
اتراکھنڈ: (اردودنیا.اِن)اتراکھنڈ کے وزیر اعلی تری ویندر سنگھ راوت نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اطلاع کے مطابق راوت نے اگلے سال ہونے والے ریاستی اسمبلی انتخابات سے قبل پارٹی کی حالت بہتر بنائے جانے کی کوشش کے طور پر یہ عہدہ چھوڑ ا ہے۔60 سالہ راوت نے گورنر بی بی رانی موریہ کو استعفیٰ بھی پیش کردیا ہے ۔
اتراکھنڈ میں پچھلے کچھ دنوں سے سیاسی سرگرمیوں میں شدت آئی ہے ، فی الحال کابینہ میں وزیر دھن سنگھ راوت کو وزیراعلی کے عہدے کی دوڑ میں سب سے آگے کے طور پر سمجھاجارہا ہے۔ وہ نجی ہیلی کاپٹر میں سری نگر گڑھوال سے دہرادون کے لئے روانہ ہوگئے ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ تری ویندر سنگھ راوت نے حال ہی میں دہلی میں بی جے پی اعلیٰ کمان سے متعدد میٹنگیں کی تھیں۔
یہ سمجھا جاتا ہے کہ پارٹی قیادت کو اپنے اراکین اسمبلی کی ’’فیڈبیک‘‘ موصول ہوئی ہے کہ اگلے سال فروری میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کے ذریعہ بہتر کارکردگی کی امید سے ، وزیراعلیٰ کی طر ف سے کارکردگی میںکم ترمظاہرہ ، پارٹی کے لئے مضر رساں ثابت ہوسکتا ہے۔ راوت نے بی جے پی کے سربراہ جے پی نڈا سے ملاقات کی تھی،
اس سے قبل مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے اتراکھنڈ کی سیاسی صورتحال کے بارے میں تبادلہ خیال کیا تھا۔اس سے قبل بی جے پی کور گروپ کی اچانک میٹنگ نے اتراکھنڈ کے سیاسی پارہ میں اضافہ کردیا ہے۔ کئی ممبران اسمبلی نے سی ایم راوت کے خلاف برہمی کا اظہار کیا اور قیادت کو متنبہ کیاتھا کہ پارٹی کو 2022 کے اسمبلی انتخابات میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس کے بعد پارٹی قیادت نے بی جے پی کے نائب صدر رمن سنگھ اور پارٹی کے جنرل سکریٹری دوشینت سنگھ گوتم کوبطور مبصربھیجاتھا، اس کے بعد پیر کو دہلی میں پارٹی ہائی کمان کی میٹنگ ہوئی ، اس میٹنگ میں بی جے پی کے قومی صدر جے پی نڈا ، وزیر داخلہ امیت شاہ اور پارٹی کے جنرل سکریٹری بی ایل سنتوش موجود تھے۔ فیصلے کرنے میں ان کی مبینہ نا اہلی سے پارٹی کے کئی ارکان میں برہمی تھی ۔



