ساتویں جماعت کے کوئسچن بینک میں سنگین غلطی، مسلمانوں کی دلآزاری
حیدرآباد 6 جنوری:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)تلنگانہ کے اسکولی نصاب کے ذریعہ مسلمانوں کی دلآزاری معمول بن گئی ہے۔ ماضی میں ایسے بہت سارے واقعات پیش آئے ہیں جس سے نہ صرف مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں بلکہ ریاستی حکومت کے شبیہہ بھی شدید متاثر ہوئی ہے-
مگر اب جبکہ تلنگانہ کو ملک کی سب سے سیکولر ریاست کادرجہ حاصل ہونے کا سرکاری نمائندوں کی جانب سے دعویٰ کیاجارہا ہے اور حکومت تلنگانہ کے ذمہ داران فرقہ پرستی او رفرقہ پرست طاقتوں کو سختی کے ساتھ کچلنے کے بلند بانگ دعویٰ کررہے ہیں مگر دوسری جانب آئے دن یوپی ایس سی سے لیکر اسکولی نصاب میں مسلمانوں کی دلآزاری اور فرقہ پرستی پر مشتمل مواد منظرعام پر آرہا ہے۔
بارہا حکومت اور محکمہ تعلیم کے ذمہ داران کی اس جانب توجہ مبذول کروانے کے باوجود اس طرح کی غلطیوں کا منظرعام پر آنا حکومت تلنگانہ کے سکیولرازم کے دعوئوں پر شک و شبہات میں اضافہ کا سبب بن رہا ہے۔ اسکولی نصاب میں کلاس ہفتم (ساتویں) کے مضمون سماجی علم کے ایک کوسچین بینک میں تمام مذاہب کے تہواروں اور عیدوں کی تفصیلات سے متعلق سوال کے جواب میں جو فاش غلطی کی گئی ہے وہ نہ صرف قابل مذمت ہے بلکہ اس سے ریاست تلنگانہ کے مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچے گی۔
حالانکہ اس کوئسچن بینک میں صفحہ اول پر تحریر ہے کہ اس کی تیاری نئی نظرثانی شدہ نصابی کتاب کے مطابق کی گئی ہے۔ سماجی علم کے اس پرچہ سوالات میں تمام مذاہب کی عید وتہواروں اور ان کے متعلقہ بھگوانوں کی تفصیلات درج کی گئی ہے مگر اس میں مذہب اسلام کے زمرے میں جہاں پر عیدوں کے متعلق رمضان ‘ بقرعید تحریر کیا گیا ہے ۔
وہیں ‘ گاڈ ( بھگوان) کے خانہ میں پیغمبراسلامﷺ کا نام تحریر کیا گیا ہے حالانکہ مسلمان رب کائنات کی عبادت کرتے ہیں اور پیغمبر اسلام محمد مصطفیٰ صلی اللہ وعلیہ سلم کو خاتم النبین ؐ مانتے ہیں اس کے باوجود مسلمانوں کے پیغمبراسلام کا نام اس کالم میں تحریر کیا گیا ہے۔
وی جے ایس نامی ادارے کی جانب سے اس کو شائع کیاگیا ہے جس کو برلینٹ سریز کہا جارہا ہے۔ اس سے قبل بھی روزنامہ سیاست میں یوپی ایس سی کے نصاب میں مسلمانوں کی دلآزاری کو منظرعام پر لاتے ہوئے حکومت کے ذمہ داران کو چوکنا کیاگیاتھا ۔
اس کے بعد ایسی فاش غلطی رونما ہونا یا تو اسکولی نصاب تیار کرنے والوں کی اسلام کے متعلق عدم معلومات کا نتیجہ ہے یا پھر جان بوجھ کر مسلمانوں کی دلآزاری کرتے ہوئے ریاست تلنگانہ کے پرامن ماحول کو مکدر کرنے کی سازش کا حصہ ہے۔ حکومت کو چاہئے کہ ایسی فاش غلطیوں کے تدارک کے لئے یا تو مذہبی علمائوں یا دانشوروں سے رائے حاصل کریں یا پھر ایک مذہبی علمائوں او ردانشوروں پر مشتمل ایک کمیٹی کی تشکیل عمل میں لائیں جو اسکولی نصاب کی نگرانی کرے۔
اس کمیٹی میں تمام مذہب کے مذہبی قائدین اور دانشوروں کو شامل کیاجانا چاہئے تاکہ کسی بھی مذہب کی دلآزاری نہیں ہوسکے۔ اگر بچپن سے ہی طلبہ کو مذہب اسلام کے متعلق گمراہ کن باتیں بتائی جائیں تو یقینا ان بچوں کے ذہنوں میں پختگی پیدا ہونے کے بعد اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بدگمانیاں ہی پیدا ہوں گی جو ایک سکیولر ریاست کی تشکیل میں بہت بڑا رخنہ ثابت ہوگا۔
حکومت بالخصوص ریاستی محکمہ تعلیم کوچاہئے کہ وہ اس طرح کے نصاب کو نہ صرف ہٹائے بلکہ ایسا تعلیمی نصاب تیار کرنے والوں کے اشاعت کے حقوق چھین لیں تاکہ ریاست مستقبل میں کوئی بھی اس طرح کی دانستہ یا غیر دانستہ غلطی کرنے سے باز رہے۔



