قومی خبریں

گیان واپی مسجد کے سلسلہ میں وارانسی ضلع جج کورٹ کا فیصلہ مایوس کن:آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ

یعنی 15 اگست پیلس آف ورشپ ایکٹ1947 کے بعد بھی وہ اس متنازعہ جگہ پر ہندوفریق دیوتاؤں کی پوجا کرتے رہے ہیں

نئی دہلی ،12ستمبر :(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے اپنے پریس نوٹ میں کہا ہے کہ گیان واپی مسجد سے متعلق ضلع جج کورٹ کا ابتدائی فیصلہ مایوس کن اور تکلیف دہ ہے۔ مولانا رحمانی نے کہا کہ ۱۹۹۱ میں بابری مسجد تنازعہ کے درمیان پارلیمینٹ نے منظور کیا تھا کہ بابری مسجد کے علاوہ تمام عبادت گاہیں ۱۹۴۷ء میں جس طرح تھیں، ان کو اسی طرح رکھا جائے گا اور اس کے خلاف کوئی نزاع معتبر نہیں ہوگی، پھر بابری مسجد کے مقدمہ کے فیصلہ میں بھی سپریم کورٹ نے مذہبی مقامات سے متعلق ۱۹۹۱کے قانون کی توثیق کی اور اس کو واجب العمل قراردیا، مگر اس کے باوجود جو لوگ ملک میں منافرت قائم رکھنا چاہتے ہیں اور جن کو اس ملک کا اتحاد گوارا نہیں ہے،

انہوں نے بنارس کی گیان واپی مسجد کا مسئلہ اٹھایا اور افسوس کہ مقامی ضلع جج کورٹ نے ۱۹۹۱کے قانون کو نظرانداز کرتے ہوئے درخواست قبول کرلی اور اب یہ تکلیف دہ مرحلہ بھی سامنے آرہا ہے کہ کورٹ نے ابتدائی طور پر ہندوانتہاپسند گروپ کے اس دعویٰ کو قبول کرلیا اور ان کے لیے راستہ آسان بنادیا ہے، یہ ملک و قوم کیلئے تکلیف دہ بات ہے،

اس سے ملک کا اتحاد متأثر ہوگا، قومی ہم آہنگی کو نقصان پہنچے گا۔ انتہاپسندی اور تشدد کو تقویت پہنچے گی اور شہرشہر تصادم کی شکل پیدا ہوجائے گی، حکومت کو چاہئے کہ پوری قوت کے ساتھ ۱۹۹۱ کے اس قانون کو نافذ کرے، تمام فریقوں کو اس پر قائم رہنے کی پابند بنائے اور ایسی صورت حال پیدا نہ ہونے دے کہ اقلیتیں انصاف سے مایوس ہوجائیں اور محسوس کریں کہ ان کے لئے انصاف کے تمام دروازے ہوچکے ہیں ۔


گیان واپی معاملہ میں ضلعی عدالت کا فیصلہ:سنگل بنچ نے اس وجہ سے پیلس آف ورشپ کو عدم مانع قرار دیا

میڈیا رپورٹ کے مطابق گیان واپی شرینگر گوری معاملہ میں وارانسی کی ضلعی عدالت نے ہندو فریق کے حق میں فیصلہ دیا ہے۔ کیس میں فیصلہ سناتے ہوئے ڈسٹرکٹ جج اے کے وشویش کے سنگل بنچ نے کیس کو قابل سماعت سمجھا۔ عدالت نے مسلم فریق کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کیس قابل’ سماعت ‘ہے، خیال رہے کہ کیس کی اگلی سماعت 22 ستمبر کو ہوگی۔ اس معاملہ میں مسلم فریق نے 1991 کے عبادت ایکٹ کے تحت دلیل پیش کرتے ہوئے احاطے میں پوجا کی اجازت پر اعتراض کیا تھا۔ دوسری جانب ہندو فریق کا کہنا تھا کہ شرینگر گوری میں پوجا کی اجازت دی جائے۔

عدالت نے تحریری حکم میں کہا کہ عبادت گاہوں کے قانون سے متعلق مسلم فریق کی دلیل درست نہیں ہے۔ عرضی گزار صرف گیان واپی کے اندر پوجا کرنے کی اجازت مانگ رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق ہندوفریق کا کہنا ہے کہ 1993 تک وہ وہاں شرنگر گوری ، گنیش، ہنومان جی کی پوجا کرتے رہے ہیں۔ یہ سال 1993 کے بعد ہوا جب انتظامیہ نے ہر روز عبادت پر پابندی لگا دی اور سال میں صرف ایک دن (وسنتک نوراتر کے چوتھے دن) پوجا کی اجازت دینا شروع کی۔

یعنی 15 اگست پیلس آف ورشپ ایکٹ1947 کے بعد بھی وہ اس متنازعہ جگہ پر ہندوفریق دیوتاؤں کی پوجا کرتے رہے ہیں۔عدالت نے کہا کہ درخواست گزاروں نے زمین کی ملکیت کا کوئی دعویٰ نہیں کیا ہے اور نہ ہی انہوں نے اس جگہ کو مندر قرار دینے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس لیے ان دلائل کے پیش نظر، عبادت گاہوں کا قانون اس کیس کی سماعت میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

Back to top button