دلچسپ خبریںسرورق

The Floating City of Venice – حیران کن تعمیری راز

کیچڑ، پانی اور لکڑی: قدیم فنِ تعمیر جس نے 1604 سال تک ایک شہر کو ڈوبنے سے بچا رکھا ہے

وینس: ایک تیرتا ہوا شہر یا انجینیئرنگ کا عجوبہ؟

جدید دور میں عمارتیں 50 سال کے عرصے کے لیے تعمیر کی جاتی ہیں۔ لیکن قدیم طرزِ تعمیر اور انجینیئرنگ میں لکڑی سے تعمیر ہونے والا ایک شہر 1600 سال گزرنے کے باوجود آج بھی پانی پر قائم و دائم ہے۔ وینس کا ہر رہائشی اور مقامی اس بات سے واقف ہے کہ یہ شہر ایک ایسے جنگل پر بنایا گیا ہے جو قدرتی جنگل سے قدرِ مختلف ہے۔ مارچ 2025 میں یہ شہر 1604 سال کا ہوگیا۔

یہ شہر لاکھوں درختوں کے تنوں کے ایک ڈھیر پر تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کام کے لیے استعمال کیے جانے والے درختوں میں لارچ یعنی صنوبر، اوک یعنی بلوط، الڈر یعنی بید، پائن یعنی دیودار، سپروس یعنی سفیدہ اور ایلم (ایلم نامی درخت جس کے پتے داندار اور کھردرے ہوتے ہیں) نامی درختوں کے 3.5 میٹر (11.5 فٹ) سے لے کر 1 میٹر (3 فٹ) سے بھی کم لمبائی کے تنوں کا استعمال کیا گیا ہے۔

یہ طبیعیات اور فطرت کی قوتوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انجینیئرنگ کا ایک حقیقی عجوبہ ہے۔ زیادہ تر جدید تعمیراتی ڈھانچوں میں مضبوط کنکریٹ اور سٹیل وہی کام کرتے ہیں جو صدیوں پہلے استعمال کیے جانے والی درختوں کے تنے کر رہے ہیں۔ لیکن ان کی طاقت کے باوجود آج بہت کم بنیادیں وینس کی طرح طویل عرصے تک قائم رہ سکتی ہیں۔

سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ کی ای ٹی ایچ یونیورسٹی میں جیو میکانکس اور جیو سسٹمز انجینیئرنگ کے پروفیسر الیگزینڈر پوزرین کہتے ہیں کہ کنکریٹ یا سٹیل کے تعمیراتی ڈھانچے آج 50 سال تک قائم رہنے کی ضمانت کے ساتھ ڈیزائن کیے گئے ہیں۔ یقینا وہ لمبے عرصے تک قائم رہ سکتے ہیں لیکن جب ہم گھر اور صنعتی ڈھانچے تعمیر کرتے ہیں تو معیار زندگی 50 سال ہی ہوتا ہے۔

وینس کی تعمیر کی کہانی

صرف ایک بار اپنے کیریئر کے آغاز میں پوزرین کو اسرائیل میں بہائی مندر کی تعمیر کے لیے 500 سال کی ضمانت دینے کا کہا گیا۔ وہ اس بات کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں حیران رہ گیا کیوں کہ یہ غیر معمولی تھا۔ میں واقعی ڈر گیا تھا اور وہ چاہتے یہ تھے کہ میں اس بات کی ضمانت بھی دوں اور ایک تحریر پر دستخط بھی کروں کے واقعی یہ عمارت 500 سال تک قائم رہی گی۔

وہ بتاتے ہیں کہ میں نے تل ابیب میں اپنے باس، ایک نہایت تجربہ کار بزرگ انجینیئر کو بلایا اور میں نے کہا ہم کیا کرنے جا رہے ہیں؟ وہ 500 سال چاہتے ہیں۔ وہ میری بات سن کر حیران رہ گئے اور چونک کر بولے: 500 سال؟ اس کے بعد ان کا کہنا تھا کہ ہم میں سے کوئی بھی وہاں نہیں جائے گا۔

وینس کی صدیوں پرانی یہ حیرت انگیز طرزِ تعمیر بہت ہی دلچسپ ہے۔ کسی کو بھی اس بات کا یقین اور اندازہ تک نہیں ہے کہ اس شہر کے نیچے کتنے درختوں کے تنے موجود ہیں، لیکن اس بات کا علم ضرور ہے کہ وینس کے مشہورِ زمانہ ‘ریالٹو پل’ کی بنیادوں میں 14،000 انتہائی مضبوط درختوں کے تنہ موجود ہیں۔ اسی طرح سان مارکو بیسلیکا کے نیچے 10،000 اوک یعنی بلوط کے درخت کے تنے ہیں جو 832 عیسوی میں تعمیر کیا گیا تھا۔

یونیورسٹی آف وینس میں انوائرمینٹل کیمسٹری اور ثقافتی ورثے کی پروفیسر کیٹیرینا فرانسسکا ایزو کہتی ہیں کہ میں وینس میں پیدا ہوئی اور یہیں پرورش پائی۔ بڑے ہو کر یہاں رہنے والے ہر فرد کی طرح میں بھی یہ بات جانتی تھی کہ وینس کی انتہائی دلفریب اور دلکش عمارتوں کے نیچے کیڈور (وینس کے پہاڑی علاقہ) میں پائے جانے والے درختوں کے تنے موجود ہیں۔

لیکن مجھے جس بات کا علم نہیں تھا وہ یہ کہ ان درختوں کے تنوں کو شہر کے بسے سے پہلے یہاں تک کیسے پہنچایا گیا، ان کی گنتی کیسے کی گئی، اور انھیں کیچڑ والی اس زمین میں گاڑنے کے لیے کس چیز سے ضرب لگائی گئی۔ اور نہ ہی یہ حقیقت معلوم ہو سکی تھی کہ بتیپالی (لفظی طور پر ‘پائل ہٹرز’، یعنی درختوں کے تنوں کو ضرب لگانے والے مزدور) ایک بہت اہم پیشہ تھا۔ یہاں تک کہ اس کام کے دوران مزدور چند مخصوص گیت بھی باآوازِ بلند گاتے تھے۔

یہ بالکل ویسے ہی گیت ہوا کرتے تھے جیسے انڈیا کے پنجاب میں کسان گندم کی کٹائی کے دوران ڈھول کی تھاپ پر گایا کرتے ہیں۔

وینس کے بنیاد گزار مزدور: بتیپالی اور لکڑی کی انجینیئرنگ کا فن

بتیپالی (یعنی درختوں کے تنوں کو زمین میں گاڑنے کے لیے ضرب لگانے والے مزدور) اپنے ہاتھوں میں ہتھوڑے نما ایک اوزار کی مدد سے تنوں پر ضرب لگاتے اور یہ ضرب ایک ایسے انداز میں لگائی جاتی کہ ایک کے بعد ایک کی آواز آتی، اور یہ کسی دھن کی مانند محسوس ہوتی۔ اسی کے ساتھ وہ مزدور ایک قدیم گیت گاتے تھے، دل کو چھو لینے والی اس دھن میں وینس، اس کی جمہوری عظمت، اس کے کیتھولک عقیدے کی تعریف کی جاتی تھی، اور اُس وقت کے دشمن ترکوں کو ایک سخت پیغام دیا جاتا تھا۔

اتنا وقت گزر جانے کے باوجود اب بھی اسی گیت میں سے ایک جملہ استعمال کیا جاتا ہے، اور وینس کی ایک کہاوت میں کسی کو حسِ مزاح سے عاری کہنے کے لیے یہ کہا جاتا تھا کہ "اس کا سر اتنا سخت اور وہ اتنا کند ذہن ہے کہ اس سے درختوں کے تنے زمین میں دبائے جا سکتے ہیں۔”

درختوں کے یہ تنے اس قدر پانی کے نیچے کیچڑ والی زمین میں دھنسے ہوئے تھے کہ انھیں اس سے زیادہ نیچے زمین میں دھکیلنا ممکن نہیں تھا۔ تعمیراتی ڈھانچے کے بیرونی کنارے سے شروع ہو کر بنیادوں کے مرکز کی طرف بڑھتے ہوئے، عام طور پر پیچ دار شکل میں نو تنے فی مربع میٹر موجود ہوتے تھے۔ اس کے بعد سروں کو ایک باقاعدہ سطح حاصل کرنے کے لیے موڑا جاتا۔

زمین میں گاڑے جانے والے درختوں کے تنوں کے اوپر، انہی درختوں کی مدد سے حاصل کیے جانے والے تختے اور بیمز کا استعمال بھی کیا گیا۔ بیل ٹاورز کے معاملے میں 20 انچ موٹے تختے یا بورڈز کا استعمال کیا گیا تھا، جبکہ دیگر عمارتوں کے لیے استعمال ہونے والے یہ تختے 8 انچ یا اس سے بھی کم ہوتے تھے۔

اوک یعنی بلوط کے درخت نے سب سے زیادہ لچکدار لکڑی فراہم کی، لیکن یہ سب سے قیمتی بھی تھی۔ (بعد میں اوک کی لکڑی کا استعمال صرف بحری جہاز بنانے کے لیے مخصوص ہو گیا)۔ بلوط یا دیگر درختوں سے حاصل کی گئی لکڑی کی اس بنیاد کے اوپر، مزدور عمارت کی تعمیر کے لیے پتھر رکھتے تھے۔

جمہوریہ وینس نے جلد ہی اپنے جنگلات کی حفاظت شروع کر دی تاکہ تعمیر کے ساتھ ساتھ بحری جہازوں کے لیے بھی کافی لکڑی دستیاب ہو۔ اٹلی کی نیشنل کونسل فار ریسرچ کے انسٹی ٹیوٹ فار بائیو اکانومی کے ریسرچ ڈائریکٹر نکولا ماچیونی نے درختوں کی کاشت کے طریقہ کار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ "وینس نے سلوی کلچر ایجاد کیا”۔ (سلوی کلچر یعنی پودوں کی کاشت اور نگہداشت — تحفظِ جنگلات کی ایک شاخ، اور شجر کاری بھی)

ماچیونی کے مطابق تحفظ کے یہ طریقے تحریری شکل میں آنے سے کئی سال پہلے استعمال میں رہے ہوں گے۔ یہی وجہ ہے کہ وادی فیمی آج بھی ایک سرسبز جنگل سے ڈھکی ہوئی ہے۔ تاہم، انگلستان جیسے ممالک کو 16ویں صدی کے وسط تک لکڑی کی قلت کا سامنا تھا۔


منفرد فنِ تعمیر: وینس کو باقی شہروں سے الگ کیا بناتا ہے؟

وینس واحد شہر نہیں ہے جس کی بنیادوں کا انحصار لکڑی، یعنی درختوں کے تنوں پر ہے، لیکن چند اہم اختلافات اسے دیگر شہروں سے منفرد بناتے ہیں۔ ایمسٹرڈیم ایک اور شہر ہے جو جزوی طور پر درختوں کے تنوں پر تعمیر کیا گیا ہے۔ یہاں اور کئی شمالی یورپی شہروں میں بھی یہی طریقہ کار اپنایا گیا کہ لکڑی کے تنوں کو پانی کے اندر زمین کی تہہ تک پہنچایا جاتا ہے، جہاں وہ لمبے ستونوں یا لکڑی کے میز کی ٹانگوں کی طرح کام کرتے ہیں۔

مٹی، پانی اور فزکس: جدید انجینیئرنگ کی بنیادیں

یونیورسٹی آف الینوائے میں آرکیٹیکچر کے پروفیسر تھامس لیسلی کہتے ہیں کہ اگر چٹانی سطح قریب ہو تو یہ طریقہ کار مؤثر ہے، لیکن بہت سے علاقوں میں بنیادیں لکڑی کے تنے کی پہنچ سے باہر ہوتی ہیں۔ مثال کے طور پر، امریکہ میں جھیل مشی گن کے کنارے پر، پانی کے نیچے زمین کی سطح 100 فٹ گہری ہو سکتی ہے۔

لیسلی کہتے ہیں، "اتنے لمبے درخت تلاش کرنا مشکل ہے۔” 1880 کی دہائی میں شکاگو میں ایسی کوششیں ہوئیں کہ ایک درخت کے تنے کو دوسرے کے اوپر رکھا جائے، مگر یہ طریقہ ناکام رہا۔ آخرکار انجینیئرز نے مٹی کی رگڑ پر انحصار کیا — یعنی زیادہ سے زیادہ تنوں کو آپس میں چپکا کر، مٹی اور تنوں کے درمیان کافی رگڑ پیدا کی جائے۔

ہائیڈرواسٹک پریشر: فزکس کا کرشمہ

لیسلی وضاحت کرتے ہیں کہ اس کا تکنیکی نام ہائیڈرواسٹک پریشر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر بہت سے درختوں کے تنے ایک ساتھ مٹی میں دبائے جائیں، تو مٹی ان تنوں کو مضبوطی سے تھام لیتی ہے، یوں عمارتوں کو گرنے سے بچانے کے لیے مزاحمت فراہم کی جاتی ہے۔

یہ تکنیک کوئی نئی نہیں — پہلی صدی کے رومن انجینیئر ویٹرویئس نے بھی اس کا ذکر کیا تھا۔ رومی پلوں کی تعمیر کے لیے زیرِ آب لکڑی کے تنوں کا استعمال کرتے تھے۔ چین میں بند باندھنے کے لیے لکڑی کے دروازے استعمال ہوتے تھے، اور میکسیکو میں ایزٹیک لوگ بھی اسی طریقے سے شہر بناتے تھے، جب تک کہ ہسپانوی آکر انھیں گرا نہ دیا۔

وینس کی بنیادیں: وقت کی کسوٹی پر

ڈیڑھ ہزار سال کے بعد بھی وینس کی بنیادیں حیرت انگیز طور پر مضبوط اور لچکدار ثابت ہوئی ہیں۔ تاہم، وہ نقصان سے مکمل محفوظ نہیں رہیں۔ تقریباً دس سال قبل، پاڈووا اور وینس کی یونیورسٹیوں کی ایک ٹیم نے شہر کی بنیادوں کا جائزہ لیا۔ یہ تحقیق 1440 میں ایلڈر کے لکڑی کے تنوں پر تعمیر ہونے والے فریری چرچ کے بیل ٹاور سے شروع ہوئی۔

بیل ٹاور اپنی تعمیر کے بعد سے ہر سال 1 ملی میٹر (0.04 انچ) زمین میں دھنس رہا ہے، یعنی اب تک وہ تقریباً 60 سینٹی میٹر (24 انچ) تک نیچے جا چکا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بیل ٹاورز کا وزن گرجا گھروں اور دیگر عمارتوں سے زیادہ ہوتا ہے۔

وینس کے نیچے لکڑی کی دنیا: تحقیق کے چشم کُشا نتائج

کیٹیرینا فرانسسکا ایزو، جو اس تحقیق کا حصہ تھیں، نہروں، بیل ٹاورز، اور گرجا گھروں کے نیچے سے لکڑی کے نمونے اکٹھے کر رہی تھیں — اُس وقت جب نہروں کو خالی اور صاف کیا جا رہا تھا۔ اُن کا کہنا ہے کہ نہر کے نچلے حصے میں کام کرتے وقت اُنہیں خاص احتیاط برتنی پڑتی تھی۔

تحقیقی ٹیم نے دریافت کیا کہ اگرچہ لکڑی کو کچھ نقصان پہنچا تھا، لیکن اچھی خبر یہ تھی کہ پانی، کیچڑ اور لکڑی مل کر ایک دوسرے کو سہارا دے رہے تھے — اور یہی توازن وینس کی بقا کا راز ہے۔

پانی میں لکڑی کیوں نہیں گلتی؟ ایک عام غلط فہمی کی وضاحت

عام طور پر یہ تصور کیا جاتا ہے کہ لکڑی صرف آکسیجن کی موجودگی میں گلتی ہے، لیکن تحقیق اس خیال کو مسترد کرتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ لکڑی پر بغیر آکسیجن کے بھی بیکٹیریا حملہ کرتے ہیں، مگر ان کی کارروائی انتہائی سست ہوتی ہے، خاص طور پر پھپھوندی اور کیڑوں کے مقابلے میں جو آکسیجن کی موجودگی میں تیزی سے نقصان پہنچاتے ہیں۔

پانی اور کیچڑ کا کردار: لکڑی کی حفاظت کا قدرتی نظام

پانی ان خالی خلیات کو بھر دیتا ہے جو بیکٹیریا کی کارروائی سے خالی ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں لکڑی اپنی شکل اور ساخت برقرار رکھتی ہے۔ اس طرح، اگرچہ وقت کے ساتھ کچھ نقصان ہو بھی جائے، لیکن لکڑی، پانی، اور کیچڑ کا یہ باہمی نظام صدیوں تک مضبوطی سے قائم رہ سکتا ہے — حتیٰ کہ دباؤ میں بھی۔

فکر کی بات ہے؟ ہاں اور نہیں

ماہر ایزو کا کہنا ہے، "کیا یہ باعثِ فکر ہے؟ ہاں اور نہیں۔” دس سال قبل کے نمونے لینے کے بعد دوبارہ تجزیہ ممکن نہیں ہوا، بنیادی وجہ لاجسٹک مسائل تھے۔ لیکن تحقیق جاری رکھنے کی ضرورت کو وہ زور دے کر بیان کرتے ہیں۔

یہ نظام کب تک چلے گا؟ تین عناصر کی ہم آہنگی شرط ہے

ماہر میکیونی کے مطابق، یہ کہنا مشکل ہے کہ یہ بنیادیں مزید کتنے سو سال چلیں گی۔ مگر جب تک ماحول موجودہ جیسا رہے گا، تب تک یہ نظام کام کرے گا۔
یہ نظام تین عناصر پر منحصر ہے:

  1. لکڑی – جو رگڑ فراہم کرتی ہے

  2. پانی – جو خلیات کی ساخت کو محفوظ رکھتا ہے

  3. مٹی – جو آکسیجن سے پاک ماحول فراہم کرتی ہے

اگر ان میں سے کوئی ایک عنصر بھی متاثر ہو جائے، تو پورا نظام تباہ ہو سکتا ہے۔


جدید دور میں لکڑی کا دوبارہ احیاء

انیسویں اور بیسویں صدی میں سیمنٹ نے لکڑی کی جگہ لے لی۔ لیکن حالیہ برسوں میں لکڑی کو دوبارہ تعمیراتی مواد کے طور پر اہمیت حاصل ہو رہی ہے۔ خاص طور پر فلک بوس عمارتوں میں اس کا استعمال بڑھا ہے۔

پروفیسر تھامس لیسلی کا کہنا ہے، "لکڑی ایک شاندار مواد ہے، نہ صرف بائیوڈیگریڈایبل ہے بلکہ یہ کاربن سنک بھی ہے، اور زلزلہ مزاحمت میں بھی بہترین ہے۔”

کیا ہم دوبارہ شہروں کو لکڑی پر بنا سکتے ہیں؟

میکیونی کہتے ہیں کہ آج کل کے حالات میں مکمل شہروں کو لکڑی پر بنانا ممکن نہیں، کیونکہ آبادی بہت زیادہ ہو چکی ہے۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ پرانے معمار مشینی سہولتوں کے بغیر بھی بہت ذہین اور ماہر تھے۔ ان کے کام آج بھی حیران کن ہیں۔


وینس: ایک زندہ معجزہ

پوزرین کے الفاظ میں:

"وینس دنیا کا واحد شہر ہے جو لکڑی کی بنیادوں پر آج بھی قائم ہے – اور وہ بھی بے مثال خوبصورتی کے ساتھ۔”

ان قدیم معماروں نے، بغیر کسی جدید تعلیم یا ٹیکنالوجی کے، مٹی کے میکانکس اور جیو ٹیکنیکل انجینیئرنگ کو اپنی فطری سمجھ بوجھ سے اپنایا۔ ان کا علم فطرت سے جڑا ہوا تھا، اور یہی وجہ ہے کہ ان کے بنائے ہوئے نظام آج بھی قائم ہیں۔


🌍 تازہ ترین خبریں، اپڈیٹس اور دلچسپ معلومات حاصل کریں!

🔗 اردو دنیا نیوز واٹس ایپ گروپ

متعلقہ خبریں

Back to top button