پردہ عورت کو تقدس ہی نہیں تحفظ بھی عطا کر تا ہے
اسلام بے پردگی اور بے حیائی کو جہالت قرار دیتا ہے خواہ عورت کتنی بھی پڑھی لکھی ہو اور معاشی میدان میں کتنے ہی اونچے منصب پر ہو
صوفیہ یاسین …ہوڑہ ، مغربی بنگال
میری پیاری بہنو! کیا آپ جانتی ہیں کہ پر دہ کر نے کا حکم کون دے رہا ہے ۔ وہ اللہ تعالیٰ کی مقدس ذات ہے جس نے ساری کائنات کو پیدا کیا وہ آپ کو حکم دے رہا ہے ۔ اے نبی ! اپنی بیبیوں سے ، اپنی بیٹیوں سے اور مسلمان عورتوں سے کہہ دیں کہ وہ اپنے اوپر چادریں لٹکا لیا کریں ۔ اس سے بہت جلد ان کی شناخت ہو جا ئے گی اور پھر نہ ستائی جائینگی، اللہ تعالیٰ بخشنے والا بڑا مہربان ہے ۔ یاد رکھو!پر دہ عورت کو تقدس ہی نہیں تحفظ بھی عطا کر تا ہے ۔ پر دہ ایک مسلمان عورت کے لئے ایمان کے بعد خوبصورت تر ین تحفہ ہے ، جو معاشرے سے بے حیائی کی جڑکاٹ کر اس کی نسلوں کو پا کیزہ ماحول مہیا کر تا ہے ۔
شرم و حیا عورت کا سب سے بڑا زیور ہے اور اس قیمتی زیور کی حفاظت پردے کے بغیر ممکن نہیں ۔ لہذا پر دہ کر نا اللہ کا حکم ماننا ہے تو کیا آپ اللہ کا حکم ماننے کو تیار نہیں ؟میری بہنو! یہ تو مخالفین پر دہ کا کہنا ہے کہ شرم و حیا تو دل میں ہو تی ہے ، آنکھوں کی پاکیزگی کے لئے پر دہ کیا ضروری ہے ۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ پر دہ کی وجہہ سے ہماری آدھی آبادی گھروں میں محصور ہو جا ئے گی ، جب کہ عورت کا کسب معاش کر نا وقت کا تقاضا ہے ۔ تو معاملہ یہ ہے کہ آپریشن یا سر جری جیسے نازک کام کو جب سر اور منہ ڈھانپ کے کیا جا سکتا ہے تو معاش کے لئے حسب ضرورت پردہ کیوں نہیں کیا جا سکتا ۔
اسلام بے پردگی اور بے حیائی کو جہالت قرار دیتا ہے خواہ عورت کتنی بھی پڑھی لکھی ہو اور معاشی میدان میں کتنے ہی اونچے منصب پر ہو۔ یہی وجہہ ہے کہ بعض باپر دہ عورت بلا ضرورت گھر سے باہر نکلنے سے گریز کر تی ہے، اس طرح وہ اپنے گھریلوں فرائض کے لئے زیادہ وقت نکال سکتی ہے ۔ یہی وہ عمل ہے جس کو اللہ کے نبی ﷺ نے عورتوں کا جہاد کہا ہے ۔ اور بعض ایسی عورتیں ہیں جو بے پر دہ سیر تفریح کے لئے گھر سے نکلنا ضروری سمجھتی ہیں ، ایسی عورتوں پر لعنت کی گئی ہے جو لباس پہن کر بھی ننگی رہتی ہیں اور نبی پاک ﷺ کے فرمان کے مطابق وہ جنت کی خوشبو تک نہ پا سکیگی ۔ اس لئے بہتر ہے کہ آپ اپنے لئے ایسا لباس اختیار کر یں، جس میں یہ چند شرائط پا ئی جا تیں ۔ لباس مردوں سے کشادہ ہو تنگ نہ ہو، جس سے جسم کے حصے واضح ہو ں ، کافر عورتوں کے لباس سے مشابہت نہ رکھتا ہو ، باریک نہ ہو ، لباس خوب زینت والا نہ ہوں ، لباس خوشبودار اور معطر نہ ہو ۔ آخر میں حضرت عائشہ ؓ کی ایک حدیث پیش کر تے ہو ئے اپنی بات ختم کرتی ہوں کہ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ فرماتی ہیں کہ میرے جس گھر میں رسولﷺ اور میرے والد کی تدفین ہو ئی تھی جب میں اُس میں داخل ہو تی تھی تو اپنی چادر اُتار دیتی تھی ۔
وہ کہتی ہیں کہ ایک میرے والد محترم ہیں اور ایک میرے شوہر انعا مدار لیکن جب وہاں حضرت عمر ؒ کودفن کیا گیا تو قسم اللہ کی میں جب بھی داخل ہو تی تو اپنے کپڑے کو اچھی طرح درست کر لیتی کیونکہ مجھے حیا آتی تھی ۔ اب میری بہنو! تم خود ہی فیصلہ کرو کہ جب عائشہ صدیقہ ؓ وفات پائے لوگوں سے پر دہ اور حیا کر تی تھیں تو کیا آپ ان کی اقتدا نہیں کرینگی ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کوپر دہ کر نے کی توفیق دے.آمین۔



