سرورقصحت اور سائنس کی دنیا

تحقیق،وٹامنز گولیوں کا استعمال رقم کا ضیاع

ان سے دل کی بیماری یا کینسر کا خطرہ گھٹ جاتا ہے

امریکی ماہرین کے ایک آزاد پینل یوالیس پری و نٹیو سروسیز ٹاسک فورس (USPSTF) نے کہا ہے کہ ملٹی وٹامنز گولیوں کا استعمال رقم کا ضیاع ہے اور اس بارے میں بھی بہت کم ثبوت دستیاب ہیں کہ ان سے دیرینہ بیماریوں کی روک تھام میں کوئی مدد ملتی ہے۔ سائنسدانوں نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ صحت مند لوگوں کیلئے سپلی منٹس کا استعمال بالکل غیر ضروری ہے کیونکہ اس بارے میں وافر شواہد موجود نہیں ہیں کہ ان سے دل کی بیماری یا کینسر کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔ وٹامن سپلی منٹس تیار کرنے والی دواساز کمپنیاں بہت تیزی سے پھل پھول رہی ہیں کیونکہ برطانوی باشندے ہر سال 43 کروڑ پاؤنڈ وٹامن یا منرل کی گولیوں پر خرچ کرتے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق روزانہ 2 کروڑ افراد اس ملک میں کسی نہ کسی قسم کی سپلی منٹ استعمال کرتے ہیں۔

امریکہ میں بھی آدھی سے زیادہ آبادی سپلی منٹس لیتی ہے اور سالانہ ڈیڑھ ارب ڈالر اس مد میں خرچ کرتی ہے۔ بہت سے لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے استعمال سے دل کے مسائل اور کینسر کا خطرہ گھٹ جاتا ہے۔ ان دعوؤں کی بنیاد چھوٹے پیمانے پر لیے گئے جائزوں کے نتائج پر ہوتی ہے لیکن اس قسم کے درجنوں تحقیقی مقالات کے ایک نئے اور بڑے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ ان دعوؤں کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔

نئے جائزے میں خاص طور پر ’’بیٹا کیروٹین‘‘ کے بارے میں انتباہ جاری کیا گیا ہے۔ یہ سپلی منٹ اس حوالے سے بہت مقبول ہے کہ اس سے مدافعتی نظام تواناہوتا ہے لیکن حالیہ تحقیق یہ بتاتی ہے کہ بیٹا کیروٹین فائدہ کے بجائے نقصان پہنچاتی ہے۔ تا ہم اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ افراد جن میں وٹامن کی کمی پائی جاتی ہے وہ غذائی سپلیمنٹس مثلا کیلشیم اور وٹامن ڈی سے بدستور فائدہ اٹھا سکتے ہیں جن کے بارے میں شواہد موجود ہیں کہ ان کے استعمال سے معمر یا بزرگ افراد فریکچر ز اور گرنے سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ ریسرچرز نے کہا ہے کہ پھلوں اور سبزیوں کے کھانے سے قلبی شریانی بیماری اور کینسر کا خطرہ گھٹ سکتا ہے اس لیے یہ سوچ منطقی ہے کہ اہم وٹامنز اور منرلز ان پھلوں اور سبزیوں سے کشید کر کے ایک گولی میں قید کر دیئے جائیں، اس طرح بہت سے جھمیلوں اور متوازن غذا کے اخراجات سے بچا جا سکے گا لیکن سالم پھل اور سبزیوں میں وٹامنز کے آمیزے، نباتاتی کیمیکلز، فائبر (ریشے) اور دیگر غذایتیں بھی ہوتی ہیں جو ایک ساتھ مل کر صحت پر بہت اچھے اثرات مرتب کرتی ہیں۔

بہت ننھی غذائیتیں (Micro Nutrients) انفرادی طور پر جسم پر مختلف انداز سے کام کرتی ہیں جبکہ قدرتی حالت میں دیگر غذائی اجزاء کے ساتھ مل کر ان کے کام کرنے کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ بعض جائزوں سے یہ تاثر ملتا ہے کہ مخصوص وٹامنز مثلا وٹامن E سے امراض قلب کا خطرہ گھٹ سکتا ہے۔ اسی طرح وٹامن A، وٹامن C اور بیٹا کیروٹین میں اینٹی آکسیڈنٹس شامل ہوتے ہیں جن کے بارے میں کبھی یہ سمجھا جاتا تھا کہ ان سے کینسر کا خطرہ کم ہو جاتا ہے۔ USPSTF کی نئی رپورٹ کے ایک حصے کے طور پر سائنس دانوں نے وٹامن ای، وٹامن اے، بیٹا کیروٹین اور ملٹی وٹامنز کے 84 جائزوں کا تجزیہ کیا تھا۔ وٹامن ای جو عموماً مغزیات اور بیجوں میں پائی جاتی ہے اور ہماری جلد اور آنکھوں کو صحت مند رکھنے میں کردار ادا کرتی ہے، اس کے بارے میں جائزوں میں دیکھا گیا کہ اس کے سپلی منٹ نے قلبی شریانی بیماری یا کینسر کے لاحق ہونے یا اس سے ہلاک ہونے سے بچانے میں کوئی اثر نہیں ڈالا۔

جو لوگ سگریٹ نوشی کرتے تھے یا ایز بسٹاس (Asbestos) سے آلودہ ماحول میں کام کر رہے تھے اور ساتھ میں بیٹا کیروٹین کے سپلی منٹس بھی استعمال کر رہے تھے، ان میں ان لوگوں کے مقابلے میں جو کہ سپلی منٹس نہیں لے رہے تھے، پھیپھڑے کے سرطان کا خطرہ 18 فیصد زیادہ تھا۔ بیٹا کیروٹین ایک سرخ نارنجی رنگ دار مادہ ہے جو گا جر اور ٹماٹر میں پایا جاتا ہے اور جلد کو صحت مند رکھنے میں کردار ادا کرتا ہے۔ یہ غذائی جزو جسم کو زیادہ وٹامن اے تیار کرنے کیلئے متحرک کرتا ہے۔ وٹا من اے بصارت، جسمانی افزائش، خلیات کی تقسیم اور مدافعتی نظام کیلئے اہم سمجھی جاتی ہے۔ رپورٹ میں حتمی طور پر یہ کہا گیا ہے کہ جائزے نے یہ دیکھا کہ کسی بھی قسم کے ملٹی وٹامنز کے استعمال سے کینسر یا امراض قلب کے علاج میں کوئی مدد نہیں لی جاسکتی اور اس بارے میں شواہد ناکافی ہیں۔

لیکن ریسرچ ٹیم نے کہا ہے کہ حاملہ خواتین، وٹامنز مثلاً فولک ایسڈ کے استعمال سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں جو جنین کی صحت مندانہ افزائش میں کردار ادا کرتا ہے۔ جن لوگوں میں مخصوص وٹامنز کی کمی ہوتی ہے وہ بھی سپلی منٹس سے استفادہ کر سکتے ہیں۔

نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی میں چیف آف جنرل میڈیسن ڈاکٹر جیفری لینڈر نے کہا ہے کہ لوگوں کو اپنے طبی مسائل کے حل کیلئے ’’جادوئی قسم کی گولیوں کی تلاش اب ترک کر دینی چاہیے۔ مریض اکثر و بیشتر ہم لوگوں سے پوچھتے رہتے ہیں کہ مجھے کون سی سیپلی منٹس لینی چاہئیں؟ یہ لوگ اپنے پیسے ضائع کر رہے ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ جادوئی خصوصیات والی گولیاں انہیں صحت مند رکھ سکتی ہیں۔ ان لوگوں کو چاہیے کہ وہ صحت بخش خوراک اور ورزش پر زیادہ توجہ دیں، جن کے فوائد ثابت شدہ ہیں۔

متعلقہ خبریں

Back to top button