یا انڈے کو کچھ مصالحہ جات ملا کر استعمال کریں۔

فرائی پین میں دو چائے کے چمچے آئل گرم کریں۔ اب اس میں ایک عدد درمیانی سائز کی باریک چھوٹی چھوٹی کٹی ہوئی پیا ز ڈال کر اسے اتنا تلیں کہ صرف ہلکا سا رنگ تبدیل ہو یعنی لال نہیں کرنا اب اس میں آدھا چمچہ لہسن ادرک کا پیسٹ ڈال کر ہلکی آنچ پربھونیں۔ لہسن ادرک بھوننے کے بعد اس میں ایک چھوٹے ٹماٹر کے باریک کٹے ہوئے ٹکڑے، ایک چوتھائی چمچہ لال مرچ، ایک چوتھائی چمچہ ہلدی، ایک کٹی ہوئی ہری مرچ اور حسب ذائقہ نمک ڈال کر ٹماٹر نرم ہونے تک پکائیں۔ اب اس میں انڈا توڑ کر ڈال دیں اور جلدی جلدی آمیزے کو مکس کریں کہ مصالحہ اور انڈا یک جان ہو جائیں ۔ 2 سے 4 منٹ تک تلنے کے بعد چولھے سے اتار لیں اور نوش فرمائیں۔ اس ترکیب سے انڈے کی مہک نہیں آئے گی اور انڈے کے غذائی اجزا بھی کافی حد تک حاصل ہوجائیں گے۔

اردو دنیا واٹس ایپ گروپ https://chat.whatsapp.com/C6atlwNTZ9M9y5J2MFYNGx  جوائن کرنے کے لئے لنک کلک کریں

طبی دنیا کا معتبر نام رحیمی شفاخانہ بنگلور،بالمشافہ ملاقات کریں یا آن لائن رابطہ کریں فون نمبر: 9343712908

متعلقہ خبریں

Back to top button