ورون گاندھی نے اُٹھایا جی ایس ٹی کے ’غلط ‘نفاذ کا مسئلہ دودھ، آٹا، دال پر جی ایس ٹی ،مگر شراب اور پٹرول پر نہیں
نئی دہلی، 20جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں) مرکز میں حکمراں قومی جمہوری اتحاد کے اہم اتحادی بھارتیہ جنتا پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ورون گاندھی بھی مہنگائی کے معاملے پر اپوزیشن کے ساتھ مل کر حکومت کو لگاتار ہدف تنقید بنا رہے ہیں۔ ورون گاندھی نے بدھ کے روز بھی ٹوئٹ کر کے جی ایس ٹی کے تعلق سے حکومت کو نشانہ بنایا۔کھانے پینے کی اشیاء پر جی ایس ٹی عائد کئے جانے کو غیر معقول قرار دیتے ہوئے ورون گاندھی نے کہا کہ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو مل کر جی ایس ٹی کا عوام دوست مسودہ تیار کرنا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ اب جس طرح سے یہ ٹیکس لگایا جا رہا ہے اس سے اس کا اصل مقصد پیچھے رہ گیا ہے۔ورون گاندھی نے ٹوئٹ کیا کہ دودھ، آٹا، دالیں، چاول وغیرہ جیسی اشیاء پر جی ایس ٹی لاگو کیا گیا ہے۔ شراب، پٹرول اور ڈیزل وغیرہ پر نہیں! اگر عوام اس ٹیکس سسٹم کا سارا بوجھ اٹھائیں گے تو اس کو لانے کا مقصد ہی پیچھے رہ جائے گا۔
مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو جی ایس ٹی کا عوام دوست مسودہ تیار کرنے کے لیے مل کر کام کرنا ہوگا۔واضح رہے کہ کھانے پینے کی اشیا ء پر جی ایس ٹی کو لے کر اپوزیشن بھی حکومت کی تنقید کر رہی ہے اور حکومت کو پارلیمنٹ اور باہر دونوں جگہ گھیر رہی ہے۔ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے اس معاملہ پر حکومت کے فیصلہ کا دفاع کیا ہے تاہم کانگریس ان کے دعووں کا پردہ فاش کر رہی ہے۔



