سرورقسیاسی و مذہبی مضامین

اُتراکھنڈ میں مدارس کے خلاف کارروائی: حکومت کی منشاء یا سیاسی حکمتِ عملی؟-احمد بھارتی

بھاجپا حکومت کا مؤقف: غیر قانونی مدارس خطرہ؟

بھاجپا حکومت کا اقلیتوں پر دباؤ

مودی کی بھاجپا سرکار نے ملک میں اقلیتوں اور خاص طور سے مسلمانوں کا جینا دْشوار کردیاہے۔ مرکز کی بات چھوڑیں تو، ملک کے جن جن صوبوں میں بھاجپا کی ڈبل انجن والی سرکاریں برسر اقتدار ہیں، وہاں آئے دن کسی نہ کسی بات کو لے کر مسلمانوں کی مشکیں کسی جا رہی ہیں۔ ملک میں ابھی ماب لنچنگ، گائے کے نام پر مسلمانوں کا قتل، بلڈوزر سے اْن کے گھروں کو مسمار کرنا، ہر مسجد کے نیچے مندر ڈھونڈ نکالنے کا شغل اور اْردو اور اورنگ زیب کے تنازعات ابھی تھمے بھی نہیں ہیں کہ اْتراکھنڈ میں بھاجپا کی پشکر سنگھ دھامی سرکار نے اب اْردو عربی مدارس پر حملہ بول دیا ہے۔

اُتراکھنڈ میں مدارس کی بندش اور حکومتی اقدامات

اتراکھنڈ میں 136 مدارس کو سیل کرنے کے بعد وزیر اعلی پشکر سنگھ دھامی نے اْردو اداروں کی فنڈنگ کی جانچ کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ اْتراکھنڈ ریاست میں مارچ سے اب تک ایسے 136 مدارس کے خلاف کارروائی کی جا چکی ہے جو محکمہ تعلیم یا مدرسہ بورڈ میں رجسٹرڈ نہیں تھے۔ سرکاری اندازوں کے مطابق ریاست میں تقریباً 450 رجسٹرڈ مدارس ہیں جبکہ 500 مدرسے ان دونوں محکموں کی منظوری کے بغیر کام کر رہے ہیں۔ حالانکہ یہ ادارے سوسائٹیز رجسٹریشن ایکٹ کے تحت چلائے جا رہے ہیں۔

مدارس کے خلاف کارروائی کی تفصیلات

حکام نے بتایا کہ اْدھم سنگھ نگر میں 64 مدارس سیل کر دیے گئے ہیں جبکہ دہرادون میں 44، ہریدوار میں 26 اور دو مدارس پوڑی گڑھوال میں سیل کئے گئے ہیں۔ اْتراکھنڈ کی پرشکر سنگھ دھامی حکومت نے ایک بیان میں کہا ہے کہ "غیر قانونی مدارس، مزارات اور تجاوزات کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔” اْتر پردیش کی سرحد سے متصل قصبوں میں غیر رجسٹرڈ مدارس کی اطلاع ملی ہے اور ایسے غیر قانونی ادارے سیکورٹی کیلئے سنگین تشویش کا باعث ہیں۔

اِس سے قبل جنوری میں اْتراکھنڈ حکومت کی جانب سے مدارس کی تصدیقی مہم شروع گئی تھی۔ وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر ضلع انتظامیہ مدارس کے مالی ذرائع سمیت مختلف پہلوؤں کا پتہ لگانے کیلئے سروے کر رہی ہے۔ بتا دیں کہ اِس سے قبل 12 مارچ کو اْتراکھنڈ کی بھاجپا اقتدار والی دھامی حکومت نے اْتر پردیش کی یوگی حکومت کی طرز پر ریاست میں مدارس کے خلاف کارروائی تیزی سے آگے بڑھا رہی ہے۔ مدارس کو غیر قانونی بتا کر سیل کیا جا رہا ہے۔

بھاجپا حکومت کا مؤقف: غیر قانونی مدارس خطرہ؟

مدارس کے خلاف ریاستی حکومت نے سخت رویہ اپناتے ہوئے گزشتہ 15 دنوں میں 52 سے زائد غیر قانونی مدارس کو سیل کر دیا ہے۔ حکام وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کی ہدایت پر غیر قانونی مدارس کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔ غیر قانونی مدارس کے سوال پر وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے کہا کہ ریاست میں چل رہے غیر قانونی مدارس کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔

ریاست میں گزشتہ 15 دنوں کے اندر دہرادون کے وکاس نگر میں 12 اور ادھم سنگھ نگر ضلع کے کھٹیما میں 9 غیر قانونی مدارس کو سیل کیا گیا ہے۔ اْنہوں نے بتایا کہ دہرادون کے پچھوادون اور دیگر علاقوں میں غیر قانونی طور پر مدارس چلائے جانے کی شکایات موصول ہو رہی تھیں۔ اس کے ساتھ ہی ان دنوں آبادی کی تبدیلیوں کے معاملات بھی اْتراکھنڈ میں کافی دیکھے جا رہے ہیں۔ اس کے پیش نظر وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے اْتراکھنڈ کی اصل شکل کو برقرار رکھنے کیلئے سخت موقف اختیار کیا ہے۔وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے کہا کہ حکومت اْتراکھنڈ میں ایسے غیر قانونی مدارس کے خلاف تحقیقات کیلئے پرعزم ہے۔ تحقیقات میں جو بھی مدرسہ غیر قانونی پایا جائے گا، اْس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ یہ سلسلہ مسلسل جاری رہے گا۔

مسلم تنظیموں کا ردعمل اور احتجاج

واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں ایم ڈی ڈی اے (مسوری دہرادون ڈیولپمنٹ اتھارٹی) نے اتراکھنڈ کے دہرادون ضلع میں کئی مدارس کے خلاف کارروائی کی تھی۔ اس کی مخالفت میں مسلم برادری نے دہرادون ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے دفتر کا گھیراؤ کیا تھا اور اپنی ناراضگی ظاہر کی تھی۔ معاملہ بڑھنے پر پولیس کو بلایا گیا تھا اور پولیس نے ہنگامہ کرنے والے متعدد لوگوں کو حراست میں لے لیا تھا۔

جمعیت علماء ہند نے اْتراکھنڈ حکومت کی اس کارروائی کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔ جمعیت کا موقف ہے کہ ان اداروں کو سیل کرنے سے پہلے منتظمین کو نوٹس نہیں دیا گیا۔ جمعیت کے مطابق "یہ کارروائی رمضان کے دوران ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب اپنے گھروں سے دور ہاسٹل میں مقیم بچے پریشانی کا شکار ہو سکتے ہیں۔”

اْدھر مدرسہ بورڈ کے چیئرپرسن مفتی شمعون قاسمی نے کہا ہے کہ سیل کئے گئے مدارس کے بچوں کو قریبی اسکولوں اور مدارس میں منتقل کیا جائے گا اور انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ وہ بچوں کی منتقلی کا عمل شروع کر دے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کو تعلیم کا بنیادی حق حاصل ہے اور ہم اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ اس کی خلاف ورزی نہ ہو۔

واضح رہے کہ غیر تسلیم شدہ مدارس دارالعلوم دیوبند، دارالعلوم ندو العلماء جیسے بڑے مدارس کے تجویز کردہ نصاب کی پیروی کرتے ہیں جبکہ تسلیم شدہ مدارس اْتراکھنڈ ریاستی بورڈز کے تحت آتے ہیں۔

مسلم تنظیموں کا الزام ہے کہ اس وقت رمضان کا مقدس مہینہ چل رہا ہے اور حکام نے جان بوجھ کر ایسی کارروائی کی ہے۔ مسلم تنظیموں نے رمضان کے دوران کی گئی اس کارروائی کو بدنیتی پر مبنی قرار دیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ضلعی انتظامیہ نے انہیں نہ تو کوئی نوٹس دیا ہے اور نہ ہی اس کارروائی کے بارے میں کوئی پیشگی اطلاع دی ہے۔

مسلم کمیونٹی کے لوگوں نے کہا کہ اگر ضلعی انتظامیہ نے اس کارروائی کو نہیں روکا تو اْن کے احتجاج میں اضافہ ہوگا۔ مسلم تنظیموں نے ضلع انتظامیہ پر من مانی سے کام لینے کا الزام لگایا ہے۔

اْدھر مسلم آرگنائزیشن کے صدر نعیم قریشی نے کہا ہے کہ رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں مساجد اور مدارس کو بند کیا جا رہا ہے اور نہ ہی انتظامیہ کوئی اطلاع دے رہی ہے کہ مساجد اور مدارس کو کس ایکٹ کے تحت بند کیا جا رہا ہے۔ تمام کارروائی بغیر نوٹس کے کی گئی ہے جو کہیں نہ کہیں انتظامیہ کی ناکامی ہے۔

مدارس کے خلاف کارروائی: سیاسی محرکات؟

دراصل، اْتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کے سامنے ان دنوں مسلمانوں کے خلاف فرقہ وارانہ ماحول سازی میں اْتر پردیش کے وزیر اعلیٰ ادتیہ ناتھ یوگی، آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما اور اب مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ بن چکے دویندر فڈنویس سے آگے نکلنے کا ایک زبردست چیلنج بنا ہوا ہے جس کو وہ بہت جلد سر کرنا چاہتے ہیں۔

تعلیم پر سیاست: خطرناک رجحان

بہرکیف، ہم اِن لوگوں کے سیاسی کھیل کی گہرائی میں نہیں جانا چاہتے، ہم صرف یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اْتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی کو اْردو عربی مدارس کو سیل کرنے سے کیا حاصل ہوگا؟

تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کا ستون ہے اور اْس کے ساتھ کسی بھی قسم کی مصلحت بازی ناقابل قبول ہونی چاہیے۔ یہ صورتحال کسی بھی مہذب اور جمہوری ملک کیلئے لمحہ فکریہ ہونی چاہیے، مگر بدقسمتی سے یہاں جمہوریت کی جگہ فسطائیت نے لے لی ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button