
اندور، 04 جولائی:(اردودنیا.اِن/ایجنسیاں)مدھیہ پردیش کے ضلع دھار کے ٹانڈا تھانہ علاقے میں لڑکی کے ساتھ وحشیانہ طریقے سے کئی نوجوانوں کے ذریعہ عوامی مقام پر مار پیٹ اور جارحانہ انداز میں سزا دینے کی ایک #ویڈیو #سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اس شرمناک معاملے نے طول پکڑلیا ہے۔اندور ڈویژن کے تحت ضلع دھار کے پیپلوا گاؤں کی یہ ویڈیو بتائی گئی ہے۔
تقریباً 43 سیکنڈ کے ویڈیو میں تین چار نوجوان ایک #لڑکی کو بال پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے، لات، گھونسوں اور لاٹھیوں سے مارتے ہوئے دیکھے جارہے ہیں۔ اس #شرمناک #واقعہ کے ویڈیو میں رحم کی بھیک مانگ رہی اس لڑکی کو بچانے کوئی نہیں آیا، جبکہ درجنوں نوجوان آس پاس کھڑے دکھائی دیتے ہیں۔
اورتواور کچھ دوسرے لوگ اس کا ویڈیو بناتے رہے۔ نوجوان زمین پر گرگئی لڑکی کے ساتھ بھی وحشیانہ سلوک کرتے رہے۔اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد آج پولیس انتظامیہ بھی سرگرم دکھائی دی اور وضاحت دینا شروع کردی۔ ٹانڈلہ پولیس اسٹیشن کے انچارج وجے واسکلے نے بتایا کہ یہ واقعہ 22 جون کو پیش آیا تھا اور اس کاشکار دولڑکیاں ہوئیں۔
انہوں نے ازخود اس کانوٹس لیا تھا اور 25 جون کو پولیس گاوں میں بھی گئی اور اس واقعہ کی شکاردونوں خوفزدہ اورسہمی لڑکیوں کو تھانے لایا گیا اور ان سے تفتیش کی بنیادپر ایک خاتون سمیت سات افراد کو ملزم بنایا گیا۔ تمام ملزم اہل خانہ اوررشتے دار بتایے گئے ہیں۔ تمام کے خلاف مارپیٹ اوردیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔
چونکہ یہ دفعات قابل ضمانت تھیں لہذا سب کو ضمانت بھی دے دی گئی۔ بتایا گیا ہے کہ دونوں لڑکیاں فون پر کچھ لڑکوں سے بات کرتی تھیں، اس لئے ان کے اہل خانہ اوررشتہ داروں نے لڑکیوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرکے واقعہ کو انجام دیاادھر اس شرمناک واقعہ سے متعلق ویڈیوز کل سے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئے اور اس نے ایک بار پھرطول پکڑ لیا۔
اس کے علاوہ حال ہی میں ریاست کے مغربی حصے کے ایک اور قبائلی اکثریتی علاقے علیراج پور ضلع کے بوری تھانہ علاقے میں بھی ایسا ہی واقعہ سامنے آیا تھا۔ فٹ تالاب گاوں میں ہوئی اس واردات کا ویڈیو دوجولائی کو وائرل ہواتھا۔ اس ویڈیو میں بھی کچھ مرد ایک لڑکی کے ساتھ بے رحمی سے زمین پرمارپیٹ کرتے ہوئے نظرآئے تھے۔ اس کے بعد ملزموں نے لڑکی کو رسی سے باندھ کر درخت پر لٹکایا اور پھر اسے لاٹھیوں سے پیٹاگیا۔
یکم جولائی کے بتائے گئے اس واقعہ کے بعد پولیس کو اطلاع ملی اورملزمان کے طورپر لڑکی کا والد اورتین قریبی رشتے داروں کی شناخت ہوئی۔ اس بہیمانہ واقعے کے بھی درجنوں چشم دید گواہ تھے، لیکن کسی نے بھی بچی کو نہیں بچایا اور اسے مارکرنیم کردہ کردیا گیا۔
ضلع علیراج پور کے واقعے میں بھی پولیس نے چاروں ملزمان کے خلاف مارپیٹ اور دیگر دفعات کا مقدمہ درج کرلیا۔ یہ بھی قابل ضمانت تھے اور ان چاروں کو ضمانت کا فائدہ دینے کے بعد رہا کردیا گیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ لڑکی اہل خانہ کو بتائے بغیر کہیں چلی گئی تھی، اس لئے اس کے ساتھ اس طرح کے واقعے کو انجام دیا گیا تھا۔



